تیرے آنے کی خوشی میں ہم نے خوابوں کے دیئے جلائے،
مگر تیرے جانے کا تو کبھی سوچا ہی نہ تھا!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ،
احبابِ محفلِ مشاعرہ!
امید ہے آپ سب خیر و عافیت سے ہوں گے۔
آج ہم ایک ایسی حقیقت پر بات کریں گے جو ہر دل کو چیرتی ہے۔
زندگی کی سب سے بڑی، یا یوں کہوں سب سے کڑوی حقیقت — جدائی۔
آئے دن کوئی اپنا ہمیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے،
ہم بے بس نگاہوں سے اسے جاتا ہوا دیکھتے ہیں،
نہ روک سکتے ہیں، نہ روک پاتے ہیں۔
جو آتا ہے، ایک دن ضرور چلا جاتا ہے…
مگر دل کا کیا قصور؟
یہ تو محبت کر بیٹھتا ہے اور پھر سو میں بھی تنہا رہ جاتا ہے۔
آپ ہی بتائیں، دل تو بچہ ہے نا جی؟
میں وہ سوہنی نہیں
جس کے گھڑے میں معمولی سا سوراخ ہو،
میں تو وہ ہوں
جس کا گھڑا مکمل ٹوٹ کر
پانی کی ہر لہر میں
اپنا وجود ہار چکا ہے۔
اور تُو…
وہ ماہیوال نہیں
جو محبت کے جنون میں
دریا کی موجوں سے جنگ کرے،
تُو تو وہ ہے
جو کنارے کھڑا میرے بکھرنے کو
خاموش آنکھوں سے دیکھتا رہے گا،
مگر بچانے کے لیے
کبھی پانی میں قدم نہیں رکھے گا۔
خدا کرے میرے حافظے سے مٹ جائیں
تیرے نقوش، وہ ایک شام اور تیری آواز،
مگر یہ کیسے ہو؟
یہی نقوش کبھی زندہ رہنے کا سبب بھی بن جاتے ہیں،
اور ہم ان زخموں کو کھرید کھرید کر ہرا کرتے رہتے ہیں
تاکہ یادیں تازہ رہیں۔
کاش انسان کوئی ایسی ایجاد کر لے
کہ ایک محسوس کرے
اور دوسرا یاد کرے تو دل خبر پا لے۔
ہم نے کشتی جلا دی کہ واپسی نہ ہو سکے،
مگر تم بھی ہجر میں جلتے ہو رات دن
اور ہمیں بھی تنہا کر دیا، کتنا بُرا کیا۔
منہ پھیر لیا، بات نہ کی، رخصت ہو گئے…
میں ایسی مُدارات کے قابل تو نہیں تھا،
ایک جھٹکا کافی تھا،
تم نے جھٹکے پر جھٹکے دیے۔
اس بار تو چرچے بھی تعلق کے بہت ہیں،
اس بار بچھڑنا بھی سلیقے سے پڑے گا۔
کچھ تو میرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ،
تو بھی تو کبھی مجھے منانے کے لیے آ۔
مثلِ شیشہ ہیں ہم،
ہمیں تھام کے رکھنا محسن،
ہم تیرے ہاتھ سے چھوٹے تو بکھر جائیں گے۔
ہزار رشتوں میں تم سے جڑا ہوا ہوں میں،
کہاں کہاں سے الگ کر سکو گے؟
وہ جسے محبتیں میسر ہیں جہاں بھر کی،
وہ بچھڑنے کا دکھ کیا سمجھے گا؟
اجنبی اجنبی سے چہرے،
خواب خیمے رواں دواں سے،
ابھی بھی یہ سب مناظر نظروں میں دھواں دھواں ہیں۔
کاش ایک تصویر بن جائے
جس میں دھواں ہوتا ہوا منظر دکھائی دے،
اور اس دھوئیں میں ان سب کے نام لکھے ہوں
جو جلتے ہوئے دل کے پاس سے گزر گئے۔
ملنا تھا اتفاق، بچھڑنا نصیب تھا،
وہ اتنی دور ہو گیا جتنا کبھی قریب تھا۔
ہم بہت خاموش ہو کر تمہیں دیکھتے رہے،
وہ کہتے ہیں نا عبادت میں بولا نہیں جاتا۔
نہ کوئی حرف ملا نہ الوداع کہہ پائے،
وہ وقت کی قید میں جانے کب روانہ ہوا،
نظریں بچھا کر دروازے پر کھڑی رہ گئیں،
دل نے روکا بہت مگر خواب ہار گیا۔
جانے والے ہوتے نہیں جان سے جانے والے،
ان کی یادوں سے بہل لیتی ہے ویرانی دل کی۔
چھوڑ جائے گا مرے جسم میں بکھرا کے مجھے،
وقتِ رخصت بھی وہ اک شام سہانی دے گا۔
ممکن نہیں کہ ساتھ نبھائیں تمام عمر،
ممکن بھی کس طرح ہو کہ دونوں ذہین ہیں۔
میں ان دنوں بہت مسائل میں گھری ہوں،
تُو نے بچھڑنا ہے تو یہ دن بہترین ہیں۔
خدا نہ کرے کوئی یوں بچھڑے،
وقت کی گھڑی پوچھ کر نہیں آتی۔
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں،
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں،
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی،
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں۔
---
یہ اب مکمل ادبی و مشاعرانہ تحریر ہے،
جس میں ہر لائن پڑھنے والے کو اپنی کیفیت یاد دلا سکتی ہے۔
محمد یاسر اشرف خان
No comments:
Post a Comment