Sunday, February 4, 2024

مانگ رہے ہو رخصت اور خود ہیہاتھ میں ہاتھ لئے بیٹھے ہو تم بھی ناں


تیرے خاموش تکلم کا سہارا ہو جاؤں 
تیرا انداز بدل دوں ترا لہجہ ہو جاؤں
اپنی تکلیم کا کچھ ذائقہ تبدیل کروں 
تجھ سے بچھڑوں میں ذرا دیر ادھورا ہو جاؤں 

محترم احباب محفل مشاعرہ 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
بہت بہترین مقابلہ رہا تمام شرکاء کا میں مشکور ہوں انھوں نے اس مقابلے میں شرکت کی۔ 
  میں آج کچھ نہیں لکھوں گا۔ بس اشعار پڑھئیے اور جھوم جائیے
مانگ رہے ہو رخصت اور خود ہی
ہاتھ میں ہاتھ لئے بیٹھے ہو تم بھی ناں

مراسلہ ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب 
‏یہ کیسی دُھند میں ہم تم سفر آغاز کر بیٹھے
تمہیں آنکھیں نہیں ملتیں، ہمیں چہرہ نہیں ملتا
*رضوان* @⁨Rizwan Dost Gulshan⁩ یہ میرے بچپن کے دوست ہے آج پہلی بار شرکت کی بہت بہت شکریہ
 *ترا ہاتھ ، ہاتھ میں ہو اگر تو سفر ہی اصل حیات ہے*
*تری ایک چپ میں جو ہے چھپی وہ ہزار باتوں کی بات ہے*
@⁨Faheem Baji⁩ 

جو بھی اترا تیری آنکھوں میں وہی ڈوب گیا
کون کہتا ہے سمندر میں ہی گہرائی ہے ؟
@⁨.فرح نور محمد⁩ 


جب سے دیکھی ہے آپکی صورت
چاند کو چاند میں نہیں کہتا


کاجل آنکھیں، ہونٹ گلابی، زلف اسیری، گال پہ تل
دل نہ دیتے، جان سے جاتے، سامنے تھے ہتھیار بہت.

@⁨Ansari Shakeebulhasan⁩ 

میں چاہتا ہوں کہ کسی دن 
چائے کی میز پر اکھٹے بیٹھیں اور 
میں تمہارا ہاتھ تھام کہ کہوں کہ
امرحہ کا عالیان
حیا کا جہان
امامہ کا سالار
زمر کا فارس
لیزا کا سکندر
محمل کا ہمایوں
ایمان کا حماد
علیزا کا عمر
خرد کا اشعر
ملیحہ کا وجدان
امید کا ایمان
فلک کا سلیمان
اور
روشنی کا عالم شاہ
میں تمہارے لئیے یہ سب نہیں بن سکتا اور نا ہی بننا چاہتا ہوں 
کیوں کہ یہ سب افسانوی کردار ہیں اور میں حقیقت 
اس لئیے میں صرف تمہارے لئیے
تمہارہ اپنا بننا چاہتا ہوں 
جس کی تمنا صرف تُم کرو 
نا کہ افسانوی کردارجس کی تمنا ہر لڑکی کرتی ہے
@⁨Hanpure Waseem Raja Sir⁩ 

*تو جو کہہ رہی ہے کہ سہل ہے سفرِ بلندیء عشق بھی*
*ترا ہاتھ اگر مرے ہاتھ میں نہ رہے تو تجھ کو پتہ چلے*
جس کو بھی راہِ زیست میں چاہا نکل گیا
ہر دوست ہاتھ چھوڑ کے میرا نکل گیا
@⁨Abdus Sattar Sir Nanded⁩ sir

صدیوں کا رت جگا میری راتوں میں آگیا
میں ایک حسین شخص کے ہاتھوں میں آگیا

عشق ہے عشق یہ مذاق نہیں
چند لمحوں میں فیصلہ نہ کرو
@⁨فرحت⁩ 

💖نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداؤں کو
چھپانے سے زمانے بھر کی شہرت اور ہوتی ہے

یہ مانا حسن کی فطرت بہت نازک ہے اے وامقؔالسلام 
مزاج عشق کی لیکن نزاکت اور ہوتی ہے
@⁨Makandar HS Karnatak⁩ 
چلو محسن محبت کی ایک نئ بنیاد رکھتے ہیں
خود پابند رہتے ہیں اسے آزاد رکھتے ہیں
@⁨Fauzia Baji Malik Amber⁩ 

ہاتھوں میں ترا ہاتھ یہ کافی تو نہیں ہے
مل جائیں خیالات ذرا اور ذرا اور
کچھ اس طرح سے ملیں ہم کہجس کو بھی راہِ زیست میں چاہا نکل گیا
ہر دوست ہاتھ چھوڑ کے میرا نکل گیا بات رہ جائے
بچھڑ بھی جائیں تو ہاتھوں میں ہاتھ رہ جائے


@⁨سید وقار احمد مشاعرہ گروپ⁩ 
جھوٹی امید کی انگلی کو پکڑنا چھوڑو
درد سے بات کرو درد سے لڑنا چھوڑو

سلمان اختر

سورج ستارے چاند مرے ساتھ میں رہے
جب تک تمہارے ہاتھ مرے ہاتھ میں رہے

راحت اندوری

@⁨Mohd Aqueel⁩ 

*چرایا ہے نئی دنیا سے اس کو*
*مگر حربہ پرانا لگ گیا ہے*

*مرے ہاتھوں میں تیرے ہاتھ کب ہیں؟* 
*مرے ہاتھوں خزانہ لگ گیا ہے*
کچھ اس طرح سے ملیں ہم کہ بات رہ جائے
بچھڑ بھی جائیں تو ہاتھوں میں ہاتھ رہ جائے
*🥀ـــــــــ ابرار عالم ــــــــ🥀*@⁨ابرار سر مالیگاؤں⁩ 
اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق
دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر

خان آفرین
@⁨Afreen Huma Javed⁩ 
                          
تو میرے خالی ہاتھ پر اپنا ہاتھ ہی رکھ دے
کچھ نہ ملنے پر ساحل کو بڑی تکلیف ہوتی ہے

تمہارا ہاتھ تھا ہاتھوں میں میرے تو دنیا انگلیوں پہ ناچتی تھی
تمہارا ہاتھ جو چھوٹا تو جانا ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا

@⁨ثروت باجی⁩ 

خان محمد یاسر

Sunday, December 31, 2023

ورق قلم دوات

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*وہ جو خواب تھے مرے ذہن میں نہ میں کہہ سکا نہ میں لکھ سکا*
*کہ زباں ملی تو کٹی ہوئی کہ قلم ملا تو بکا ہوا*

 نثار وسیم کے اس شعر کے ساتھ جسے اقبال اشہر نے لکھا ہے
احباب بزم محفل مشاعرہ!
جب لکھنے کے لیے قلم  آپ کے ہاتھ میں دیا تب میں  سوچ رہا تھا نہ جانے آج کچھ لکھا جائے گا کہ نہیں؟
مگر آج تو اس نے بھی لکھ دیا جس نے کبھی نہیں لکھا تھا مگر آخر تک میری نظریں @⁨سید وقار احمد مشاعرہ گروپ⁩ صاحب کو ڈھونڈ رہیں تھیں مگر وہ نظر نہ آئے😔
میں نے کبھی کسی سے کہا کہ میں اب کبھی دوست سے گلا نہیں کروں گا سو خاموش ہی رہوں گا۔
آپ احباب نے اتنا کچھ لکھ ڈالا کہ ہم میری ہمت جواب دے رہی ہے۔ دو غزلیں ایک نظم اور سیکڑوں اشعار آج کے مقابلے کی ضمانت دے رہیں ہیں کہ مقابلہ بہت کامیاب رہا۔ 
شکیب بھائی اورنگ آباد کی سالگرہ کے پروگرام میں ملے اور کہنے لگے تمہارا اچھا لوگوں کو کام پر لگا کر خود آرام سے پروگرام اٹینڈ کر رہے ہو میں نے پوچھا آپ گھر سے کیسے نکلے کہنے لگے محفل پر سب سے پہلے حاضری میں نے لگائی اب جہاں چاہوں وہاں جا سکتا ہوں۔
آج سمجھ آیا کہ قلم سے سر قلم کرنے کا ہنر ہماری محفل کے احباب بخوبی جانتے ہیں اور قتل کر بھی رہیں ہیں۔ قتل سے یاد آیا وہ قتل انسانوں کا نہیں بلکہ اپنے ارمانوں کا کر رہے ہیں۔
*قلم ہےہاتھ میں خنجر کی کیا ضرورت ہے* 
*پڑھا لکھا ہوں سلیقے سے خون کرتا ہوں*

وفا سید، ،،،، سیدھی بات کرنے والی شخصیت انصاف پسند دوسرے شعر میں کیا زبردست انداز میں سچائی کو بیان کیا ابھی ایک شعر مقابلے کے لیے اور دوسرا شعر زندگی کے اصولوں کے لیے مختص کردیا

*قلم ہے ہاتھ میں خنجر کی کیا ضرورت ہے*
 *پڑھے لکھے ہیں سلیقے سے وار کرتے ہیں*
مبشر صاحب خوش آمدید آج پہلی بار میں اپنے مقابلے میں آپ کو حاضری لگاتے ہوئے دیکھا بہت عمدہ شعر کیا کہنے

*تری رسوائیوں  کے ڈر سے ہم خاموش بیٹھے ہیں*
*لکھنے پہ آجائیں ، تو قلم سے سر قلم کردیں*
میں نے اوپر اسی شعر کی بات کی تھی  یہ شعر سید عبدالستار سر نے بھیجا ہے بھائی آپ میں ہمت بھی ہے اور قلم کے آپ دھنی بھی قلم سے قلم کرنے کا ہنر بھی اور کمال بھی 
*وہی تاج ہے وہی تخت ہے وہی زہر ہے وہی جام ہے*
*یہ وہی خدا کی زمین ہے یہ وہی بتوں کا نظام ہے*

*بڑے شوق سے مرا گھر جلا کوئی آنچ تجھ پہ نہ آئے گی*
*یہ زباں کسی نے خرید لی یہ قلم کسی کا غلام ہے*
ابھی ایک قانون بنے جا رہا ہے کہ قلم کی گویائی کو خرید کر صرف حکومت کی تعریف کے لیے اس کا استعمال کیا جائے گا۔ اس شعر میں بہت سچائی پوشیدہ ہے بہت بہت شکریہ صاحب
کاشف ابرار کی غزل بھی اس مقابلے میں ارسال کی گئی اس غزل کو کاشف ابرار کے منہ سے سنا جائے تو مزہ آتا ہے اور وہ بھی دبئی کی شازیہ باجی کی موجودگی میں یوٹیوب پر جا کر ضرور دیکھنا دبئی کا مشاعرہ اور نظامت کمار وشواس بہت عمدہ اس سے ہمیں تلفظ کی ادائیگی آ جائے گی۔


*اب ہمیں کچھ اور آسانی سے  لکھنا   چاہیے*
*روشنائی   کی   جگہ   پانی   سے   لکھنا   چاہیے*
*کیوں قلم پر ہو کسی کی جنبشِ ابرو  کا   بوجھ*
*میں تو کہتا ہوں کہ من مانی سے لکھنا چاہیے*
بھائی شکیب ہم کب آپ کو روکا ہے جب جب آپ رک گئے گھر آکر منایا ہے اور بہت سارے کاموں کے لیے آپ کو منا رہے ہیں آپ کی تحریر آپ کی طرح من مانی سے چلتی ہے اور جو تسلسل اور جو قارئین کو آپ باندھ کر رکھتے ہیں صاحب اس کا ایک قطرہ بھی ہمیں نصیب ہوجائے تو ہم میں تکبر آجائیں گا مگر آپ کی سادگی کی قسم اللہ ہنر دیتا ہے تو انکساری بھی دیتا ہے آپ کنوارے ہیں اس لیے دعا دوں گا اللہ آپ کے قلم کو سلامت رکھے۔
*اپنے ہاتھوں میں قلم تھا سو اسی سے ہم نے*
*ہو سکی ظلم کی جتنی بھی  مذمت  ، کی ہے* 

گوہر اس بات میں سچائی ہے آپ جہاں بھی جو کچھ بھی تحریر کرتیں ہو وہاں ظلم کی مذمت کرتے ہوئے ہی تحریر کرتیں ہو
*میرےلکھےہوئےہرلفظ کی تفسیرمیں آ*
*میرےجملوں میں بکھرآمیری تحریرمیں آ*
اللہ نے آپ کی دعا پہلے کی قبول کرلی آپ کی تحریر میں تقریر میں غزل میں نظم و نثر میں سب میں آگیا جو جو آنا تھا وہ سب ہم جج کے جیسا قلم توڑنا باقی ہے۔
وہ گانا تھا نہ جلوہ یہاں بھی ہوگا وہاں بھی ہوگا سارے جہاں میں ہوگا۔ کیا؟ تحریر کا جلوہ باجی تو اب مدیر اعلی بھی بن گئیں ہیں۔
*ائے جذبۂ خودداری جھکنے نہ دیئے توُ نے*

*لکھنے کے لئے ورنہ سونے کی قلم ہوتی*
آج ابرار نے قلم کو دیکھ کر وقت پر شعر ارسال کردیئے ابرار ایک بہت اچھے ناظم مشاعرہ بھی ہے اور قلم کے ساتھ ساتھ آواز میں بھی بہت دم ہے۔ جیتے ہو ابرار

*اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں*
*ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں*

*بے وفا لکھتے ہیں وہ اپنے قلم سے مجھ کو*
*یہ وہ قسمت کا لکھا ہے جو مٹا بھی نہ سکوں*
مسعود رانا صاحب آج کے دور میں جس کسی کو بے وفا کہا جائے نہ تو سمجھ جاؤ وہ بہت وفادار ہے۔ دھوکے کھانے والے ہمیشہ صحت مند رہتے ہیں۔ آپ کا انتخاب لاجواب ہے۔
*تو دل میں آیا تو ہر شے نکل گئی دل سے*

*تری طلب نے زمانے سے بـے طلب رکھا*
وسیم راجا زندگی کی حقیقت کو بیان کردیا آپ نے آپ کی زندگی کی روداد بھی اسی کی عکاسی کرتی ہے جو ملا ان سے زمانے سے چھڑا ڈالا مگر ہمارے شکنجے سے کوئی چھین نہیں سکتا یہاں تک کہ بھابی بچے بھی۔ ہم نے آپ کو عادت نہیں لت لگا دی محفل کی۔😁

*دشتِ طلب کا راستہ آساں نہیں مگر*
*آتے ہیں تیرے نام پہ اہلِ ہنر یہاں*

علیم اسرار اور میں پونہ میں ایک ساتھ ۵ دن تک ساتھ رہے بہت سادہ مزاج اور خوش اخلاق شخص کبھی حرف نہیں میں   نے ان کے منہ سے نہیں سنا کاشف ابرار کا قد ان کے سامنے چھوٹا ہے میری نظر کاشف ابرار مغرور ہے یہ ایثار و قربانی کا پیکر ہے۔ علیم بھائی آپ ہنر پر ہی ہم آتے ہیں۔ آپ بھی آتے رہیے۔
*میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے*

*سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے*

*میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں*

*میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے*
فرح یہ گانا ہے مگر میں تو یہ دعا کروں گا آپ جس کو مانگتے ہو وہ آپ کو مل جائے۔ آپ بھی کبھی جویریہ جودت کی طرح خوش وخرم رہ کر حاضری لگاتے رہیں۔
*راہ طلب میں دام و درم چھوڑ جائیں گے*
*لکھ لو ہمارے شعر بڑے کام آئیں گے*
مرزا حامد بیگ صاحب آپ کے شعر کام کیوں نہ آئیں گے آپ عمران بھائی کے جو دوست ٹھہرے ویسے بھی آپ سے بہت کام لینا ہے اردو ادب کا صاحب
*ملنے کی طرح طلب بھی ہے ملتے بھی نہیں ہو تم*
*اب تم ہی بتاؤ یہ کیسی محبت ہے*
جویریہ جودت سے یہ سوال آپ براہ راست کریں ثنا ثروت صاحبہ اچھا رہے گا ایک اور نام ہے آپ کی نسبت سے عرشیہ عبدالواجد صاحبہ وہ بھی غائب ہیں آج کل پتہ کریں سب خیریت تو ہے نا۔

*ابھی تک راستے کے پیچ و خم سے دل دھڑکتا ہے*
*مرا ذوق طلب شاید ابھی تک خام ہے ساقی*
خان آفرین صاحبہ بہت پیچیدہ رہنا اور پیچیدگی بنائے رکھا اچھا نہیں 
*مجھ سے صلاح لی نہ اجازت طلب ہوئی*
*بے وجہ روٹھ بیٹھے ہیں اپنی خوشی سے آپ*
منایا کرو
*میں اپنا نام نہیں لیتی بس دعا ہے مری*
*تری طلب ہو جسے اسکو تو ضرور ملے*
ہما میں کچھ نہیں بولتا صرف آمین لکھ دیتا ہو اور میری آمین کے بعد محفل کے احباب بھی آمین ثم آمین کہیں گے☺️
*امتحاں محبت کا پاس کر لیا میں نے*
*اب یہی میں لکھوں گا اہلیت کے خانے میں*

*جب سے آپ میرے ہیں فخر سے میں لکھتا ہوں*
*نام آپ کا اپنی ملکیت کے خانے میں*
ویسے ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب آپ کی ملکیت کے خانے ایک ہے یا زیادہ 

*میری زندگی کی روشنائی لکھ دی*
*قلم تراش کر تنہائی لکھ دی*
ڈاکٹر نسرین سلطانہ صاحبہ تنہائی کو مٹا دیجیے محفل میں رہیں مشورہ ہے بہت عمدہ شعر اپنی نوعیت کا منفرد 
*ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے*
*جو دل پہ گزرتے ہی رقم کرتے رہیں گے*
مہرالنّساء صاحبہ دیکھ رہیں ہیں ہم بہت لکھ رہے آپ پڑوسی بھی آپ کو چھاپ رہے ہیں وہیں ایک آدھ ہفتہ ادھر بھی لکھ دیا کیجیے محفل کی تشنگی ختم ہو جائے گی 

*آج میرے ہاتھ میں ہے قلم کی طاقت*
*لفظوں میں ڈھال رہی ہوں جذبوں کی طاقت*
قرۃالعین صاحبہ آپ کی طاقت سے مہاراشٹر کا بچہ بچہ واقف ہے سچ میں اردو کے لیے پونہ آ کر آپ بہت کام کر رہی ہو۔
*زخمی نہ ہو قلم سے ہمارے کسی کا دل*
*کرتے ہیں ہر کلام میں ہم اِس کی احتیاط*

جی دیکھے ہم نے آپ غرور بھی نہیں کرتے رازق حسین 
*شاعری تو بس دل بہلانے کے لئے کرتے ہیں*
*کاغذ پر لفظ اترنے سے محبوب کہاں ملتے ہیں*
بہت خوب فرحت جبین باجی عمدہ سچائی ہے ابھی تک تو کوئی نہیں ملا۔
*فرصت اگر ہوپڑھیے ذرا داستان وقت*
*مغرور ہوکےخاک ہوئے حکمران وقت*
سید شفیع الدین نہری صاحب 2024 کا سورج ان شاءاللہ ہمیں یہ ضرور بتائے گا حکومتیں بدلتے دیر نہیں لگتی۔
بہت بہت شکریہ میں نے بھی آج حد کردی 2023 سے لکھتے بیٹھا تھا آج 2024 پر ختم کرتا ہوں اللہ ہم سب کے ساتھ عافیت کا معاملہ کریں۔
خدا حافظ

Sunday, November 26, 2023

بھوک

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
مرنے والوں کو روتے ہو کیا
 بے بسی دیکھو جینے کی
مراسلہ
*محترمہ قاضی فردوس فاطمہ صاحبہ* 
یہ شعر پڑھ کر وہ قصہ پھر یاد آگیا ایک غریب مزدور کچھ دن بیمار رہا اس دوران گھر میں فاقے ہی فاقے چلے۔ پھر غریب مر گیا گھر میں سے آہ و بکا کی آوازیں سن کر پڑوسی دوڑے چلے آئے دیکھ مزدور مرگیا تجہیز و تدفین کے بعد پڑوسیوں نے مزدور کے گھر کھانا پہنچایا بچوں نے خوب سیر ہوکر کھایا کیونکہ اتنا کھانا ایک ہفتے بعد کھانے کے لیے ملا تھا وہ کھانا دو تین دن کافی ہوا۔ 
مزدور کی بیوی ابھی عدت میں تھی اور اس کے گود میں ایک دودھ پیتا بچہ بھی تھا۔ ماں کے سینے میں دودھ سوکھ چکا تھا اور اس ماں نے بھی دکھ میں کھانا نہیں کھایا تھا تو دودھ پیتا بچہ بھی مرگیا۔
دوسرے دن کھانا پڑوسیوں نے لا کردیا غریب کے بچوں نے سیر ہوکر کھایا۔ دو چار دن گزرے چھوٹے سے بڑا والا بچی بیمار ہوئی تو بچے نے پوچھا ماں باجی کب مرے گی تاکہ پڑوسی کھانا لا کر دیں۔
ہے نا شرم کی بات؟
میں نے پہلے بھی تحریر کیا تھا کہ گجرات کے فساد میں ہندوؤں نے قتل عام نہیں کیا تھا بلکہ وہ لاچار غریب لوگوں کو ورغلایا گیا کہ یہ مسلمان تمہارے بستی میں کھانا لا کر پھینکتے ہیں اور تمہیں نہیں دیتے اس بھوک کا تم لوگ ان سے انتقام لو۔
ہمارے اسلاف کیسے تھے دیکھئے ذرا مدینے میں ایک یہودی اپنا مکان بیچ رہا تھا۔ خریدار نے قیمت معلوم کی تو پتہ چلا قیمت کچھ زیادہ بتا رہا ہے۔ خریدار نے اس سے پوچھا یہاں تو مکان کی قیمت اتنی ہے تم زیادہ کیوں بتا رہے ہو۔ اس نے جواب دیا میرا پڑوسی صحابی رسول ہے کبھی گھر میں فاقہ ہونے نہیں دیتا۔
ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبدالعزیز صحرا سے گزر رہے تھے دیکھا ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا۔ اتنے میں ایک کتا آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا اس چرواہے نے اپنی پوٹلی میں سے ایک روٹی نکالی اور کتے کو دی کتا نے روٹی کھائی اور پھر للچائی ہوئی نظروں سے چرواہے کو دیکھنے لگا پھر اس نے تیسری روٹی بھی اس کے سامنے ڈال دی کتا سیر ہوا اور وہاں سے چلا گیا۔
عمر بن عبدالعزیز نے اس چرواہے سے پوچھا تمہاری پوٹلی میں کتنی روٹیاں تھیں۔ اس نے جواب دیا تین تو عمر بن عبدالعزیز نے پوچھا تم کیا کھاؤں گے۔ اس نے جواب دیا حضور یہاں صحرا میں کتے نہیں ہوتے شاہد  یہ کہیں سے آگیا تھا بھوکا تھا ابھی اس کو روٹی ضرورت تھی میں شام میں اپنے گھر جا کر کھا لوں گا۔
عمر بن عبدالعزیز نے پوچھا بکریاں کس کی ہے؟ کہا مالک کی۔ اس غلام چرواہے کو خریدا  اور  تمام بکریاں خرید لی اور اس چرواہے کو دے دی اور اس چرواہے نے ضرورت مندوں میں ان بکریوں کو تقسیم کر دیا۔
میں اور آپ ہوتے تو جپ جپ کر رکھتے۔
اپنے گروپ میں کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی جو اپنی تنخواہ میں سے خرچ کرتے تو ہیں قرض لے کر بھی خرچ کرتے ہیں غریبوں پر اللہ ان کے اور ان کے طفیل میں ہمارے رزق میں برکت عطا کرے۔
عزت والا مانگتا نہیں بھوک سے مر جاتا ہے ہمارے نبی نے بتایا گھر میں جو بھی بناؤ پڑوسی اس سالن میں ایک کٹوری پانی ملا کر دے دو نہیں معلوم اس کے گھر کچھ ہو کہ نہ ہو۔
ہمارے نبی کے گھر چولہا ایک ایک مہینہ نہیں جلتا تھا
حضرت نعما ن بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگو! کیا تمہیں خورد ونوش کی ہر وہ چیز میسر نہیں ہے جس کی تم خواہش رکھتے ہو؟ حالانکہ میں نے توتمہارے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا کہ ان کے پاس تو اتنی ردی کھجوریں بھی نہیں ہوتی تھیں جن سے پیٹ بھر سکیں۔
حدیث: حضرت ام المؤمنین (میری امی) عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ ہم لوگ یعنی حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے وہ ہیں کہ ایک ایک مہینہ تک چولھے میں آگ نہ جلتی تھی بلکہ ہمارا گزارا صرف پانی اور کھجوروں سے ہوتا تھا۔
 مہمانوں نے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔ پھر حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ پکی ہوئی کھجوریں ، ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈا سایہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا۔ پھر حضرت ابوالہیثم اٹھے کہ مہمانوں کے لیے کھانا تیار کریں تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے دودھ دینے والا جانور ذبح نہ کرنا۔ لہٰذا انہوں نے بکری کا بچہ ذبح کیا اور کھانا تیار کرکے لےآئے۔ ان حضرات نے کھانا کھایا۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی خادم بھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جب ہمارے پاس قیدی غلام آئیں تو تم بھی ہمارے پاس آنا۔ اتفاقاً ایک جگہ سے دو غلا م آگئے تو حضرت ابوالہیثم بھی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ ان دونوں میں سے جس غلام کو چاہو منتخب کرلو۔ انہوں نے عرض کیا: حضرت آپ ہی میرے لیے منتخب فرمادیں۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ مشورہ دینے والا امین ہوتا ہے،اس لیے میں بھی امین ہونے کی حیثیت سے فلاں غلام کو پسند کرتا ہوں۔ اس لیے کہ میں نے دیکھا ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہے لیکن میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ پھر ابوالہیثم اپنے غلام کو لے کر آئے اور اپنی بیوی سے سارا واقعہ بیان کیا اور حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی سنایا تو ان کی بیوی نے کہا: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کا حق تم ادا نہ کرسکوگے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ تم اس کو آزاد ہی کردو۔ چنانچہ انہوں نے اس کو آزاد کردیا۔ پھر جب حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جانثار صحابی کے واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اس کے جانشین کو دو باطنی مشیر بھی دیتے ہیں، ایک ان میں سے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہےجبکہ دوسرا مشیر اس میں خرابی پیدا کرنے میں کسر نہیں چھوڑتا، جو شخص برے مشیر سے بچا لیا گیا وہ حقیقت میں برائی سے محفوظ ہوگیا۔
نوٹ اسی طرح کا ایک واقعہ حکایات صحابہ میں لکھا ہے مگر وہاں مہمان نوازی حضرت ابو ایوب انصاری نے کی تھی اور اس وقت نبی پاک نے فرمایا جس کا مفہوم ابو ایوب یہ بھونا گوشت اور یہ روٹی فاطمہ کے گھر  دے آؤ کہ کئی چاند گزر گئے اس کے گھر چولھا نہیں جلا۔
حالات اور وقت ہر کسی پر آتے ہیں ان حالات میں ساتھ دینے والا مہربان ہوتا ہے۔ اللہ نے کہا نہ کہ انسان بہت ناشکرا ہے نعمتوں کے ملنے پر شکر گزاری نہیں کرتا اور حالات آجائے تو ناشکری کرتا ہے اور ناشکری کرنے والوں کے رزق میں کمی ہو جاتی ہے۔
گذشتہ دفعہ میں نے موسی علیہ السلام کے زمانے کا واقعہ تحریر کیا تھا ایک امیر رہتا اس کے پاس بہت مال و دولت بہت جمع ہو جاتا وہ موسی علیہ السلام کو بولتا۔ 
اے موسی میرے پاس مال و دولت بہت ہے اللہ کو بول اب بس نہیں چاہیے مجھے اور کچھ۔ اس کے بعد ایک غریب ملتا بولتا اے موسی تو کلیم اللہ ہے اللہ سے بات کرنے جا رہا ہے نا۔ تو بول اللہ کو میں بہت غریب ہو اور مجھے اللہ مال دار بنا دے۔
موسی اللہ سے بات کرکے واپس آتے ہیں اور مالدار سے کہتے ہیں تو اللہ کی ناشکری کر تیرا مال کم ہوجائے گا۔
وہ کہتا ہے۔ اے موسی میں ناشکری نہیں کر سکتا تو اللہ اس کے مال و دولت میں اور اضافہ کر دیتے ہیں۔
غریب کو بولتے کہ اللہ نے کہا اس کی شکر گزاری کر غریب کہتا ہے میں اس کی شکر گزاری کروں؟
شکر گزاری کرنے میرے پاس کیا ہے سوائے اس لنگی کے تو ایک زور دار ہوا چلتی ہے اور اس کی وہ لنگی میں ہاتھ سے چلی جاتی ہے۔
اللہ کی نعمتوں کی ناشکری نہیں کرنا چاہیے۔
*زندگی دی دی ہوئی اسی کی ہے* 
*حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا*
 آج کا مقابلہ سچ میں بہت اچھا ہوا اور امید کرتا ہوں روٹی کی اہمیت کو آپ سمجھ گئے ہوں گے۔

*ہم لوگ وصال و ہجر پہ روتے ہیں زار  و زار* 
*دکھ  درد  اس  سے  پوچھئے جسے بھوک کھا گئی*

@⁨Ansari Shakeebulhasan⁩ 
بات نکلیں گی تو دور تلک جائے گی۔

اور بہت کچھ تو آپ کے اشعار نے سمجھا دیا۔ شکریہ لکھنا تو بہت چاہتا ہوں  مگر تنگی وقت کے سبب نتیجے کا اعلان کر رہا ہوں۔
نتیجے کا اعلان کرنا یہ بہت بڑی ذمہداری ہوتی اس میں کمی بیشی کو اللہ کے لیے معاف کرنا میں ایک نااہل ہوں پھر بھی کوشش کر لیتا ہوں۔

      *انعام      خصوصی* 

*جس بستی میں ہم بستے ہیں* 
*روٹی مہنگی غم سستے ہیں*
@⁨~قا ضی فردوس فاطمہ⁩ 

آج کی تصویر پر اشعار 

تھکے تھکے ہوئے اٹھتے ہیں صبح وہ بچے 
وہ جو خواب میں روٹی تلاش کرتے ہیں 

ماں باپ جن کے آج حادثے میں مرگئے 
نظروں میں پھر رہی ہے صورت یتیم کی 

وفا سید @@⁨Syed Naseemuddin⁩ 

*ظالم نے ختم کر دیا ماں باپ بھائی کو*
*شفقت بھرے نوالوں سے محروم ہو گیا*

*🖊️ نثار وسیم چنپٹنوی*@⁨~NISAR WASEEM⁩ 

غربت نے میرے بچوں کو تہذیب سیکھادی
سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے

@⁨فرحت⁩ 

بھوک کی یہ شدت  بھی آخر کیا سے کیا کر دیتی  ہے 
مجبوراً  کل  بچوں  کی  ہم گڑیاں  بیچ  کے  آئے  ہیں
@⁨Hanpure Waseem Raja Sir⁩ 

      *انعام      اول*

بھوک  میری  ہمسفر  ہے  راستہ روٹی کا ہے
میری ساری شاعری میں ذائقہ روٹی کا ہے
پیٹ  پوجا  ہورہی  ہے  بندگی  کے  نام  پر
بھوک مذہب بن گئ ہے دیوتا روٹی کا ہے
@⁨.فرح نور محمد⁩ 

بے وقار  لمحوں  میں  بود و باش  کر نی  ہے
بھیک   بھی نہیں  لینی، بھوک بھی مٹانا ہے

بتاؤں کیا جو تعلق ہے پتھروں سے مرا 
انہیں بھی گھر میں ابالا گیا تھا بچپن میں

ساجد رحیم
@⁨Ansari Shakeebulhasan⁩ 
اس شعر نے حضرت عمر کا واقعہ یاد دلا دیا۔ خود اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوری لے آئے تھے۔ یاد آیا

روٹی امیر شہر کے کتوں نے چھین لی 
فاقہ غریب شہر کے بچوں میں بٹ گیا
@⁨~قا ضی فردوس فاطمہ⁩ 
 
*بھوک کو حاضر ناظر جان کے کہتا ہوں* 

*اک روٹی کی خوشبو عشق پہ بھاری ہے*
@⁨Gohar⁩ 

          *انعام     دوم*

*اک تناسب سے مجھ کو ملتا ہے*
*رزق ہے ، ماں کا پیار تھوڑی ہے*
@⁨Abdus Sattar Sir Nanded⁩ 
گاڑیوں کے ٹائر کے نشان سینے پہ پڑتے ہوں گے 
سڑکوں پہ کئی بچپن بھوک میں دب کے مرتے ہوں گے
@⁨Faheem Baji⁩ 

منہ کی بات سنے ہر کوئی دل کے درد کو جانے کون
آوازوں کے بازاروں میں خاموشی پہچانے کون
@⁨سید وقار احمد مشاعرہ گروپ⁩ 
اکیلا سہتا تو  ہوتے محسوس دُکھ 
بانٹ لینے سے دُکھ دُکھ نہیں رہتے 

مرتے ہیں وہ جو کھاتے ہیں چھین کر 
بانٹ کے کھانے والے بھوکے نہیں رہتے
@⁨Fauzia Baji Malik Amber⁩ 

بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے

ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک
@⁨Mohd Ashfaq⁩ 
@⁨Mujahed Sahab, Phd⁩ 

        *انعام     سوم*

یتیم بچے بلکتے ہیں گودیوں کے لیے 
غریب شہر ترستے ہیں روٹیوں کے لیے
@⁨Syed Huma⁩ 

یاد رہ جاتے ہیں احباب کے لطف وکرم۔           دن مصیبت کے بحر حال گذر جاتے ہیں
@⁨~Syed Shafiuddin Nehri⁩ 

بچوں کی فیس ان کی کتابیں قلم دوات
میری غریب آنکھوں میں اسکول چبھ گیا

@⁨Shaikh Naeem Aurangabad⁩ 
ان اشعار کو جمع کرکے نثری شکل دے تو فلسطینی بچوں پر مضمون بن جائے گا۔

Monday, November 20, 2023

پیشانی

.. *ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻔﺎﻅ کا ﻣﺎﮨﺮ.!!!*

*ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻇﮩﺎﺭ کا ﻣﺎﮨﺮ.!!!*

*ﻧﮧ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻓﮑﺮ ﺍﻓﻼﻃﻮﻥ.!!!*

*ﻧﮧ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﮐﻮﺋﯽ.!!!*

*ﺑﮩﺖ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺣﺴﺮﺕ ﮨﮯ.!!!*

*ﺑﮩﺖ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ.!!!*

*ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﻭ ﺑﺮﻭ ﺁﮐﺮ.!!!*

*ﮔﻮﺍﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ.!!!*

*ﮔﮕﻦ ﮐﮯ ﺳﺐ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ.!!!* 

*ﻓﻘﻂ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ.!!!*

*ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ.!!!*
مراسلہ وسیم راجا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
احباب بزم محفل مشاعرہ 
کیا سمجھے تصویر سے آپ؟
شادی ایک گڈا گڈی کا کھیل ہے۔ جنموں کا رشتہ ہوتا ہے؟ دنیا بننے سے ہزاروں سال پہلے لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا رشتہ ہے جس کو دو الگ الگ خاندانوں میں نایاب موتی کی طرح سنبھال کر رکھ دیا گیا۔ عورت کاہے سے بنی ہے بتا سکتے ہیں آپ؟ 
جی مردوا کی داہنی پھنسلی سے سیدھوا کرنے جائیے گا نا تو ٹوٹ پھوٹ جائینگی پھر مت کہنا بتایا نہیں ہمیں ناراض واراض مت ہوجائیے گا۔ ہا بتا رہے ہیں ہم۔

سیدھی بات کرتے انسان کا جوڑا اللہ نے بنایا ہے مگر ہم اسے پہچان نہیں پاتے مرد کے جسم کا حصہ ہوتی ہے عورت اور اسی کے ساتھ اتنا قریبی تعلق کہ کسی دوسرے کے ساتھ نہیں بن سکتا پھر بھی ایک مان کی بات ہوتی۔
پہلے زمانے میں عورتیں اپنی مجبوریوں کو والدین سے چھپا کر زندگی گزارتی تھیں ہر مصیبت کو والدین سے دور رکھتی تھیں۔ ایک ذراسی تکلیف برداشت نہیں کرتی۔
حالانکہ یہ اسی عورت کی بیٹی ہے جس نے خاندان کے ہر فرد کی مار سہی مگر اپنی بیٹی کو اتنا ڈومیننٹ بنا دیا کہ وہ اب شوہر کی بھی ایک بات برداشت نہیں کرتی۔
میرا اکثر کسی نہ کسی معاملہ میں فیملی کورٹ جانا ہوتا وہاں کے قصے سن کر عقل دنگ رہی جاتی ہے ایک ہفتے کی دولہن کورٹ میں کھڑی ہے طلاق کے لیے یہ خلع کے لیے وجہ جاننا چاہی تو پتہ چلا جوائن فیملی میں ہیں رہنا۔
پوچھا گیا کیوں نہیں رہنا تو جواب ملا اتنے صبح اٹھ کر گھر کا کام کرنے کی عادت نہیں۔ پھر روٹی ڈالنا نہیں آتی باہر سے بریڈ یا پاؤ لاؤ انڈا بنا کر کھلا سکتی ہوں۔ ساس برداشت نہیں ہوتی نند گھروں میں کیوں آتے جاتے ہر روز کیا رکھا ہے۔ 
میرے گروپ میں ایسا کوئی نہیں سب سب کو لیکر چلتے سب کا خیال رکھتے ہیں پھر بھی آج آپ نہیں ہیں ایسے مگر آپ جن کی تربیت کر رہے ہو وہ بن سکتے۔
میرے شہر میں چہل قدمی کے لیے حمایت باغ بہت مشہور ہے وہاں بہت ساری عورتیں آتیں ہیں۔ آج سے چھ سال پہلے میں اور دلاور خان حمایت باغ کے چار راؤنڈ لگایا کرتے ایک دن تھک کر ایک چبوترے پر بیٹھ گئے۔ اس کے سامنے والے چبوترے پر کچھ ضعیف خواتین بیٹھیں ہوئیں تھیں۔ ان میں سے دو آپس میں بات کر رہیں تھیں۔
آپا کسی ہے آپ کی بیٹی سسرال میں دل ول لگ رہا ہے کہ نہیں۔
جواب ملا کیوں نہیں لگے گا دل داماد جو اتنا اچھا ملا۔ روز صبح بیڈ ٹی دیتا بیٹی کو ویک اینڈ پر ہوٹل میں کھانے کو لے جاتا اور ہر مہینے دو مہینے کو ڈریس دلاتا۔ اور میرے سے روز فون پر بات کرتا بیٹی کی بھی کراتا نیا فون خرید کردیا۔ 
کیا بتاؤں آپا اتنا اچھا نصیب ہوا میری بیٹی کا پوچھو مت کچھ بھی کام نہیں گھر میں دو نوکر برتن کو کپڑوں کو اور کیا ہونا ۔
اچھا آپا بہو؟
اجاڑ صورت ہے ہر وقت رونا رونا لگا ہے۔ صبح جلدی اٹھنے کا نام نہیں بیڈ ٹی ہونا کتے اس کو اور ہر ہفتے کو آؤٹنگ کراؤ میم صاحب کو میرے بیٹے کی تو قسمت پھوٹ گئی۔
ہر کوئی اپنی شریک حیات کو خوش رکھنا چاہتا ہے مگر آپس میں سمجھوتہ ایکسپریس کا ہونا ضروری ہے۔
دونوں کو ایک دوسرے کو ساتھ لے کر اور ایک دوسرے کے رشتے داروں کا احترام کرکے زندگی گزارنا پڑتا ہے۔
کوئی مرد بار بار اس کے ماں کی برائی نہیں سن سکتا آخر اس کی ماں اتنے سال اس کی پرورش کی وہ اچانک اتنی بری کیسے ہوسکتی ہے۔ شکایتوں سے دور رہیں۔
ایک لڑکی کی شادی ہوئی کسی نے مجھ سے کہا کچھ نصیحت کرو میں نے کہا۔
*"اگر زندگی اچھے سے گزارنا مقصد ہو تو ادھر کی بات ادھر مت کرو جہاں کی چیز وہیں دفن کرو دلوں پر راج کرنا سیکھو زمین پر راج کرنے سے بہتر دل پر راج کرنا ہے۔ دوسروں کی غلطیوںکو بھولنے کی کوشش کرو اور جہاں تمہارےرائے کی قدر نہ ہو وہاں خاموش رہو کامیاب ہو جاؤں گے"*
 رشتے جہاں کمزور ہوتے ہیں وہاں کم جانے میں عافیت سمجھنا۔ ویسے بھی دو رشتے کبھی الٹے ہو ہی نہیں سکتے ایک ساس کا اور دوسرا داماد کا کر کے دیکھ لو ساس ساس رہے گی اور داماد داماد رہے گا۔ 
میرے دوست دلاور کی شادی ہوئی۔ عید پر بیگم سسرال والوں سے ملانے گھر لے گیا۔ ساس کہنے لگی۔ *"آئی ماں ! کتنے دونوں کے بعد آئی میری بیٹی؟ کب آئے دوبئی سے؟"*
دلاور کا دل وہاں ٹوٹ گیا وہ خوشی خوشی لے گیا تھا مگر وہاں رسوائی ہاتھ آئی۔
اس کے دو سال بعد ساس کا انتقال ہوگیا جنازے میں شرکت سے میں قاصر رہا۔ اسکول کے بعد اس کے گھر گیا پرسہ دینے کی خاطر دو تین ہمدردی کے جملے کہے ہی تھے کہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھا پھر بولا اچھا ہوا یار مر گئی ساس ٹینشن دور ہوا۔ تب وہ مجھے گلے لگا پر بہت رویا اور کہا۔ بہت طعنے دیتیں تھیں مرحومہ۔
ایسے طعنوں سے بچنا چاہیے کیا کہتے آپ ہمارے گروپ میں کچھ کنوارے ہیں ان کے لیے میرا یہ ہدایت نامہ کامیاب زندگی کے لیے کارآمد ثابت ہوگا۔
میرا چھوڑو میں وہ ہوں جسے کسی سے کوئی مطلب نہیں زندگی ہے جب تک زندہ ہے اس کے بعد کون کس کو یاد رکھتا ہے۔ ہم نے کتنوں کو یاد رکھیں ہاں؟
بات کرتے ہیں تصویر کی تو صاحب یہ تصویر کہتی ہے تیرا ساتھ نبھانے کی ہر دکھ سکھ میں ساتھ دینے کی ایک بہترین دوست بنانے کی۔
دیکھو کیا کہتا ہے یہ رشتہ!

*ستاروں کی بات نا کرے کوئی*
*میرے رابطے میں کوئی چاند سا ہے*

*سیدہ ہما غضنفر جاوید*
یہ شعر مقابلے کا حصہ نہیں ہے

جب آپ کا والٹ خالی ہو سواۓ وزٹنگ کارڈ اور کچھ غیر ضروری پرچیوں کہ اس میں کچھ بھی نہ ہو اور کوئی چپ کے سے اس میں پانچ سو کا وہ نوٹ رکھ دے جو اسے عید پر ماں نے دیا ہو 

جب آپ ایک سال کی بے روزگاری کے بعد بڑی ہمت سے پھر نوکری کی تلاش میں نکلیں اور شام کو ناکام واپس لوٹیں اور کوئی مسکرا کر آپ کے ماتھے پر بوسہ دے دے 

جب آپ کی سالیاں اونچے گھروں میں شادی شدہ ہو ہر شادی پر دو دو تین تین نۓ سوٹ پہنتی ہوں اور کوئی ایک ہی جوڑے سے مختلف شادیاں ہنسی خوشی نمٹا آۓ تم سے نۓ جوڑوں کا مطالبہ نہ کرے 

جب آپ کے گھر کو چلانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہو اور کوئی سلائی کی مشین دھر لے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دے اور دو چار پیسے جوڑ کر گھر کے خرچوں میں ہاتھ بٹانا شروع کر دے 

جب آپ انتہائی ڈپریشن میں دو چار کڑوی باتیں کر جائیں اور کوئی خاموشی سے سن کر کمرے سے نکل جاۓ اور پھر چاۓ کا کپ تھامے تھوڑی دیر مسکراتی ہوئی واپس آ جاۓ 

جب آپ مسلسل بے روزگار ہوں اور کوئی پیسے نہ ملنے پر میکے چلے جانے کی دھمکی نہ دے 

تو سمجھ جانا کہ وفا کی مٹی سے گوندھی گئی ایک عورت تمہیں نصیب ہوئی ہے 

تم اس کا سہارا بننا اس کی حفاظت کرنا کوئی اس کا مذاق اڑاۓ تو اس کا اعتماد بننا بھری محفل میں اس کی بے عزتی نہ کرنا شرم کے گھنگرو توڑ کر اس کی تعریف کرنا اس کے ماضی کے کسی بھیانک سچ پر اس کی طرف سے وکیل اور جواب بننا 

باخدا تمہاری جوڑی جچے گی تم اس کائنات میں جنت کی جھلک دیکھو گے۔۔۔

             *انعام اول*
تیری آنکھوں کی سہولت ہو میسّر جِس کو
وہ  بھلا  چاند  ، ستاروں  کو  کہاں دیکھے گا

ابھی شادی نہیں ہوئی مگر با وفا شخص ہے شادی بعد سب ان کی آنکھوں میں دیکھنے کے خواہاں ہیں 
*شکیب بھائی*
جلتے دیے سا اک بوسہ رکھ کر اس نے
چمک بڑھا دی ہے میری پیشانی کی
*ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب*
عاقل ہے ، باشعور ہے ، کافی ذہین بھی
اس پر ہے مستزاد وہ از حد حسین بھی

بوسہ کسی بھی پھول کا ہم نے نہ لیا تھا 
رخسار منتظر رہے ، لب بھی ، جبین بھی
یہ ہوتی ہے پاکیزگی 

*سید عبدالستار سر*

تمہارا حسن آرئش تمہاری سادگی زیور 
تمہیں کیا ہی ضرورت ہے بنے سنورنے کی
کاش  کہ ہر کوئی ایسا کہیں 
*سید نسیم الدین وفا*

            *انعام دوم*
سنو آنکھوں سے بڑھ لینا وہ ساری ان کہی باتیں
کوئی پوچھے تو کہ دینا بہت ہی رازداری ہے
*فرحت باجی*
شب فرقت کو میں جب زندگی میں جوڑنا چاہوں
جدائی میں اٹھائے جو خسارے رقص کرتے ہیں
*عتیق احمد خلد آبادی*
یوں رُخ سے اٹھایا ہـے عدمؔ یار نـے پردہ
جیسے مرے وجدان کی تفسیر ہوئی ہـے

 عبدالحمید عدمؔ
*فریسہ جبین باجی*

زمیں کا چاند بھی وہ مشک بھی گلاب بھی وہ

جو برف ہو یہ لہو شہرِ آفتاب بھی وہ

اسی کے رنگ مری حسرتوں کے قالب میں

بدن رُتوں میں مہکتا خطاب بھی ہو

*صوفیہ عطار صاحبہ*

             *انعام سوم*
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

داستاں ختم ہونے والی ہے
تم میری آخری محبت ہو

*مسعود رانا صاحب* شادی کے محبت آخری رہتی کوئی نہیں ملتا اور نہ کوئی دانہ ڈالتا

عجب عالم ہے آغاز سرور عشق کا عالم
اٹھے جیسے افق سے ماہتاب آہستہ آہستہ

سکوں ہے ہمنوائے اضطراب آہستہ آہستہ
محبت ہو رہی ہے کامیاب آہستہ آہستہ
*آفرین خان صاحبہ*


بجھتی آنکھوں میں ترے خواب کا بوسہ رکھا
رات پھر ہم نے اندھیروں میں اجالا رکھا
*مرزا حامد بیگ صاحب*

میرے ہونٹوں سے جو سورج کا کنارہ ٹوٹا

بن گیا ایک ستارہ تری پیشانی پر
*قرۃالعین صاحبہ*

Monday, May 22, 2023

مرد کیوں روتا ہے

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ* 
محترم احباب بزم محفل مشاعرہ
امید خیر وعافیت سے ہوں گے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ *مرد کب روتے ہیں؟*
*مرد روتے ہیں جب ان کی مائیں فوت ہو جاتی ہیں.... مرد روتے ہیں جب وہ اپنے پیاروں کی ضرورتیں پوری نہیں کر پاتے.....*

*مرد روتے ہیں جب ان کا کوئی بچہ بیمار ہوتا ہے ۔ مرد اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے وقت روتے ہیں.....*

*مرد اس وقت روتے ہوتے ہیں جب وہ اپنے بچوں کے لئے کھانے پینے یا کسی بھی ضرورت یا معمولی سی خواہش کا بندوبست نہیں کر پاتے ۔۔۔*

*مرد روتے ہیں لیکن مردوں کے آنسو گال پر آنکھ سے نہیں گرتے اور نہ ہی ان کے آنسو کسی کو نظر آتے ہیں ... یہ دل سے روتے ہیں اور ان کے آنسو دل پر ہی گرتے ہیں جس کا اثر چہرے کی جھریاں بالوں کی سفیدی اور کانپتے ہاتھ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں ...
19 ستمبر 1999 کے دن پہلی بار میں نے میرے والد محترم کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے اس دن میری دادی زیتون بی کا  انتقال ہوا تھا۔ میرے والد کی عمر دو سال کی تھی تب میرے دادا سیف اللہ خان کا یرقان کے سبب انتقال ہوا تھا۔ وہ مرد جس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنے والا کوئی نہیں پھر بھی زندگی بقاء کے لیے دگ و دو کرکے اپنا ایک مقام بنانا اور اس مقام کو حاصل کرنے کے لیے ماں کی دعاؤں کا سہارا لینا اور جب وہ سہارا چھوٹ جائے تو آنسوؤں کا جاری ہونا بنتا ہے ایک ماں ہی ہوتی ہے جو اولاد کو ۹ ماہ کوکھ میں ۳ سال گود اور پھر زندگی بھر دل میں رکھتی ہے۔ میں اپنے بچپن میں دیکھا کہ ایک قابل عورت کس طرح سے خاندانوں کی تربیت کرنے کا ہنر رکھتی ہے میرے گاؤں کا جو گھر تھا جو تقریبا ۱ ایکڑ کی زمیں پر مٹی کا بنا ہوا تھا گاؤں کا ہفتہ واری بازار کے سینٹر میں تھا پیر کے روز بازار بھرا کرتا آس پاس کے گاؤں والے سامان خریدنے جب آتے اس دن ہمارے گھر میں بڑی چہل پہل ہوتی دادی اور والدہ ایک بڑے سے رنجن میں سالکری سے پینے کا پانی بھرا کر رکھ دیتے دن بھر جس کو ضرورت ہوتی آتا پانی پیتا  نیم کے درخت کے سائے میں دوپہر کا کھانا کھاتا وہ منظر میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا گیہوں چھاننے دال بنانے کلڈایاں سکھانے عورت یا لڑکیاں گھر میں آتیں  ان کی تربیت اور سلائی کڑھائی سکھانا ان کو سلیقہ سکھانا میری والدہ کا کام تھا اور والد محترم کو کبھی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا کہ انھیں کیوں جمع کرتے ہو۔ 
میرا کیا ہے قصہ ایک شروع کرتا اور دوسری کہانی میں گھس جاتا ہوں۔
بات چل رہی کی مرد کے درد کی تو مرد صرف مرد کو ہی ہوتا ہے ایسا نہیں ہے درد عورتوں کو بھی ہوتا ہے مگر وہ چیخ کر چلّا کر رو دھو کر اپنا درد عیاں کر دیتی ہیں۔ مگر مرد کو رونے کے لیے سوائے تنہائی کے کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
درجہ بالا تصویر میں ۳ تصویروں کا مجموعہ شامل ہے جس میں سے مرد کے درد کی بات ہوچکی مگر وہ سوتی ہوئی لڑکی تو وہ کوئی اور نہیں وہ ہر بات کی لاڈلی بیٹی ہے جسے وہ سوتا ہوا دیکھ اس کی معصومیت پر روتا ہے۔ کسی نے کہا تھا اگر وقت کا بادشاہ ہو اور اس بیٹی گھر میں بیٹھی ہو تو وہ بھی فکر میں روتا ہے اللہ ہر بیٹی کے نصیب اچھے کرے خوش رکھے شاد رکھے آباد رکھے۔
*جب جب جہاں جہاں مجھے تیری ضرورت پڑی* 

*تب تب وہاں وہاں میرا ساتھ چھوڑنے کا شکریہ*
آخری تصویر جس میں ایک عورت اپنے بچوں کو لیے کہیں جا رہی ہے مگر کہاں اور کیوں؟
ہر ایک سوچنے کا زاویہ الگ ہوگا کوئی سوچے گا وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر جارہی ہے۔ اس کا یہ سوچنا بھی جائز کیونکہ آج کے دور میں ہر کوئی توجہ چاہتا ہے اور ہم اپنے اقرباء کو توجہ نہیں دے پا رہے کیونکہ ہر جگہ दोघात तीसरा موجود یعنی وہ وسیلہ جو آپ کے اور میرے ہاتھ میں موجود ہے ہر کوئی اس سے پریشان ہے اصل میں ہم کو اس کی لت لگ گئی ہے جس کے سبب سب چھوڑ کر جانے کے لیے تیار ہے۔ 
اگر ہم اپنے گھروں کی خوشیوں کو برباد ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو اس کا کم سے کم استعمال کریں۔
جو آپ کو بھول گئے۔ چھوڑ گئے۔ ۔ آپ انہیں نہیں بھول پا رہے ۔ حد نہیں ہے ویسے ؟؟ کہاں گئی آپ کی عزت نفس ؟؟ اس کےلئے آپکو بھولنا ، چھوڑ جانا آسان ۔ مگر آپ کےلئے نہیں ۔۔واہ واہ ، بہت خوب ۔ ۔ ۔کیا آپ کا رونا ، اداس ہونا ،  محبت ، جذبے ، اتنے ہی غیر اہم ہے یار کہ کسی ایسے بندے کے لئے ضائع  کرو ؟؟

مانا کہ یہ تکلیف سہنا مشکل مگر ۔ ۔ وقت گزرتے ساتھ کم ہوتے ہوتے ختم ہو ہی جاتی ہیں صاحب ۔ ۔شرط یہ ہے کہ سوچوں پر قابو ہو ۔ کوئی گری پڑی شخصیت نہیں آپ کی کہ کوئی تمہیں چھوڑے ، بھولے اور تم پھر بھی پیچھے پیچھے لپکو ۔ ۔ لیو اٹ ناؤ ۔ ۔ ۔پہلے اپنے آپ کو ، اپنے جذبوں کو " خود اہمیت " دو گے تو کوئی اور دے گا ۔ 

یاد رکھو ایسے کمزور بنو گے تو روتے رہو گے ، رگڑے جاؤ گے ، پیچھے رہ جاؤ گے بے قدرے ہو جاؤ گے، ۔ ۔ ۔نہیں ، نہیں ۔ ۔یہ سب تمہیں بلکل بھی سوٹ نہیں کرتا یار ۔ ۔ اس لئے اٹھو ، مسکراو اور خود کو بدلو تاکہ کچھ لوگوں کو پچھتاوا کے مستقل مرض میں مبتلا کر سکو ، اپنے don't care attitude کے ساتھ کہ زندگی بہت خوبصورت ہے۔

ہم تیری ہی محفل سے سبق اندوز ہوئے ہیں
 کہ گل اپنے چمن کے ویران نہیں کرتے۔

بس بہت ہو گیا رونا دھونا اب نئے سرے سے زندگی کا آغاز کیجیئے۔⁦
*کِسی بھی شخـــص کو اتنا*
*حق مت دیجیئـــے کہ وہ*
*فیصلـہ کرے کہ آپ کو*
*کب ہنسنــا ہے اور کب رونا ہے*
اپنوں کو وقت دو اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ بولو ان کے ساتھ ہنسوں کھیلو گدگداؤ۔ خیر باتیں تو بہت ہے مگر ایک بات یاد رکھو *میرے پاس تم ہو*

🌹🌹🌹 *انعام اول* 🌹🌹🌹
*چھوڑ کے مجھ کو کیا گیا وہ شخص*
*تب سے سب کچھ ہی لٹ گیا میرا*
ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب
*‏تم نے دیکھے ہیں کبھی؟درد کو سہتے ہوۓ لوگ*
*بھیگی آنکھوں سے ، "سب اچھا ھے" کہتے ہوۓ لوگ*
سیدہ ھما غضنفر جاوید صاحبہ 
*آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا*
*ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر*
قاضی فوزیہ انجم صاحبہ
 🌹🌹   *انعام دوم*  🌹🌹

*جہاں خوشیوں کی سرگم ہے وہاں پر غم بھی ہوتے ہیں*
*جہاں بچتے ہیں نقارے وہیں ماتم بھی ہوتے ہیں*

مہرالنّساء مہرو بیجاپور کرناٹک

*ضبط سے بڑھ کر اگر درد چھپایا جاۓ* 

*حوصلے ٹوٹ کے آنکھوں سے نکل آتے ہیں*
خان گوہر نایاب فضل اللہ خان 

*وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا*

*کس گھر میں خوشی ہوتی ہے ماتم نہیں ہوتا*
فہیم سر
*ہر درد پہ شرط لگاتے ہو۔۔۔۔۔!!*
 *آواز نہ نکلے سسکیوں کی...!!*
*کوئ پوچھ لے آکے ہم سے کبھی*
 *کیوں تار بندھی ہے ہچکیوں کی...!!*
فہیم خاتون مسرت باجی
❤️❤️ *انعام سوم* ❤️❤️
*تو نے دیکھا ہی نہیں چھوڑ کے جانے والے*
*کیسے روتے ہیں محبت کو نبھانے والے*
ایم کے وسیم راجا
*محبتیں  بھی منافقوں کو  مِل گئیں ،  بٗرا  ہوا* 
*یہ لوگ سوچتے نہیں کسی کو چھوڑتے ہوئے*
عبدالستار سر
*کیا پوچھتے ہو درد کہاں ہے کہاں نہیں ہے*
 *رکہا ہے تم نے ہاتھ جہاں بس وہاں نہیں*
سید شفیع الدین نہری
*دھوپ میں باپ،  چولہے پہ ماں جلتی ہے*
*تب کہی جا کر اولاد پلتی ہے*
رازق حُسین
*روٹھ کر آنکھ کے اندر سے نکل جاتے ہیں*
*اشک بچوں کی طرح گھر سے نکل جاتے ہیں*
ثنا ثروت صاحبہ

Sunday, May 21, 2023

ہچکی

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
_احباب بزم محفل مشاعرہ!_
*_ایک ہچکی میں کہہ ڈالی سب داستان_*
*_ہم نے قصہ کو یوں مختصر کر لیا_*

بچپن میں جب کبھی ہچکیاں آتی یا کسی کی سنائی دیتی تو گھر والے اکثر کہا کرتے تھے کی کوئی یاد کر رہا ہے شاید اب ان ہچکیوں کو روکنے کا تدارک کیا تھے؟ تو بتایا جاتا کہ جو تمہیں یاد کر رہا ہے اس کا نام لو، اگر اس شخص کا نام لینے پر ہچکی رک گئی تو سمجھ جاؤ اسے تمہاری یاد بڑی شدت سے آ رہی ہے۔ 
میں بھی کبھی اس کھیل کا شکار ہوگیا اور مجھے ہچکیاں لینے کی لت لگ گئی اور میں دوستوں کے نام لینے لگا جس دوست کے نام پر ہچکی رکتی اس کو اپنا بہترین دوست جانتا۔ اچھا کھیل تھا مگر اب ہچکیاں آنا ہی بند ہوگئی مانوں سب چاہنے والوں کی چاہتیں ختم ہوگئی سب آشنا نا آشنا ہوگئے، دل محبتوں سے خالی ہوگئے دلوں پر اداسیوں کا راج ہونے لگا۔
ایک وقت تھا کسی کے آنے اور جانے کے وقت مقرر ہوا کرتے تھے گھڑیاں اتنی نہیں تھیں جتنی آج ہوا کرتیں ہیں مگر لوگوں کے پاس وقت تھا ایک دوسروں کو یاد کرنے کی وجہ تھی، جب کبھی کسی کی یاد آتی اس کا عکس بھی پانی میں کبھی درپن میں کبھی کسی کے مسکراتے چہرے میں نظر آ جاتا تھا۔ آج ہچکیاں آنا بند ہوگئی لوگ یاد نہیں کرتے آئینوں میں اب کسی کا عکس نہیں دکھتا لوگ اب اپنی ہی پرچھائیں سے ڈرنے لگے ہیں لوگوں کو تو اپنے زندہ رہنے کی وجہ بھی یاد نہیں رہی ہائے بے ہسی ہائے رے بربادیاں آج ہر یہ محسوس کرتا ہے کہ میں آباد ہوں مگر مجھے نہیں لگتا۔
ہچکیاں آکر مجھے تسلی دیا کرتیں تھیں کہ یاسر تمہیں یاد کرنے والے احباب زندہ ہے کوئی پردے کے پیچھے سے تمہاری آبادی کی دعا مانگ رہا ہے۔ آج کل کسی کسی کی سسکیاں ہچکیوں میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
*ہچکیاں ایک ایسی پراسرار بیماری یا عادت ہے جس کے بارے میں ڈاکٹرز بھی تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے البتہ اب تک ہونے والی تحقیقات میں یہ بات ضرور سامنے آئی تھی کہ ہچکیاں بچوں کی نشو و نما کے لیے مفید اور نوجوانوں کے لیے پریشان کُن ہیں* 
ویسے بھی ان ہچکیوں کا سامنا ہر انسان کو اس کی پیدائش سے لے کر موت کے آخری مرحلے تک کسی نہ کسی لمحہ کرنا ہوتا ہے ایک آخری ہچکی زندگی کے تار کو توڑ دیتی ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے 
*ہچکیوں پر ہو رہا ہے زندگی کا راگ ختم* 

*جھٹکے دے کر تار توڑے جا رہے ہیں ساز کے*
*فہیم سر*
آئیے رخ کرتے ہیں نتیجے کی طرف

🌹🌹🌹 *انعام اول* 🌹🌹🌹 
اسی نے یاد کیا ہوگا مجھ کو شدت سے 
کہ اس کا نام لیا اور ہچکییاں غائب  


یہ ہچکیوں کا تسلسل یہ قلب کی دھڑکن 
کسی جگہ تو میرا ذکر ہورہا ہوگا----
*سید نسیم الدین وفا* سر پہلی ہچکی والی کہاں ہے ویسے سر آپ کی دونوں ہچکیاں قبل قبول اور قابل ستائش ہے 


کنارے ، سانس کی ، سب کشتیاں لگی ہوئی ہیں
چلے  بھی  آؤ  !  کہ  اب  " ہچکیاں "  لگی  ہوئی  ہیں

رات سسکیوں اور ہچکیوں کی تکرار چلی
ہمہ  تن  گوش ،  ہم اشک  چھپاتے  رہے
*سید عبدالستار سر*🧑‍🏫
جو زیادہ یاد آؤں میں تو تم جی بھر کے رو لینا

اگر ہچکی کوئی آۓ سمجھ لینا کہ وہ میں ہوں
*ایم کے وسیم راجا*👨‍🦱

کبھی جو ہچکیاں آی تو پانی پی لیا کرنا
کبھی یہ فرض مت کرنا ۰ تمہیں ہم یاد کرتے ہیں
*قاضی فردوس فاطمہ*

❤️❤️❤️ *انعام دوم* ❤️❤️❤️

نزع کی آخری ہچکی کو ذرا غور سے سُن
زندگی بھر کا خلاصہ اسی آواز میں ہے

*فہیم خاتون مسرت صاحبہ* 👩‍🏫
جاں کنی وہ کہ فرشتے بھی پناہیں مانگے
آپ آئیں تو مری آخری ہچکی نکلے
*ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب*👨🏻‍⚕️
ایک نالے میں ساری رات گئی
ایک ہچکی میں کائنات گئی
بہت خوب *قاضی فوزیہ انجم صاحبہ* 
یہ ہوتی ہے محبت واہ ڈاکٹر صاحب 

آخری ہچکی بھی تیرے زانو پر آۓ
موت بھی شاعرانہ چاہتا ہوں
 یہ شعر پہلے فوزیہ باجی پھر *فہیم خاتونمسرت باجی* نے پھر *فرح نور محمد* صاحبہ نے ارسال کیا 💐

💐💐💐 *انعام سوم* 💐💐💐
وصل اک خواب, آخری ہچکی
عشق ہجرت کا استعارہ تھا

جسکو سمجھا تھا یہ محبت ہے
وہ تو حرفِ سُخن تمہارا تھا
*سیدہ ھما غضنفر جاوید*🤵🏻‍♀


وقت نزع جنبش لب سے اک آہ نکلی

فسانہ عمر بھر کا آخری ہچکی میں تھا


*خان گوہر نایاب فضل اللہ خان*💐
سسکیوں ہچکیوں آہوں کی فراوانی میں
الجھنیں کتنی ہیں اس عشق کی آسانی میں

*خان آفرین*

مجھے یاد کرنے سے یہ مدعا تھا

نکل جائے  دم  ہچکیاں  آتے آتے
*فہیم سر اورنگ آباد*

تجھ کو ہی سوچتا رہوں فرصت نہیں رہی
اور پھر وہ پہلے والی طبیعت نہیں رہی

وہ ہچکیوں سے روتا رہا اور میں چپ رہا
شاید یہ سچ ہے مجھ کو محبت نہیں رہی
*مسعود رانا صاحب*
آخری سسکی اگر آدھی گلے میں رہ جائے
کاش مل جائے کوئی کرب سمجھنے والا
آخری ہچکی ابھی دور سہی دور سہی
شام کا اپنا ہی انداز ہے دکھ دینے کا

*شیخ عبدالرازق حسین*
چاند ڈوبا ہے کہیں کرب زدہ ہچکی میں
رات بیٹھی ہے کوئی درد کا مارا لے کر
*مرزا حامد بیگ صاحب* کافی تاخیر سے ۱۰ بجکر ۵ منٹ پر