Khan Mohammed Yasar
Friday, October 3, 2025
اکیلا پن
" ایک وہ بھی وقت تھا کہ ؛ جب تُمہارے لِیے بس ایک میں ہی ضروری ہُوا کرتی تھی ، ایسا لگتا تھا جیسے میری دُنیا تُم پر ختم اور تُمہاری مُجھ پر ، پھر دھیرے دھیرے وقت گُزرا ، تُمہارا تجسس ختم ہُوا ، ہمارے مابین رشتے کی کشش گئی تو تُم اجنبی بننے لگے ، وقت گُزرتا رہا مگر دِل کی دُنیا میں آتے زبردست قسم کے زلزلوں نے کوئی چیز اپنی جگہ پر نہ رہنے دی ، بچا تو بس ایک وہی " بلیک باکس " جو سب کُچھ ختم ہو جانے کے بعد بھی باقی رہا ، جب اُس " بلیک باکس " کو دِماغ کی طرف بھیجا گیا تو وہاں ثابت ہُوا کہ ؛ مُجھ میں تُمہاری مُحبت کے علاوہ اب کُچھ بھی نہیں رہا ، لیکن پھر میں نے دیکھا کہ ؛ تُمہاری بے رُخی ، لا پرواہی اور بے اعنائی کی وجہ سے چیزیں مایوسی سے نِڈھال ہو کر اپنے معمول پر لوٹنے لگی ہیں ، اب میرے WhatsApp کی Chat liSt میں تُمہارا نام بُہت نیچے چلا گیا ہے ، اور Key bOard میں تُمہارے نام کا پہلا حرف لِکھنے پر موبائل پُورا نام SuggeSt نہیں کرتا ، FaCebOoK کی SearCh liSt میں بھی تُمہارا نام نیچے جاتے جاتے کہیں غائب ہوگیا ہے ، اب تُمہاری dP کے ساتھ Active Now کا وہ سبز نِشان دیکھ کر میرے دِماغ کے NeurOnS میرے ہاتھوں کو پیغام نہیں بھیجتے کہ ؛ تُمہارے InbOx میں MessaGeS کے انبار لگا دوں ، تُمہارا نام سُن کر میری دھڑکنوں میں ادھم ضرور مچتا ہے مگر اب میں کِسی حد تک خود کو سمبھالنا سیکھ چُکی ہُوں ، زمانہ گُزرا اب تو وہ تُمہاری پیار بھری باتیں سُنے ، تُمہاری لڑائی کے بعد خود ہی منانے کی وہ عادت یاد کِیے آج بھی مُسکرا دیتی ہُوں ، تُمہارا میرے لِیے حساس پن آج بھی آنکھوں کی نمی کا سبب بن جاتا ہے ، رات کے کِسی پہر جب دِل و دِماغ کی جنگ سے تنگ آ کر موبائل لِیے تُمہارا نمبر مِلانے لگتی ہُوں تو آنکھوں کے پردے پر چھم سے تُمہارا سراپا لہرا جاتا ہے ، مگر اب کی بار اکیلے نہیں ، تُمہاری شریکِ حیات کے ساتھ ، اور یہی لمحہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب چہرہ ہاتھوں میں چُھپائے پُھوٹ پُھوٹ کر رونے لگ جاتی ہُوں ، سارے دِن کی اداکاری ضایع جاتے دیکھ دِل سمبھالے نہیں سمبھلتا ، یُوں ہی شب گُزرتی ہے اور ایک نیا دِن ایک نئی اداکاری کے ساتھ گُزارنے کا عزم لِیے اپنی غم کی دُنیا سے باہر آ جاتی ہُوں ، اور پھر حقیقیت ہے کہ ؛ صبر کرنے کا کہنا جِتنا آسان ہے ، صبر کرنا اُتنا ہی مُشکل! ۔ " 💔🙂
Monday, September 29, 2025
🌸 محفلِ مشاعرہ – آج کا عنوان: ہماری زندگی کی سب سے بڑی حقیقت 🌸
تیرے آنے کی خوشی میں ہم نے خوابوں کے دیئے جلائے،
مگر تیرے جانے کا تو کبھی سوچا ہی نہ تھا!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ،
احبابِ محفلِ مشاعرہ!
امید ہے آپ سب خیر و عافیت سے ہوں گے۔
آج ہم ایک ایسی حقیقت پر بات کریں گے جو ہر دل کو چیرتی ہے۔
زندگی کی سب سے بڑی، یا یوں کہوں سب سے کڑوی حقیقت — جدائی۔
آئے دن کوئی اپنا ہمیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے،
ہم بے بس نگاہوں سے اسے جاتا ہوا دیکھتے ہیں،
نہ روک سکتے ہیں، نہ روک پاتے ہیں۔
جو آتا ہے، ایک دن ضرور چلا جاتا ہے…
مگر دل کا کیا قصور؟
یہ تو محبت کر بیٹھتا ہے اور پھر سو میں بھی تنہا رہ جاتا ہے۔
آپ ہی بتائیں، دل تو بچہ ہے نا جی؟
میں وہ سوہنی نہیں
جس کے گھڑے میں معمولی سا سوراخ ہو،
میں تو وہ ہوں
جس کا گھڑا مکمل ٹوٹ کر
پانی کی ہر لہر میں
اپنا وجود ہار چکا ہے۔
اور تُو…
وہ ماہیوال نہیں
جو محبت کے جنون میں
دریا کی موجوں سے جنگ کرے،
تُو تو وہ ہے
جو کنارے کھڑا میرے بکھرنے کو
خاموش آنکھوں سے دیکھتا رہے گا،
مگر بچانے کے لیے
کبھی پانی میں قدم نہیں رکھے گا۔
خدا کرے میرے حافظے سے مٹ جائیں
تیرے نقوش، وہ ایک شام اور تیری آواز،
مگر یہ کیسے ہو؟
یہی نقوش کبھی زندہ رہنے کا سبب بھی بن جاتے ہیں،
اور ہم ان زخموں کو کھرید کھرید کر ہرا کرتے رہتے ہیں
تاکہ یادیں تازہ رہیں۔
کاش انسان کوئی ایسی ایجاد کر لے
کہ ایک محسوس کرے
اور دوسرا یاد کرے تو دل خبر پا لے۔
ہم نے کشتی جلا دی کہ واپسی نہ ہو سکے،
مگر تم بھی ہجر میں جلتے ہو رات دن
اور ہمیں بھی تنہا کر دیا، کتنا بُرا کیا۔
منہ پھیر لیا، بات نہ کی، رخصت ہو گئے…
میں ایسی مُدارات کے قابل تو نہیں تھا،
ایک جھٹکا کافی تھا،
تم نے جھٹکے پر جھٹکے دیے۔
اس بار تو چرچے بھی تعلق کے بہت ہیں،
اس بار بچھڑنا بھی سلیقے سے پڑے گا۔
کچھ تو میرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ،
تو بھی تو کبھی مجھے منانے کے لیے آ۔
مثلِ شیشہ ہیں ہم،
ہمیں تھام کے رکھنا محسن،
ہم تیرے ہاتھ سے چھوٹے تو بکھر جائیں گے۔
ہزار رشتوں میں تم سے جڑا ہوا ہوں میں،
کہاں کہاں سے الگ کر سکو گے؟
وہ جسے محبتیں میسر ہیں جہاں بھر کی،
وہ بچھڑنے کا دکھ کیا سمجھے گا؟
اجنبی اجنبی سے چہرے،
خواب خیمے رواں دواں سے،
ابھی بھی یہ سب مناظر نظروں میں دھواں دھواں ہیں۔
کاش ایک تصویر بن جائے
جس میں دھواں ہوتا ہوا منظر دکھائی دے،
اور اس دھوئیں میں ان سب کے نام لکھے ہوں
جو جلتے ہوئے دل کے پاس سے گزر گئے۔
ملنا تھا اتفاق، بچھڑنا نصیب تھا،
وہ اتنی دور ہو گیا جتنا کبھی قریب تھا۔
ہم بہت خاموش ہو کر تمہیں دیکھتے رہے،
وہ کہتے ہیں نا عبادت میں بولا نہیں جاتا۔
نہ کوئی حرف ملا نہ الوداع کہہ پائے،
وہ وقت کی قید میں جانے کب روانہ ہوا،
نظریں بچھا کر دروازے پر کھڑی رہ گئیں،
دل نے روکا بہت مگر خواب ہار گیا۔
جانے والے ہوتے نہیں جان سے جانے والے،
ان کی یادوں سے بہل لیتی ہے ویرانی دل کی۔
چھوڑ جائے گا مرے جسم میں بکھرا کے مجھے،
وقتِ رخصت بھی وہ اک شام سہانی دے گا۔
ممکن نہیں کہ ساتھ نبھائیں تمام عمر،
ممکن بھی کس طرح ہو کہ دونوں ذہین ہیں۔
میں ان دنوں بہت مسائل میں گھری ہوں،
تُو نے بچھڑنا ہے تو یہ دن بہترین ہیں۔
خدا نہ کرے کوئی یوں بچھڑے،
وقت کی گھڑی پوچھ کر نہیں آتی۔
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں،
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں،
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی،
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں۔
---
یہ اب مکمل ادبی و مشاعرانہ تحریر ہے،
جس میں ہر لائن پڑھنے والے کو اپنی کیفیت یاد دلا سکتی ہے۔
محمد یاسر اشرف خان
Sunday, September 28, 2025
🌸 محفلِ مشاعرہ – آج کا عنوان: ہماری زندگی کی سب سے بڑی حقیقت 🌸
تیرے آنے کی خوشی میں ہم نے خوابوں کے دیئے جلائے،
مگر تیرے جانے کا تو کبھی سوچا ہی نہ تھا!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ،
احبابِ محفلِ مشاعرہ!
امید ہے آپ سب خیر و عافیت سے ہوں گے۔
آج ہم ایک ایسی حقیقت پر بات کریں گے جو ہر دل کو چیرتی ہے۔
زندگی کی سب سے بڑی، یا یوں کہوں سب سے کڑوی حقیقت — جدائی۔
آئے دن کوئی اپنا ہمیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے،
ہم بے بس نگاہوں سے اسے جاتا ہوا دیکھتے ہیں،
نہ روک سکتے ہیں، نہ روک پاتے ہیں۔
جو آتا ہے، ایک دن ضرور چلا جاتا ہے…
مگر دل کا کیا قصور؟
یہ تو محبت کر بیٹھتا ہے اور پھر سو میں بھی تنہا رہ جاتا ہے۔
آپ ہی بتائیں، دل تو بچہ ہے نا جی؟
میں وہ سوہنی نہیں
جس کے گھڑے میں معمولی سا سوراخ ہو،
میں تو وہ ہوں
جس کا گھڑا مکمل ٹوٹ کر
پانی کی ہر لہر میں
اپنا وجود ہار چکا ہے۔
اور تُو…
وہ ماہیوال نہیں
جو محبت کے جنون میں
دریا کی موجوں سے جنگ کرے،
تُو تو وہ ہے
جو کنارے کھڑا میرے بکھرنے کو
خاموش آنکھوں سے دیکھتا رہے گا،
مگر بچانے کے لیے
کبھی پانی میں قدم نہیں رکھے گا۔
خدا کرے میرے حافظے سے مٹ جائیں
تیرے نقوش، وہ ایک شام اور تیری آواز،
مگر یہ کیسے ہو؟
یہی نقوش کبھی زندہ رہنے کا سبب بھی بن جاتے ہیں،
اور ہم ان زخموں کو کھرید کھرید کر ہرا کرتے رہتے ہیں
تاکہ یادیں تازہ رہیں۔
کاش انسان کوئی ایسی ایجاد کر لے
کہ ایک محسوس کرے
اور دوسرا یاد کرے تو دل خبر پا لے۔
ہم نے کشتی جلا دی کہ واپسی نہ ہو سکے،
مگر تم بھی ہجر میں جلتے ہو رات دن
اور ہمیں بھی تنہا کر دیا، کتنا بُرا کیا۔
منہ پھیر لیا، بات نہ کی، رخصت ہو گئے…
میں ایسی مُدارات کے قابل تو نہیں تھا،
ایک جھٹکا کافی تھا،
تم نے جھٹکے پر جھٹکے دیے۔
اس بار تو چرچے بھی تعلق کے بہت ہیں،
اس بار بچھڑنا بھی سلیقے سے پڑے گا۔
کچھ تو میرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ،
تو بھی تو کبھی مجھے منانے کے لیے آ۔
مثلِ شیشہ ہیں ہم،
ہمیں تھام کے رکھنا محسن،
ہم تیرے ہاتھ سے چھوٹے تو بکھر جائیں گے۔
ہزار رشتوں میں تم سے جڑا ہوا ہوں میں،
کہاں کہاں سے الگ کر سکو گے؟
وہ جسے محبتیں میسر ہیں جہاں بھر کی،
وہ بچھڑنے کا دکھ کیا سمجھے گا؟
اجنبی اجنبی سے چہرے،
خواب خیمے رواں دواں سے،
ابھی بھی یہ سب مناظر نظروں میں دھواں دھواں ہیں۔
کاش ایک تصویر بن جائے
جس میں دھواں ہوتا ہوا منظر دکھائی دے،
اور اس دھوئیں میں ان سب کے نام لکھے ہوں
جو جلتے ہوئے دل کے پاس سے گزر گئے۔
ملنا تھا اتفاق، بچھڑنا نصیب تھا،
وہ اتنی دور ہو گیا جتنا کبھی قریب تھا۔
ہم بہت خاموش ہو کر تمہیں دیکھتے رہے،
وہ کہتے ہیں نا عبادت میں بولا نہیں جاتا۔
نہ کوئی حرف ملا نہ الوداع کہہ پائے،
وہ وقت کی قید میں جانے کب روانہ ہوا،
نظریں بچھا کر دروازے پر کھڑی رہ گئیں،
دل نے روکا بہت مگر خواب ہار گیا۔
جانے والے ہوتے نہیں جان سے جانے والے،
ان کی یادوں سے بہل لیتی ہے ویرانی دل کی۔
چھوڑ جائے گا مرے جسم میں بکھرا کے مجھے،
وقتِ رخصت بھی وہ اک شام سہانی دے گا۔
ممکن نہیں کہ ساتھ نبھائیں تمام عمر،
ممکن بھی کس طرح ہو کہ دونوں ذہین ہیں۔
میں ان دنوں بہت مسائل میں گھری ہوں،
تُو نے بچھڑنا ہے تو یہ دن بہترین ہیں۔
خدا نہ کرے کوئی یوں بچھڑے،
وقت کی گھڑی پوچھ کر نہیں آتی۔
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں،
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں،
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی،
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں۔
---
یہ اب مکمل ادبی و مشاعرانہ تحریر ہے،
جس میں ہر لائن پڑھنے والے کو اپنی کیفیت یاد دلا سکتی ہے۔
محمد یاسر اشرف خان
Wednesday, November 13, 2024
تنہائی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
احباب محفل مشاعرہ امید ہے کہ آپ تمام خیر و عافیت سے ہوگیں۔ آج کی بات کی ابتداء شکیب الحسن سر کے شعر سے کرتے ہیں کہ
*تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا*
*دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا*
شکیب بھائی آپ کے انتخاب کو سلام جب آپ نے تنہائی کا انتخاب کیا ہے تو آپ اس بات کا احساس بھی ہوگا اب زندگی میں کیا رہ گیا۔ کسی شاعر نے کہا تھا۔
*میں احساس و مُروّت کا روندا ہوا شخص*
*کچھ کہہ بھی پایا تو فقط اتنا کہ چلو خیر ہے*
خیر میں نے بہت سارے نتیجوں کا اعلان کرنا ہے اس سے زیادہ گفتگو کم کرتا ہوں اور نتیجہ پیش کرتا ہوں۔
🌹🌹🌹 *انعام اول* 🌹🌹🌹
گم سم تمہارے ساتھ کی یادیں سمیٹ کر
اکثر اکیلے چاند سے کرتا ہوں گفتگو
*علیم اسرار*
تجھے خبر نہیں کیا شے ہے خوفِ تنہائی
ڈھلے جو شام تو خود اپنا گھر ڈراتا ہے
*فرح نور محمد*
زندگی جس کے تصور سے سنور جاتی ہے
میرے حصے میں وہی شام سہانی لکھنا
*حبیب بھائی*
💐💐💐 *انعام دوم* 💐💐💐
ضدوں سے ترک تعلق تو کر لیا لیکن
سکون اسے بھی نہیں بیقرار ہم بھی ہیں
زبان کہتی ہے سارا قصور اس کا ہے
ضمیر کہتا ہے کچھ ذمہ دار ہم بھی ہیں
چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنےغم تھےجوترےغم کےبہانے نکلے
دشت تنہائی ہجراں میں بیٹھاسوچتا ہوں
ہا ئے کیا لوگ مرا ساتھ نبھانے نکلے۔۔۔۔!!
*فہیم باجی*
سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا
*نکہت پروین باجی*
یہ شعر بچپن سے سنتے آ رہے ہیں جب بھی فلم شروع ہوا کرتی تھیں یہ شعر ایک اچھی سی آواز میں پڑھا جاتا
تھی ابھی صبح ابھی شام ہوئی جاتی ہے
زندگی ! گردش ایام ہوئی جاتی ہے
*سید عبدالستار سر*
🍁🍁🍁 *انعام سوم* 🍁🍁🍁
ہم نے تنہائی سے پوچھا کہ ملوگی کب تک
اس نے بے چینی سے فوراً ہی کہا شام کے بعد
*انصاری شکیب الحسن سر*
کیا بتلاؤں ان لمحوں میں کتنا تم کو سوچا تھا
جھیل کنارے جس دم میں نے چاند نکلتے دیکھا تھا
*وسیم راجا*
جب شامیں ٹھنڈی ہو جائے تو تم ان سے کم کم ملنا
کیونکہ نومبر میں اکثر محبتوں کو زوال آتا ہے
*قاضی فوزیہ انجم*
بصیرت ہو تو قطرے میں سمندر۔ سماعت ہو تو منظر بولتے ہیں
*سید شفیع الدین نہری*
👨⚖️جج کی پسند کے اشعار 👨⚖️
آج کل چھٹی کے دن بھی گھر پڑے رہتے ہیں ہم
شام، ساحل، تم ، سمندر، سب پرانے ہوگئے
*سید نسیم الدین وفا*
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
*گوہر نایاب فضل اللہ خان*
دھڑکنیں محبت کی دل نشین خاموشی
مرحبا اے ہنگامو آفرین خاموشی
*خان آفرین*
Tuesday, July 16, 2024
سوچ
*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*احباب بزم محفل مشاعرہ* امید ہے آپ تمام خیر و عافیت سے ہوں گے۔بہت دنوں سے میں نے مقابلوں کے نتائج پیش نہیں کیے تھے مگر اس بار آپ تمام کا جوش و خروش دیکھ کر دل میں خواہش ہوئی کہ چلو ایک بار پھر بزم کو سر سبز و شاداب کر دیا جائے۔میری تحریر میں تو وہ جادو نہیں کہ میں آپ لوگوں کا دل لبھا سکوں۔ پھر سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ میری تحریر اس ڈوبتی ہوئی محفل کو ایک نئی زندگی دے اور ہمارے بہترین لکھنے والے پھر سے اکٹیو ہو جائیں۔ محفل جو کہ رمضان سے پہلے بہت اچھے سے اپنی کارکردگی پیش کر رہی تھی اور اپنی انفرادیت لیے ہوئے واٹس ایپ گروپ پر سرگرمیاں انجام دے رہی تھی جو ہی رمضان شروع ہوئے ہم نے چھٹیاں دیں ہمارا تمام عملہ بکھر گیا۔
تو میں نے اسی امید سے یہ تصویر گروپ میں ڈالی تھی کہ ہمارے گروپ ممبران جو ایکٹو نہیں ہیں وہ پھر سے ایکٹیو ہو جائیں اور اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیں محسن صاحب جو کہ ہمارے بہت اچھے دوست ہیں انہوں نے ایک غزل ارسال کی ہے وہ آپ کے لیےپیش خدمت ہے اس کے بعد نتیجہ۔
آپ لوگوں کو میرا انتخاب کیسا لگا ضرور بتائیے میں آپ کے کمنٹس کا انتظار کروں گا
شکریہ
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے
چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے
کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے
تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے
عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر
محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے
سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کو
ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے
مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگا
پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
*محسن سر*
🌹🌹🌹 *انعام اول* 🌹🌹🌹
منزل ہو چاہتوں کی کوئی راستہ بھی ہو
ہم دم کوئی ہو دوست کوئی ہم نوا بھی ہو
پل پل تصورات کی کھڑکی سے جھانکتا
اک دلنشین خواب مرے دیکھتا بھی ہو
*علیم اسرار سر*
چاند کو تالاب مجھ کو خواب واپس کر دیا
دن ڈھلے سورج نے سب اسباب واپس کر دیا
پھر تو اس کی یاد بھی رکھی نہ میں نے اپنے پاس
جب کیا واپس تو کل اسباب واپس کر دیا
*مسعود رانا صاحب*
طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں
مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں
*صوفیہ عطار صاحبہ*
🌺🪷🌺 *انعام دوم*🌺🪷🌺
میں لاکھ کہہ دوں کہ آکاش ہوں زمیں ہوں میں
مگر اسے تو خبر ہے کہ کچھ نہیں ہوں میں
میں آئنوں سے تو مایوس لوٹ آئی تھی
مگر کسی نے بتایا بہت حسیں ہوں میں
کوئی پوچھ لے تو کہنا ، میرا حال اب کہ یٌوں بے
نہ کسی کی آرزو ہے ، نہ کسی کا اب جنوں ہے
میں کنار ِ دل پہ بیٹھی ، یہی خود سے پوچھتی ہوں
کہاں رہ گئے تلاطم؟بڑی دیر سے سکوں ہے
*سیدہ ہما غضنفر*
میرے اعصاب معطل نہیں ہونے دیں گے
یہ مجھے آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیں گے
یہ جو چہرے ہیں یہاں چاند سے چہرے تابشؔ
یہ میرا عشق مکمل نہیں ہونے دیں گے
*سید عبدالستار سر*
چاہا بیاں کروں جوں ہے میرے خیال میں
معنی الجھ کے رہ گئے لفظوں کے جال میں
*خان آفرین*
جی میں آتا هے کریں قید سبھی رنگوں کو
ایک ہنستی ھوئی تصویر بنا لیں تیری
ایک حسرت هے جئیں عمر کو چند لمحوں میں
ایک حسرت هے کوئی شام چرا لیں تیری
*قاضی فوزیہ انجم باجی*
🍁🍁🍁۔ *انعام سوم*🍁🍁🍁
ہر کوئی میرا ہو جائے ایسی میری تقدیر نہیں
میں وہ شیشہ ہوں جس کی کوئی تصویر نہیں
درد سے رشتہ ہے میرا خوشیاں مُجھے نصیب نہیں
مجھے بھی کوئی یاد کرے میں اتنا بھی خوش نصیب نہیں
*فرح نور محمد*
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے
*وسیم راجا*
ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہے
اس سمندر میں کوئی اور سمندر گم ہے
حالات کی بھیگی رات بھی ہے جذبات کا تیز الاؤ بھی
میں کون سی آگ میں جل جاؤں اے نکتہ ورو سمجھاؤ بھی
*سید وقار احمد سر*
یہی درس دیتا ہے ہمیں ہر شام کا سورج
مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے۔۔۔۔۔
*مسرت فہیم خاتون باجی*
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
فیض احمد فیض
*محمد عقیل سر*
یوں تو ہر لمحہ تیری یاد میں بوجھل گزرا
دل کو تیری کمی محسوس ہوئی شام کے بعد
*ڈاکٹر جواد احمد خان*
🌞🌞🌞 *جج کی پہلی پسند* 🌞🌞🌞
کیا ہے دنیا دل ناداں نے سمجھا کیا ہے۔ گاہے غم ہے گاہے خوشی اور یہاں رکھا کیا ہے
*سید شفیع نہری*
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت
ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
*شیخ نعیم*
گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں
شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں
*شیخ رضوان*
Wednesday, March 6, 2024
تلاش
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج بہت دنوں بعد موقع ملا ہے کہ تلاش گمشدہ پر کچھ لکھوں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے آخر گم شدہ چیز کیا ہے۔ گمشدہ چیز وہ معزز احباب ہے جو اس محفل کی شان ہوا کرتے تھے۔ مگر اب وہ اس محفل فعل نہیں رہے۔ ہماری محفل میں داخل ہوتے ہی کتنوں کی شادیاں ہوگی کتنے پی ایچ ڈی کر کے ڈاکٹر بن گئے اور نہ جانے کتنے سبکدوش ہوگئے۔ میں کل اس عنوان کو لے اس لیے بضد تھا تاکہ میں محفل کے نایاب گوہروں کو تلاش کرکے پھر سے ایک بندھن میں سب کو باندھ سکوں۔
ججز بار بار اعلان کر رہے ہیں ارے آؤ ایک حاضری لگا کر جاؤ کسی کے اچھے شعر پر واہ واہی کردو۔
خیر کوئی بات نہیں آج کے بعد عید کے تین دن بعد تک کوئی مقابلہ نہیں ہوگا۔ آپ لوگ عبادت کریں لہو ولعب سے دور رہیں۔
عید کے بعد کا پہلا عنوان میں دوں گا اور اس میں جو شریک نہیں رہے گا اس کا اس محفل میں آخری دن ہوگا۔
💐 *انعام اول*💐
مجھے زندگی میں قدم قدم تیری رضا کی تلاش ہے
تیرے عشق میں ۔۔۔۔۔۔اے خدا مجھے انتہا کی تلاش ہے
میں گناہوں میں ہوں ڈوبا ہوا میں زمین پر ہوں گرا ہوا
جو مجھے گناہوں سے بری کرے مجھے اس دعا کی تلاش ہے
میں نے جو کیا وہ برا کیا میں نے خود کو خود ہی تباہ کیا
جو تجھے پسند ہو اے خدا مجھے اس ادا کی تلاش ہے
*فہیم خاتون مسرت باجی*
آسانیوں سے پوچھ نہ منزل کا راستہ
اپنے سفر میں راہ کے موتی تلاش کر
ذرّے سے کائنات کی تفسیر پوچھ لے
قطرے کی وسعتوں میں سمندر تلاش کر
*شیخ رضوان*
تری تلاش میں نکلے تو اتنی دور گئے
کہ ہم سے طے نہ ہوئے فاصلے جدائی کے
*شکیب الحسن*
*دل اداس ہو تو بات کر لینا*
*دل چاہے تو ملاقات کر لینا*
ہم رہتے ہیں آپ کے دل میں
وقت ملے تو تلاش کرلینا
*فرح نور محمد*
میں کب سے اپنی تلاش میں ہوں، ملا نہیں ہوں
سوال یہ ہے کہ میں کہیں ہوں بھی، یا نہیں ہوں
یہ میرے ہونے اور نہ ہونے سے منکشف ہے
کہ رزمِ ہستی میں کیا ہوں میں اور کیا نہیں ہوں
*قرۃ العین صاحبہ*
🍁 *انعام دوم* 🍁
اب اُسے رات کے صحراؤں میں کرتا ہوں تلاش
جس نے اِک دِن مُجھے ملنے کو کہا، "شام ڈھلے"
*سید عبدالستار سر*
خودی میں گم ہے خدائی تلاش کر غافل
یہی ہے تیرے لیے اب صلاح کار کی راہ
*آفرین خان*
میں جھکا نہیں میں بکا نہیں، کہیں چھپ چھپا کے کھڑا نہیں
جو ڈٹے ہوئے ہیں ، محاذ پر ، مجھے ان صفوں میں تلاش کر
*گوہر نایاب* آپ کی جاری ہے
سزا یہ ترک تعلق کی خوب دی تونے
کہ شہر شہر پھر وں اور تجھے تلاش کروں
*نکہت صاحبہ*
نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی
جسے قریب سے دیکھا وہ دوسرا نکلا
*ڈاکٹر جواد خان*
*انعام سوم*
یقین نہیں ہے مگر آج بھی یہ لگتا ہے،
میری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے...
میرے وجود کی مجھ میں تلاش چھوڑ گیا،
جو پوری نہ ہو کبھی ایسی آس چھوڑ گیا
*وسیم راجا*
میں جس کو ڈھونڈ رہا ہوں گلے لگانے کو
اسی کے ہاتھ کا پتھر میری تلاش میں ھے
*سید نسیم الدین وفا*
تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری
تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لئے
*فرحت جبین باجی*
*نوٹ*
اب رمضان کے بعد ملاقات ہوگی
Sunday, February 4, 2024
مانگ رہے ہو رخصت اور خود ہیہاتھ میں ہاتھ لئے بیٹھے ہو تم بھی ناں
تیرا انداز بدل دوں ترا لہجہ ہو جاؤں
اپنی تکلیم کا کچھ ذائقہ تبدیل کروں
تجھ سے بچھڑوں میں ذرا دیر ادھورا ہو جاؤں
محترم احباب محفل مشاعرہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بہت بہترین مقابلہ رہا تمام شرکاء کا میں مشکور ہوں انھوں نے اس مقابلے میں شرکت کی۔
میں آج کچھ نہیں لکھوں گا۔ بس اشعار پڑھئیے اور جھوم جائیے
مانگ رہے ہو رخصت اور خود ہی
ہاتھ میں ہاتھ لئے بیٹھے ہو تم بھی ناں
مراسلہ ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب
یہ کیسی دُھند میں ہم تم سفر آغاز کر بیٹھے
تمہیں آنکھیں نہیں ملتیں، ہمیں چہرہ نہیں ملتا
*رضوان* @Rizwan Dost Gulshan یہ میرے بچپن کے دوست ہے آج پہلی بار شرکت کی بہت بہت شکریہ
*ترا ہاتھ ، ہاتھ میں ہو اگر تو سفر ہی اصل حیات ہے*
*تری ایک چپ میں جو ہے چھپی وہ ہزار باتوں کی بات ہے*
@Faheem Baji
جو بھی اترا تیری آنکھوں میں وہی ڈوب گیا
کون کہتا ہے سمندر میں ہی گہرائی ہے ؟
@.فرح نور محمد
جب سے دیکھی ہے آپکی صورت
چاند کو چاند میں نہیں کہتا
کاجل آنکھیں، ہونٹ گلابی، زلف اسیری، گال پہ تل
دل نہ دیتے، جان سے جاتے، سامنے تھے ہتھیار بہت.
@Ansari Shakeebulhasan
میں چاہتا ہوں کہ کسی دن
چائے کی میز پر اکھٹے بیٹھیں اور
میں تمہارا ہاتھ تھام کہ کہوں کہ
امرحہ کا عالیان
حیا کا جہان
امامہ کا سالار
زمر کا فارس
لیزا کا سکندر
محمل کا ہمایوں
ایمان کا حماد
علیزا کا عمر
خرد کا اشعر
ملیحہ کا وجدان
امید کا ایمان
فلک کا سلیمان
اور
روشنی کا عالم شاہ
میں تمہارے لئیے یہ سب نہیں بن سکتا اور نا ہی بننا چاہتا ہوں
کیوں کہ یہ سب افسانوی کردار ہیں اور میں حقیقت
اس لئیے میں صرف تمہارے لئیے
تمہارہ اپنا بننا چاہتا ہوں
جس کی تمنا صرف تُم کرو
نا کہ افسانوی کردارجس کی تمنا ہر لڑکی کرتی ہے
@Hanpure Waseem Raja Sir
*تو جو کہہ رہی ہے کہ سہل ہے سفرِ بلندیء عشق بھی*
*ترا ہاتھ اگر مرے ہاتھ میں نہ رہے تو تجھ کو پتہ چلے*
جس کو بھی راہِ زیست میں چاہا نکل گیا
ہر دوست ہاتھ چھوڑ کے میرا نکل گیا
@Abdus Sattar Sir Nanded sir
صدیوں کا رت جگا میری راتوں میں آگیا
میں ایک حسین شخص کے ہاتھوں میں آگیا
عشق ہے عشق یہ مذاق نہیں
چند لمحوں میں فیصلہ نہ کرو
@فرحت
💖نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداؤں کو
چھپانے سے زمانے بھر کی شہرت اور ہوتی ہے
یہ مانا حسن کی فطرت بہت نازک ہے اے وامقؔالسلام
مزاج عشق کی لیکن نزاکت اور ہوتی ہے
@Makandar HS Karnatak
چلو محسن محبت کی ایک نئ بنیاد رکھتے ہیں
خود پابند رہتے ہیں اسے آزاد رکھتے ہیں
@Fauzia Baji Malik Amber
ہاتھوں میں ترا ہاتھ یہ کافی تو نہیں ہے
مل جائیں خیالات ذرا اور ذرا اور
کچھ اس طرح سے ملیں ہم کہجس کو بھی راہِ زیست میں چاہا نکل گیا
ہر دوست ہاتھ چھوڑ کے میرا نکل گیا بات رہ جائے
بچھڑ بھی جائیں تو ہاتھوں میں ہاتھ رہ جائے
@سید وقار احمد مشاعرہ گروپ
جھوٹی امید کی انگلی کو پکڑنا چھوڑو
درد سے بات کرو درد سے لڑنا چھوڑو
سلمان اختر
سورج ستارے چاند مرے ساتھ میں رہے
جب تک تمہارے ہاتھ مرے ہاتھ میں رہے
راحت اندوری
@Mohd Aqueel
*چرایا ہے نئی دنیا سے اس کو*
*مگر حربہ پرانا لگ گیا ہے*
*مرے ہاتھوں میں تیرے ہاتھ کب ہیں؟*
*مرے ہاتھوں خزانہ لگ گیا ہے*
کچھ اس طرح سے ملیں ہم کہ بات رہ جائے
بچھڑ بھی جائیں تو ہاتھوں میں ہاتھ رہ جائے
*🥀ـــــــــ ابرار عالم ــــــــ🥀*@ابرار سر مالیگاؤں
اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق
دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر
خان آفرین
@Afreen Huma Javed
تو میرے خالی ہاتھ پر اپنا ہاتھ ہی رکھ دے
کچھ نہ ملنے پر ساحل کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
تمہارا ہاتھ تھا ہاتھوں میں میرے تو دنیا انگلیوں پہ ناچتی تھی
تمہارا ہاتھ جو چھوٹا تو جانا ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
@ثروت باجی
خان محمد یاسر
Subscribe to:
Comments (Atom)