Saturday, February 4, 2023

ذمہداری

اے زندگی تیری چالوں نے ہمیں جینا سکھا دیا
ورنہ دوغلے لوگوں میں کیسے گزارہ یہاں ہوتا

میں نے سبھی ریاضتوں کو رایگاں جانے دیا
کرتی گلا جو میرا کوئی دکھ تم پہ عیاں ہوتا

ہمیں تو لفظوں کے تیروں  سے چھلنی کیا گیا
ہم جو کچھ کہتے تو تم  سے برداشت کہاں ہوتا

ہم نے زندگی کے ہر رنگ سے تم کو آگاہ رکھا
آج سوچتے ہیں کوئی راز تو تم سے پنہاں ہوتا

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
احباب بزم محفل مشاعرہ
ایک تصویر اور اس کے کئی مطلب کبھی انسان اس تصویر خود کو ڈال کر دیکھتا ہے اور کبھی اپنے عدو کو بہرحال انسان اپنے بارے میں سی سوچتا ہے۔ آج جس تصویر کا نتیجہ پیش کیا جارہا ہے وہ آج کے دور کی سچائی ہے ہم اتنے خود پسند ہوگئے کہ ہمیں اپنے علاوہ اور دوسرا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔
*ہم نے سات چیزوں پر ایمان لائے اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں اور آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے اور دوبارہ اٹھائے جانے پر۔*
ہم سب باتوں کو قولا اور عملا مان رہے ہیں مگر تقدیر کا گلا ہم سے نہیں جاتا۔
*‏ہزاروں نا مکمل حسرتوں کے بوجھ تلے*
*یہ جو دل دھڑکتا ہے ، کمال کرتا ہے....!!*
یہی شکر گزاری ہے وسیم راجا صاحب آپ کے اس شعر میں بہت دم ہے۔ اس طرح کا حوصلہ ہم سب میں ہونا چاہیے اکثر خواتین کو میں نے سنا ہے وہ اپنی تقدیر کا گلا کرتی ہے کہ ایسا ہوا نہیں وہ ملا نہیں یہ کیا نہیں، ایک آدمی زندگی کی آخری سانس تک اہل خاندان کی ضرورتیں پوری کرنے میں مصروف رہتا ہے اس کی ساری زندگی دوسروں کے لیے خوشیاں خریدنے میں ختم ہو جاتی ہے اور وہ خوش بھی اسی میں ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے سب خوش ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے اس کی اس کامیابی میں اس کی شریک حیات کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے وہ جو چاہتی ہے اس سے کروا کر رہتی ہے اسی لیے کہتے ہیں نا کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ویسے بھی عورت سے مراد ماں بیوی بیٹی اور بہن ہے خاندان تو ان کی ہی بدولت بنتا اور بکھرتا ہے۔اسی لیے تو علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
*وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ*

*اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں*
یہ ہمارے سماج کی بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ لڑکوں کی پیدائش خوشی کا باعث سمجھتے ہیں بلکہ صرف لڑکوں کی پیدائش کے دن ہی سب خوشیاں مناتے ہیں اور باقی تمام زندگی لڑکا عورتوں کی خوشیوں کے لیے مرمر کرتا ہے۔ بھاگم دوڑ کرتا ہے۔ آپ اگر غور کریں تو اکثر مرد آج بھی سال میں ایک مرتبہ ہی اپنے لیے کپڑے سلاتا اگر چپل یا جوتا پھٹ جائے تو اس کی مرمت کرکے پہنتا ہے گھر کی اسے کوئی خواہش نہیں ہوتی امیر ہوں دکھانے کی کوئی چاہ نہیں ہوتی اس کی کوئی حسرت نہیں ہوتی سوائے ایک بہترین شریک حیات کے اور وہ اسی شریک حیات کی حسرتوں کو پورا کرنے کے لیے اسے خوش رکھنے کے لیے اس طرف ہر حال میں گھر کو گھسیٹ کر چلتا رہتا۔
بہت ہوگی ادھر ادھر کی بس ایک آخری بات عورتوں کو بھی چاہیے کہ اپنے خاوند کا خیال رکھے کیونکہ وہ آپ کا مجازی خدا ہے۔ ویسے ہمارے گروپ میں ایسا کوئی نہیں جو اس نصیحت کا حقدار ہو پھر بھی بولنے میں کیا جاتا ہے کبھی کبھی کوئی بات ہوجاتی جو برداشت کے باہر ہوجاتی ہے۔ آپ تمام با سمجھ اور با سمجھ احباب کا کام نا سمجھ افراد کو سمجھ دینے کا ہوتا ہے آج کل کے معاشرے میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر نااتفاقی ہوکر بڑے بڑے جرموں کے مرتکب ہو رہے ہیں لوگ انھیں سمجھانا ہماری ذمہ داری ہے ہماری ذمہداری ہے کہ ہم اپنے گھروں کے علاوہ دوسروں کے گھروں کو بھی ٹوٹنے سے بچائے انھیں show off سے روکے انھیں بتائے کہ مقدر میں جو ہے مل کر رہتا ہے اور مقدر کی روزی بڑھانا ہے تو شکر کے کلمات کو بولو اور اپنی روزی بڑھاؤ۔
*خود سے لڑتا ہوں ، بگڑتا ہوں ، منا لیتا ہوں*

*میں نے تنہائی کو ، ایک کھیل بنا رکھا ہے*
مراسلہ گوہر نایاب فضل اللہ خان

👑👑 *آج کل پہلا انعام* 👑👑
یہ ذمہ داریوں کو نبھانا بھی ایک ذمہ داری ہے
چلتی رہتی ہے ساتھ ساتھ گور تک خوشی
*محترمہ مسرت طاہر عرف خوشی*
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
*فرحت جبین باجی*
اک دن اپنا آپ سمیٹا ، اس کوچے سے کوچ کیا
میں نے اپنی قیمت جانی اپنی ہی ارزانی سے
*وسیم راجا صاحب*

🌹🌹 *دوسرا انعام حاصل کیا ہے* 🌹🌹
غم زندگی ،غم بندگی ،غم دو جہاں غم کارواں
میری ہر نظر تیری منتظر تیری ہر نظر میرا امتحاں
آہستہ چل اۓ زندگی کئی قرض چکانا باقی ہیں
کچھ درد مٹانا باقی ہیں کچھ فرض نبھانا باقی ہیں
*ثنا ثروت صاحبہ*
گھر چھوڑنے کا جب بھی ارادہ کیا محسن
قدموں سے اسکی یاد کی خوشبو لپٹ گئ
محسن نقوی صاحب
*محترم سرتاج شاکر سر*
دنیا بہت خراب ہے جائے گزر نہیں
بستر اٹھاؤ رہنے کے قابل یہ گھر نہیں
*سید وقار احمد سر* 🍁

💐💐 *انعام سوم* 💐💐
اے دوست اب سہاروں کی عادت نہیں رہی
تیری تو کیا کسی کی ضرورت نہیں رہی !

اب کے ہماری جنگ ہے خود اپنے ہی آپ سے
یعنی کہ جیت ہار کی وُقعت نہیں رہی !

عادت اکیلے پَن کی جو پہلے عذاب تھی
اب لُطف بن گئی ہے اذیت نہیں رہی !
*گوہر نایاب خان*
مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
کسی موڑ پر پھر ملاقات ہو گی
*مرسلہ عبداللہ خان ممبئی*
زندگی تو اپنے ہی قدموں پہ اچھی لگتی ہے صاحب
اُوروں کے سہارے تو جنازے اٹھا کرتے ہیں
*محمد اشرف الدین سر لکی*
در و دیوار پہ حسرت سے نظر کرتے ہیں
خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں
*ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب*
یہ شہر سارا تو روشنی میں کھلا پڑا ہے سو کیا لکھوں میں

وہ دور جنگل کی جھونپڑی میں جو اک دیا ہے وہ شاعری ہے


Tuesday, January 24, 2023

مہمان

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
محترم احباب بزم محفل مشاعرہ 
آج 89 اشعار موصول ہوئے 10 بجے تک 10 کے بعد کے اشعار کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔
میں عنوان یہ سوچ کر دیا تھا کہ مہمان کی تعریف اور اس کی خدمت میں کچھ بہترین اشعار مل جائے گے مگر ہائے افسوس ان اشعار میں مہمان سے بیزارگی کی بو میں نے محسوس کی شاید اسی وجہ سے ہمارے گھروں میں بے برکتی پیدا ہورہی ہے میں نے کہیں پڑھا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہما کے گھر مہمان نہیں آتا تو پریشان ہوجاتے اور یہ سوچا کرتے کہ میرا خدا تو مجھ سے ناراض تو نہیں۔
حضرت ابراھیــــــــم خلیل اللہ کے پاس مہمان آ گئے اور بغیر اللہ کا نام لیے کھانا شروع کیا تو اللہ کے خلیل نے انھیں بسم اللہ پڑھنے کے لیے کہا وہ ناراض ہوکر چلے گئے پھر کیا ہوا وہ تو آپ کو معلوم ہے۔ ہمارے گھروں سے مہمان نوازی کی روایت نکل چکی ہے ہم اب کہیں جاتے بھی نہیں اور کسی کا آنا ہمیں پسند بھی نہیں رہا ہم اعلی اسٹیٹس والی زندگی جینا چاہ رہے ہیں۔ مگر ہم سماجی جاندار ہے اک دوسرے کے بغیر نہیں جی سکتے کہیں نہ کہیں مہمان بن کر کسی نہ کسی کے در پر جانا ہی ہوتا ہے پھر لوگ کہیں گے
*خوش فہمیوں کی بات الگ ہے مگر یہ گھر*
*جس کے لیے سجا ہے وہ مہمان تم نہیں۔۔۔۔!!*
ہم دل تھوڑا بڑا کریں اللہ رزق کے دروازے کھول دے گا وہ واقعہ یاد ہوگا موسی کلیم اللہ کا کہ طور پر جا رہے تھے ایک غریب آدمی ملا اور کہا موسی اللہ سے پوچھ میری زندگی کتنی ہے کبھی کھانے کو ملتا ہے اور کبھی نہیں۔ موسی علیہ سلام جب واپس آئے اور اس سے ملاقات کی تو بتایا کہ مختصر زندگی ہے تب اس نے کہا اے موسی تو خدا سے کہہ مجھے میری پوری غذا ایک ساتھ دے دے تاکہ میں پیٹ بھر کھا کر مر جاؤں پھر کئی دنوں بعد موسی کا گزر اس غریب کے گھر کے پاس سے ہو تو دیکھا وہ تو لنگر پڑے ہیں اللہ سے موسی علیہ سلام نے پوچھا یہ کیسا اتنے دنوں تک جی لیا جب کہ اس کی غذا مختصر تھی تب اللہ نے کہا اس بندے کو جو میں نے غذا فراہم کی تھی تب اس نے اپنی تمام غریب دوستوں رشتے داروں کو بلا کر کھانا کھلا دیا تب سے اس کی رزق میں برکت ہوگئی۔ 
*خزانہ اور نہ دولت تلاش کرتا ہوں*
*ماں کے قدموں میں جنت تلاش کرتا ہوں* 


*میرے خدا کوئی مہمان بھیج دے گھر پر*
*میں اپنے رزق میں برکت تلاش کرتا ہوں*
خصوصی انعام کا مستحق شعر شکریہ وسیم راجا سر

ایک مرتبہ ایک نبی کریم ﷺ نے مجمع میں پوچھا کون ایک مسافر کو اپنے گھر مہمان بنا کر لے جاتا ہے ایک صحابی رسول اٹھے اور انھیں گھر لے گئے بیگم سے پوچھا گھر میں کچھ ہے بیگم نے بتایا بچوں کے پرتا موجود ہے تب انھوں نے کہا بچوں کو تم بہلا پھسلا کر سلا دو اور اس مہمان کو وہ کھانا کھلا دو ہم جب دسترخوان پر بیٹھیں تم چراغ درست  کرنے کے بہانے بجھا دینے ہم خالی منہ چلاتے رہیں گے اور مہمان کو وہ کھانا کھلا دیں گے۔ اللہ نے ان صحابی کی رات کی مہمان نوازی کی اطلاع پہلے پہچا دی
*آپ کی شان ہے کیا شانَ رسولِﷺ عربی*
*آپ پر جان ہے قربان رسولِﷺ عربی*

*کس نے یہ مرتبہ پایا ہے ہوا کس کو عروج*
*ہوئے اللہ کے مہمان رسولِﷺ عربی* ابو ایوب رضی اللہ تعالٰی عنہما کے آپ مدینہ میں مہمان ہوئے مہمان خدا کی رحمت ہوتے ہیں ان کی ضیافت کرنا چاہیے مہمان اپن رزق خود لے کر آتا اور ہم مہمان سے بیزار۔مہمان کے تعلق سے سید نسیم الدین وفا کے ارسال کردہ شعر کے مطابق

*کوئے کو دانے ڈال کے خاموش کردیا* 
*کمبخت کہہ رہا تھا کہ مہمان آئے گے*
سید نسیم الدین وفا سر 

میں یہ نہیں کہتا کہ آپ بیزار ہے ماشاءاللہ آپ میں خلوص ہے مگر اشعار ارسال کرتے وقت لاشعوری میں بغیر سوچے سمجھے ارسال کردیئے۔
فھیم خاتون مسرت باجی  مہمان نوازی اور رشتہ نبھانے میں بڑے ماہر ہے پورے گروپ کو جوڑ رکھا ہے شکریہ باجی ابھی حال ہی میں عبدالستار سے گروپ چھوڑ کر چلے گئے تھے آپ تمام کی بے رخی دیکھ انھوں انھیں منایا اور پھر دوبارہ گروپ میں لے آئیں شکریہ فہیم باجی عبدالستار میں اپنی بیماری کے سبب گروپ پر توجہ نہیں دے پا رہا تھا یہ سانحہ کب ہوا کیسے ہوا معلوم ہیں پڑا فہیم باجی سے قسمیں لے دے کر تحقیقات کی تب جا کر معلوم ہوا میزبان مہمان بننا چاہ رہے تھے یہ گروپ آپ کا اپنا ہے ایسا نہ کرو آپ تمام کی یہ خاموش مزاجی ہمیں جینے نہیں دیں گی شکیب بھائی آپ کو بھی کیا ہوا ناراض ہو ہم سے چلو بھرے بزم میں اپنی جانے انجانے میں کی ہوئی کسی چھوٹی بڑی غلطی کی معافی تلافی چاہتے ہیں آپ کی تحریر کا اہل بزم بے صبری سے انتظار کرتے ہیں جیسے کسی زمانے میں مختار زیدی کی بال کی کھال کا ہے نہ سید نسیم الدین وفا سر یہ بزم ہماری سجائی ہوئی ہے اسے یوں ویران نہ ہونے دو۔
چلو جس کو فرصت ملے ملے نہ ملے نہ ملے مگر گروپ کوئی نہیں چھوڑے گا یہ وعدہ کرو روز دیوانگی کی حد تک وقت نہ دو میں ہفتے میں ایک آدھ بار ایک شعر عنوان کی مناسبت سے ڈال دیا کرو اس بزم کی دھوم عرب و عجم میں ہورہی ہے 
*اب جانے کی ضد نہ کرو*
*یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو*
*اب جانے کی ضد نہ کرو*
چلئے دیکھتے ہیں آج کا انعام اول کسے ملتا ہے
❤️🍁❤️ *انعام خصوصی* ❤️🍁❤️

*اک دل اور ارمان زیادہ*
*دل چھوٹا مہمان زیادہ*
*اتنا سفر ہوتا ہے مشکل*
*جتنا ہو سامان زیادہ*

ڈاکٹر منشاء الر رحمان خان منشاء اللہ منشاء الرحمان صاحب کی مغفرت فرمائے
قطرِ خُون سے کی ہم نے تواضع عشق کی
سامنے مہمان کے ...جو تھا میسر رکھ دیا
داغ دہلوی
ارسال کردہ وسیم بھائی
*سمیٹ لے گئے سب رحمتیں کہاں مہمان*
*مکان کاٹتا پھرتا ہے میزبانوں کو*
ثنا ثروت صاحبہ 
بہت خوب 
*‏دل کے مہمان تیری یاد لیے بیٹھے ہیں*
*ضبطِ دل کس سے کہیں، ضبط کیے بیٹھے ہیں*
*موت سے کہہ دو فراز ہم کو نہ مجبور کرے*
*جن کی یہ چیز ہے ہم ان کو دیئے بیٹھے ہیں*
سیدہ ھما غضنفر 
*مہمان کی آمد تیرے لئے باعث فخر ہے* 

*جو بھی آتاہے لے کر کے اپنا رزق  آتا ہے*
گوہر نایاب 
🌹❣️🌹 *انعام اول*  🌹❣️🌹
*اتنا دکھ دے کہ ترا درد بدن جھیل سکے*
*زندگی کچھ بھی ہو آخر ترا مہمان ہوں میں*
فہیم خاتون مسرت باجی 
*ایک شاعر کا ہوں مہمان خدا خیر کر*
*اس کے ہاتھوں میں ہے دیوان خدا خیر کرے*
سید وقار احمد سر 
*خوشیاں ہیں مہمان مری*
*غم میرا ہم سایا ہے*
ڈاکٹر جواد احمد خان 

💐❣️💐 *انعام دوم* 💐❣️💐
*کسی نہ کسی دن ہر ایک کو جانا ہے*          

*دنیا کیا ہے اک مہمان خانہ ہے*
سید شفیع الدین نہری
*تیری رحمت سے تو انکار نہیں ہے مولا*
*جیپ خالی ہو تو مہمان برے لگتے ہیں*
فرحت جبین 
یہ ایک کڑوی حقیقت ہے

*ہمارا اِنتخاب اچھّا نہیں اے دل! تو پھر تُو ہی*

*خیالِ یار سے، بہتر کوئی، مہمان پیدا کر*
مریم بتول 
*یہ بات بھی نہ جانتے انجان ہیں سبھی*
*دنیا میں چند روز کے مہمان ہیں سبھی*
آفرین خان
❣️🌸❣️ *انعام سوم* ❣️🌸❣️
*مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے*
*جوشِ قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے*
فریسہ جبین باجی 
*لازم ہے کہ ہـر شام ہتھیلی پہ رکــــھوں دِل،*
*وہ شَخـص ناں آ کر بھی تو مہمان ہے میرا*
قاضی فوزیہ انجم صاحبہ 
*تم منتظر کسی مہمان کے لگتے ہو* 
*تھکے ہارے کسی امتحان کے لگتے ہو* 
*کس لیے کر لیا تم نے عشق* 
*یار تم تو اچھے خاندان کے لگتے ہو*
 مریم بتول اور مرزا حامد بیگ
اجازت 
خدا حافظ 
فقط
آپ کا بھائی 
خادم
محفل مشاعرہ

Saturday, September 17, 2022

یادیں بچپن کی

🌹   *11/09/2022* 🌹🌹
*سزا دے ہی چکے تو حال مت پوچھو،،*
*ہم اگر بے گناہ نکلے تو افسوس بہت ہوگا تمہیں،،*
مراسلہ ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب 

مقابلہ  *تصویر پر شعر*
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جج : *خان محمد یاسر اشرف*
امید آپ خیریت سے ہوں گے۔ اا ستمبر ۲۰۲۲ کو جو تصویر میں نے پوسٹ کی تھی وہ آج کل کے حالات پر منحصر تھی۔ ہمارے بچپن میں والدین میں کب کس بات پر جھگڑا ہوتا ہے اس بات کا ہمیں آج تک علم نہیں چلو یہ بات مان بھی لے کہ والدین میں کبھی جھگڑا ہوگیا ہو مگر چاچا تایا ابا اور ماموں میں کبھی جھگڑا ہوا اس بات کا بھی علم آج تک نہیں ہوا نہ جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کی دس دس اولادیں ہونے کے باوجود کام کا بھی بوجھ محسوس نہیں کیا شکایت کے نام پر کبھی اپنے خاوند سے ایک حرف تک نہیں کہا آج ہم اپنی اولادوں کے تعلق کے آئے دن آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں بھائی بھائی میں آپس میں نہیں جم رہی بہن بہن میں آپس میں نہیں جم رہی ایسا کیوں اور اس کی وجہ کیا ہے اس کی تلاش ضروری ہے ہم دور حاضر میں جن حافظ ابراھیــــــــم خان محمودی کے عنوان مشکلات سے گزر رہے ہیں اور شکیب الحسن سر کی پریشانیوں میں مبتلا ہے اس کا حل ضروری ہوگیا ورنہ ہمیں اولادیں ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر غلط رہ پر چل پڑے گے اور ہمیں لیے باعث شرمندگی کا سبب بنے گے اس لیے اس تصویر کو مد نظر رکھ کر شعر کہنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے یہ تصویر پوسٹ کی گئی تھی۔
 چلیے دیکھتے ہیں اس تصویر کی تہہ تک کون گیا اور کس نے اس کا عنوان کو سمجھ ہر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔
    
           *انعام خصوصی* 

*کس جرم آرزو کی سزا ہے یہ زندگی*
*ایسا تو اے خدا میں گنہ گار بھی نہیں*
ڈاکٹر جواد احمد خان
ایسا تو آج کل کے سرپرستوں سے امتحان کے نتیجے کے دن بچہ پوچھتا ہوگا کیوں کہ تعلیم بہت مہنگی ہوگئی اور والدین سب کچھ بچے کو دے رہے ہیں سوائے وقت کے اور جو وقت دے رہے ہیں وہ ایسا جیسا کہ تصویر میں بتایا گیا ہے سوائے کچھ افراد کے یا خاندان کے۔
۔۔۔

*ادھوری اک کہانی چل رہی ہے*
*مسلسل زندگانی چل رہی ہے*
*جبر کرتے رہے ہم بچوں پر*
*روایت خاندانی چل رہی ہے*
مجھے نہیں لگتا کہ تصویر کو آپ سے بہتر کسی نے سمجھا ہوگا روایت یہ جو خاندانی ہے بہت خوب عالیجناب *سید وقار احمد سر*


*بچپن کی خوش مزاجیاں سب چھین کر میری*
*اے زندگی کیوں تونے جواں کر دیا مجھے*
ڈاکٹر سید زاہد علی صاحب

*مُنصفی شرط ہے آخِر کوئی کب تک بخشے*
*روز ہو جاتی ہے بُھولے سے خطا تھوڑی سی*

مراسلہ فریسہ جبین باجی

*بس ایک معافی ، ہماری توبہ کبھی جو ایسے ستائیں تم کو*

*لو ہاتھ جوڑے ، لو کان پکڑے ، اب اور کیسے منائیں تم کو*
مسعود رانا صاحب

            *انعام اول* 
*خوف کے سائے میں بچے کو اگر جینا پڑا*
*بدزباں ہو جائیگا یا بے زباں ہوجائیگا*
محمد عقیل سر 

*اس نئے دور کی تہذیب سے اللہ بچائے*
*مسخ ہوتی نظر آتی ہے بشر کی صورت*

عبدالرزاق حسین 

*ان سے وابستہ ہے مرا بچپن*
*میں کھلونوں کی قدر کرتا ہوں*
قاضی فوزیہ انجم صاحبہ 
ہوتا ہے بچپن میں بچہ دل کی بات کھلونوں سے ہی کرتا ہے چائے وہ گھر کا ٹوٹا ہو چمچہ ہی کیوں نہ ہو اس کی نظر میں اس  قدر اہمیت بہت ہوتی ہے
         
             *انعام دوم*

*میرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ*

*بڑوں کی دیکھ کر دنیا   بڑا ہونے سے ڈرتا ہے*
خان گوہر نایاب
 
خدا حافظ
خادم
محفل مشاعرہ 

*میں نے بچپن میں ادھورا خواب دیکھا تھا کوئی*
*آج تک مصروف ہوں اس خواب کی تکمیل میں*

نزہت صاحبہ 

*زَمین اُٹھا کے میں مِرّیخ پر نہ دے مارُوں*
*کسی پہ غصہ مجھے آج اِنتہا کا ہے*
وسیم راجا سر

      *انعام سوم*
*ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے*
*صرف دل کی گلی میں کھیلے تھے*
سیدہ ھما آفرین


*تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ*
*تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی*
فہیم خاتون مسرت باجی

Tuesday, August 30, 2022

قلم خط کتابیں

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
محترم احباب بزم محفل مشاعرہ میں نے جو تصویر پوسٹ کی تھی تصویر پر شعر کے عنوان پر اس کا اصل مقصد قلم تھا پھر بھی جو اشعار آئے ہیں قابل قبول ہے جس کا تبصرہ میں شعر کے ساتھ کرنے جارہا ہوں۔ میری پسند  سے ہر ایک کا متفق ہونا لازمی نہیں میرے انتخاب پر اختلاف ہو بھی سکتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔
تو لیجیے پیش خدمت ہے تصویر پر شعر کا نتیجہ آپ اسے پڑھئے اور محظوظ ہوئیے۔
*اس نے دور رہنے کا مشورہ بھی لکھا ہے*
*ساتھ ہی محبت کا واسطہ بھی لکھا ہے*

*اس نے خط میں لکھا ہے  خط مجھے نہیں لکھنا*
*گھر کا فون نمبر بھی اور پتا بھی لکھا ہے*

*اس نے یہ بھی لکھا ہے میرے گھر نہیں آنا*
*اور صاف لفظوں میں راستہ بھی لکھا ہے*

*کچھ حروف لکھے ہیں ضبط کی نصیحت میں*
*کچھ حروف میں اس نے حوصلہ بھی لکھا ہے*

*شکریہ بھی لکھا ہے دل سے یاد کرنے کا*
*دل سے دل کا ہے کتنا فاصلہ بھی لکھا ہے*

*کیا اسے لکھیں انور  کیا اسے کہیں انور*
*جس نے بے مزہ کر کے ذائقہ بھی لکھا ہے*@⁨RAZEQ HUSSAIN Husain⁩ 

     🌹🌹 *انعام اول* 🌹🌹
1️⃣ *صفحۂ کاغذ پہ جب موتی لٹاتا ہے قلم*
*ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم*
*وسیم راجا صاحب*
بھائی وسیم بھائی سچ میں قلم والے ہیں اور ان کی نظر بھی سب سے پہلے قلم پر ہی گئی اس لیے انعام اول کے آپ حقدار ہوئے۔
 
2️⃣ *علم انسان کو انسان بنا دیتا ہے*
*علم بےمایہ کو سلطان بنا دیتا ہے*
 *اللہ جسے دے اسے ایمان بھی دے*
*ورنہ یہ وہ ہے جو شیطان بنا دہتا ہے*
*حافظ ابراھیــــــــم خان محمودی صاحب*
تصویر کو جب دوسرے پہلو سے دیکھیں تو یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ علم حاصل کرنے والوں میں عاجزی و انکساری ہو تو علم سلطان بناتا ہے اور اگر علم حاصل کرنے والوں میں غرور و تکبر اور انانیت آجائے تو وہ شیطان بنا دیتا ہے۔ ہمارے سامنے شیطان کی مثال موجود ہے۔ اللہ تعالٰی نے شیطان کے تکبر کو سورہ البقرہ سے لے کر سورۃ الکہف تک اور آگے بھی کہیں ذکر کیا کہ ہم نے شیطان  کو اور دیگر ملائکہ کو جب آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سب نے سجدہ کیا بجز شیطان کے کیونکہ اس کو اپنے علم پر اور اپنے آگ سے پیدا ہونے پر غرور تھا۔ شیطان کے ایک انکار نے اسے ملعون قرار دیا ہم اللہ کے دن بھر میں سے نہ جانے کتنے احکامات کا انکار کرتے ہیں۔ ساتھیوں ہمارا اصل نصاب قرآن ہے اس پر ہمیں دھیان دینے کی ضرورت ہے ہم تمام کو اللہ کے احکامات کی حکم عدولی سے اللہ محفوظ رکھے۔ *حافظ ابراھیــــــــم خان محمودی صاحب* بہت بہت مبارک آپ کے اس شعر نے ہمیں قرآن کی تعظیم اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دینے والا بنایا اور ہمیں یہ بھی تعلیم ملی کہ علم سے انکساری آتی ہے۔ اور انکساری والے ہی کامیاب ہوں گے۔

3️⃣*ہماری زندگی میں پھول بن کر کوئی آیا تھا*
*اس کی یاد میں اب تک یہ تحریریں مہکتی ہیں*
*کھو گئے ہیں کہیں اپنے تعاقب میں*
*مل سکے خود سے تو اک روز ملائیں گے تمہیں* 
کیا بات ہے کیا بات ہے بہت خوب فہیم باجی آج *سید عبدالستار سر* نے اس بات کو قبول کرلیئے بھابی کو بتا سکتی ہو آپ۔ عبدالستار ان تحریروں کی مہک ہر بدھ کو ہم بھی محسوس کر لیتے ہیں مگر بدھ اور جمعرات میں ۸ تا ۱۰ کلاس رہتی جس کی وجہ سے میں شریک مقابلہ نہیں ہو پا رہا ہوں دوسری اور کوئی وجہ نہیں آئندہ مقابلوں میں ان ایام میرے شعر پوسٹ کرنے کی ذمہ داری کسی کو دے دوں گا کہ وہ وقت پر میرے نام سے اشعار پوسٹ کر دے یا آپ کو انفرادی بھیج دوں گا آپ نے وقت رہتے شریک مقابلہ کر لینا۔ دوسرے والے شعر میں قبول کرلیئے کہ مہک میں کھو گئے ہاں۔
*قلم میں زور جتنا ہے جدائی کی بدولت ہے*
*ملن کے بعد لکھنے والے لکھنا چھوڑ دیتے ہیں*
ثنا ثروت صاحبہ 
*الفاظ نہ آ پائے تحریر کی منزل تک*
*بیٹھا ہوں لیے کب سے ہاتھوں میں قلم* 
سید وقار احمد سر 
  🥈🥈 *انعام دوم*🥈🥈
1️⃣*ایک مدت سے انہیں روز پڑھا کرتا ہوں*
*جن بیاضوں میں عبارت نہیں لکھی تو نے*

*ڈاکٹر ندیم ابن منشاء* صاحب District health officer تھے منشاء الرحمن منشاء کے فرزند ارجمند ہیں میری ملاقات اورنگ آباد میرے بڑے بھائی کی شادی میں ہوئی تھی اس 2007 میں آج تک دل سے دل کا رشتہ قائم ہے ناگپور سے آنے والے ہر شخص سے میں آپ کی خیریت دریافت کرتے رہتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب بہت عمدہ شعر کہا ماشاءاللہ 


3️⃣ *یوں تو لکھنے کے لیے کیا نہیں لکھا میں نے* 
*پھر بھی جیتنا تجھے چاہا نہیں لکھا میں نے*
اللہ حبیب بھائی کی مغفرت فرمائے فرحت باجی آپ کی جوڑی one of the most beautiful جوڑی تھی۔ آپ کے لکھنے کی ضرورت نہیں تھی حبیب بھائی سمجھتے تھے اس بات کو۔ 
قلم گوئد کہ من شاہ جہانم 
قلم کش  را بدولت می رسانم
*مرسلہ عبداللہ خان ممبئی*
🥉🥉 *انعام سوم* 🥉🥉
1️⃣ *لفظ چھن جائیں مگر تحریر ہو روشن جہاں*
*ہونٹ ہوں خاموش لیکن گفتگو باقی رہے*
*و*
*یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں* 

*اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں* 

جاں نثاراختر کے اس شعر کو فھیم خاتون مسرت باجی صاحبہ نے اپنے دل بھلائی کا ذریعہ بنایا ہے کیونکہ ان کا چھوٹا بیٹا جو بہت لاڑ کا ہے وہ آندھرا میں میڈیکل کی پڑھائی کر رہا ہے اور باجی کتابوں رسالوں سے سودا کیے بیٹھے ہیں ویسے عمران عالم صاحب بھی ان کا ساتھ دیتے مگر دل ہے کہ مانتا نہیں۔😁

2️⃣ *اسے پڑھ کے تم نا سمجھ سکے کہ میری کتاب کے روپ میں*
*کوئی قرض تھا کئی روز کا کئی رتجگوں کا ادھار تھا*

*کیسے تحریر کر پاؤں گی آج احوال اپنا*
*لفظ افسردہ سے، ذہن الجھا سا اور لہجہ بیزار سا*

اب آپ ایم فیل کر رہے ہو پھر پی ایچ ڈی کروں گی تو ظاہر ہے *ہما* کتاب آپ لکھو گی اور وہ کتاب بہت موٹی بھی ہوں گی تو اس کو سمجھنے وقت تو لگے گا رتجگوں کا کیا وہ اچھے کاموں میں ہوتے رہتے ہیں۔   دوسرے شعر میں یہ اثر رتجگوں کی وجہ سے طاری ہورہا ہے کبھی آرام بھی کر لیا کروں دنیا والے مارنے تک مچھر کی طرح خون چوستے رہتے سب اپنا لہجہ سنبھال کر رکھنا لہجوں کی وجہ سے لوگ ٹوٹتے اور جوڑتے ہیں۔😊



3️⃣ *یہ تیرے خط تری خوشبو یہ تیرے خواب و خیال*
*متاع   جاں   ہیں   تیرے   قول   اور قسم کی طرح*
 
*گزشتہ   سال   انھیں   میں   نے   گن   کے رکھا تھا* 
*کسی   غریب   کی   جوڑی   ہوئی   رقم کی طرح*
 اللہ آپ کے خواب و خیال کو حقیقی پورپ عطا کرے *خان گوہر نایاب* اور بہترین شریک حیات عطا کرے اس گروپ کی خاصیت کیا ہے معلوم couples بہت اچھے ہیں سب کے عمران بھائی فہیم باجی فوزیہ باجی ان کے شوہر رازق ان کی اہلیہ اشرف سے ان کی جوڑی کوثر حیات صاحبہ و اطہر بھائی فرحت باجی حبیب بھائی عبدالستار سر انکی اہلیہ بس میں دعا کرتا ہوں ہمارے گروپ کے جتنے کنوارے ہیں اللہ ان کی جوڑی جلد سے جلد ان سے  ملا دے اور انھیں خوش و خرم رکھ۔ شادیوں کے رقعہ گروپ پر پوسٹ کردیا کرے تاکہ جن کی شادی ہوجائے ان کا علم ہو ورنہ ہم انھیں دعاؤں میں یاد رکھے گے ان کی دوسری تیسری ہوتے رہے گی۔ اشرف سر پڑھ کر خوش مت ہو آپ کی شادی کا علم سب کو ہے۔ 
کیا ملے گا تجھے بکھرے ہوئے خوابوں کے سوا
ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے
*ثنا ثروت صاحبہ*

*کبھی کتابوں میں پھول رکھنا* *کبھی درختوں پر نام لکھنا*
*ہمیں بھی ہے آج تک وہ نظر سے* *حرف سلام کرنا*
بشری اچھا ہے حرف سلام
 
❤️❤️ *جج کی پسند کے اشعار* ❤️❤️



*دل    ڈھونڈتا    ہے   پھر   وہی   فرصت  کے  رات دن* 
*بیٹھے        رہے       تصورِ       جاناں         کئے     ہوئے*
شکیب الحسن سر دل کو کیا ہوا ایک ہی شعر پر آپ نے بس کیا۔

*صدیوں لہو سے دل کی حکایت لکھی گئی* 
*میری وفا گئی نہ تری بے رخی گئی*
آج کل کے لوگ ایسے ہو گئے ہیں کیا کر سکتے *قاضی فوزیہ انجم باجی* مگر بھائی جان ایسے نہیں ہے ہاں بہت اچھے انسان ہے  


*تیری یادوں کے راستے کی طرف*
*اک قدم بھی نہیں بڑھوں گا میں*

*دل تڑپتا ہے تیرے خط پڑھ کر*
*اب تیرے خط نہیں پڑھوں گا میں*

*بھائی عبدالرازق حسین* یہ جون ایلیا کو کوئی کام دھندا نہیں تھا خطوط پر بہت شعر کہے انھوں نے۔ بہت اچھا شعر ہے انتخاب آپ کا بہت اچھا ہے
*برسوں سے کان پر ہے قلم اس امید پر*
*لکھوائے مجھ سے خط مرے خط کے جواب میں*
حسرت دل نامکمل ہے کتاب زندگی
جوڑ دے ماضی کے سب اوراق مستقبل کے ساتھ
آمین


*ڈاکٹر جواد احمد صاحب*
بندے کے قلم ہاتھ میں ہوتا تو غضب تھا
صد شکر کہ ہے کاتب تقدیر کوئی اور
فوزیہ باجی

*خان محمد یاسر* 
خادم 
بزم محفل مشاعرہ

Saturday, August 27, 2022

ماں


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
محترم احباب بزم محفل مشاعرہ 14 اگست 2022 کو ایک تصویر دی گئی تھی جس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ ایک معصوم بچہ جنازے کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور یہ شاید وہ جنازہ اس کے ماں کا یا باپ کا ہوسکتا ہے۔ 
دنیا یہی سوچتی ہے کہ کیا شئے ہے ماں ۔ سچائی کا پیکر ہے ماں ، لازوال محبت کا نمونہ ہے ماں، شفقت کا سمندر ہے ماں، تڑپ کا دریا ہے ماں ، قربانی کا سیلاب ہے ماں، مہربانی کا خزانہ ہے ماں۔۔ تین حرفوں کا لفظ 'ماں'ناقابل فراموش رشتہ ہے۔ جس کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا کہ جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔
دنیا میں ماں کے رشتہ کو ہر کوئی اپنے اپنے انداز اور الفاظ میں بیان کرتا ہے۔کوئی جذباتی ہوکر بیان کرتا ہے اس رشتہ کو،کوئی بغیرایک لفظ ادا کئےآنکھوں سے بیان کر دیا ہے ماں کی قدرکو،کسی نے کہا کہ ماں کی محبت ہمالیہ کا وہ پہاڑ ہے کہ جس کی بلندیوں کو آج تک کوئی چھو نہ سکا ۔کسی نے کہا کہ ماں کی محبت وہ سدا بہار پھول ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی، کسی کا کہنا ہے کہ کے بارے میں لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے۔
ماں بڑا پیارا لفظ ہے جسے انسان اپنے دل کی گہرایوں سے اداکرتا ہے۔بچپن سے لیکر عمر کے ہر مرحلے میں وہ ماں کی ممتاکا محتاج رہتا ہے۔اپنی حاجتوں کی تکمیل کے لئے اسی سے توقع رکھتا ہے۔ماں کے بغیر گھر سنسان اور زندگی ویران ہوتی ہے۔ برکت کا راستہ ماں باپ کی خدمت سے ہی آسان ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ ۔۔اللہ تعالی قُرآن پاک میں فرماتے ہیں : ترجمہ- تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے (فرض کر دیا ہے) کہ اس اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حُسن سلوک سے پیش آؤ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بوڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو، اور تم ان دونوں سے نرمی اور شفقت سے بات کیا کرو۔
  باپ وہ ہستی ہے جو اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لیے دن رات محنت کرتا رہتا ہے۔ نہ اس کو اپنے آرام کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے صحت کی۔ وہ اپنے دن رات صرف اس جہد میں صرف کرتا ہے کہ کچھ اور محنت کرلوں تو اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرلوں۔ اپنی اولاد کی ہر اس خواہش کو پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے جو وہ اپنے بچپن میں پوری نہیں کرپایا۔ مگر آج اخلاقیات کی تعلیم کی کمی کی وجہ سے والدین کی قدر اولاد کی نظروں میں کم ہوگئی ہے وہ اسلامی تعلیمات سے دور ہوگئے ہیں انگریزی تعلیم نے ادب سے اور اخلاقی تعلیم سے دور بہت دور کر دیا ہے۔ ہم اس عنوان کے لیکر بیٹھ جائے تو بہت کچھ لکھ سکتے اور بول سکتے مگر یہاں موقع نہیں۔ چلئے دیکھتے ہیں آج کے نتیجے کیا نصیحت کرتے ہیں اور اپنا مقام بناتے ہیں۔
اس سے پہلے مسعود رانا صاحب کی اس غزل کو پھر ایک بار ضرور پڑھ لیجیے
موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں
تب کہیں جاکر رضا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں​

موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں
جب پریشانی میں ہوں بچے تڑپ جاتی ہے ماں​

جاتے جاتے پھر گلے بچے سے ملنے کے لئے
توڑ کر بند کفن باہوں کو پھیلاتی ہے ماں​

روح کے رشتوں کی یہ گھرائیاں تو دیکھئے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں​

بھوکا سونے ہی نہیں دیتی یتیموں کو کبھی
جانے کس کس سے کہاں سے مانگ کر لاتی ہے ماں​

ہڈیوں کا رس پلاکر اپنے دل کے چین کو
کتنی ہی راتوں کو خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں​

جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول
آنسووں کے ساز پر بچے کو بھلاتی ہے ماں​

ماردیتی ہے طمانچہ گر کبھی جذبات میں
چومتی ہے لب کبھی رخسار سہلاتی ہے ماں​

کب ضرورت ہو مِری بچے کو اتنا سوچ کر
جاگتی رہتی ہے ممتا اور سوجاتی ہے ماں​

گھر سے جب پردیس کو جاتا ہے گودی کا پلا
ہاتھ میں قرآں لئے آگن میں آجاتی ہے ماں​

دیکے بچے کو ضمانت میں رضائے پاک کی
سامنا جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں​

لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم
ڈال کر باہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں​

ایسا لگتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں
کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں​

دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں
ریت پہ مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں​

مرتے دم بچہ نہ آئے گھر اگر پردیس سے
اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں​

حال دل جاکر سنا دیتا ہے معصومہ کو وہ
جب کسی بچے کو اپنی قم میں یاد آتی ہے ماں

تھام کر روضے کی جالی جب تڑپتاہے کوئی
ایسا لگتاہے کہ جیسے سر کو سھلاتی ہے ماں​

گمرہی کی گرد جم جائے نہ میرے چاند پر
بارش ایمان میں یوں ہرروز نھلاتی ہے ماں​

اپنے پہلو میں لٹاکر روز طوطے کی طرح
ایک بارہ پانچ چودہ ہم کو رٹواتی ہے ماں​

عمر بھر غافل نہ ہونا ماتم شبیر سے
رات دن اپنے عمل سے ہم کو سجمھاتی ہے ماں​

دوڑ کر بچے لپٹ جاتے ہیں اس رومال سے
لےکے مجلس سے تبرک گھر میں جب آتی ہے ماں​

یاد آتا ہے شب عاشور کا کڑیل جواں
جب کبھی الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھاتی ہے ماں​

اللہ اللہ اتحاد صبر لیلا اور حسین
باپ نے کھینچی سناں سینے کو سہلاتی ہے ماں​

سامنے آنکھوں کے نکلے گر جواں بیٹے کا دم
زندگی بھر سر کو دیواروں سےٹکراتی ہے ماں​

سب سے پہلے جان دینا فاطمہ کے لال پر
رات بھر عون ومحمد سے یہ فرماتی ہے ماں​

یہ بتا سکتی ہے بس ہم کو رباب خستہ تن
کس طرح بن دودھ کے بچے کو بھلاتی ہے ماں​

شمر کے خنجر سے یا سوکھے گلے سے پوچھئے
ماں ادھر منھ سے نکلتاہے ادہر آتی ہے ماں​

اپنے غم کو بھول کر روتے ہیں جو شبیر کو
ان کے اشکوں کے لئے جنت سے آجاتی ہے ماں​

باپ سے بچے بچھڑجائیں اگر پردیس میں
کربلا سے ڈھونڈنے کوفے میں خود آتی ہے ماں​

جب تلک یہ ہاتھ ہیں ہمشیر بے پردہ نہ ہو
ایک بہادر باوفا بیٹے سے فرماتی ہے ماں​

جب رسن بستہ گزرتی ہے کسی بازار سے
ایک آوارہ وطن بیٹی کو یاد آتی ہے ماں​

شکریہ ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا
مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں​


   🌹🌹   *اعزازی انعام* 🌹🌹

تجھ سا ملے گا ماں نہ کوئی معتبر مجھے
رہنے دے زیر پا تو یوں ہی عمر بھر مجھے
*آفرین خان*

اس دل سے تیری یاد کے ہالے نہیں گئے
تو جا چکاہے تیری یاد کےاجالے نہیں گئے
*مرسلہ عبداللہ خان ممبئی*
دور ہونے کا درد کیسا ہوتا ہے کوئی ہم سے پوچھے
تنہا راتوں میں رونا کیسا ہوتا ہے کوئی ہم سے پوچھے
*محترمہ فریسہ جبین باجی*

ہر روز ماں کے چہرے کو تکتا تھا پیار سے‫
ہر روز حج میں کرتا تھا احرام کے بغیر
*عالیجناب سید عبدالستار سر*

 1️⃣1️⃣  *انعام اول* 1️⃣1️⃣
اے فردوس تیری عظمت کی عقیدت کا  مقام  اپنی  جاہ

ھم نے تو تیری اوقات کو فقط ماں کے قدموں تلے دیکھا
*محترمہ فریسہ جبین باجی*

‏ماں کے ہنستے..!ہوئے چہرے کا بھرم ہے ورنہ..!
زندگی یوں..! تو نہیں ہے کہ گزاری جائے..
*سیدہ ھما غضنفر جاوید صاحبہ*

ممتا کی تعریف نہ پوچھو
چڑیا سانپ سے لڑ جاتی ہے
*ثنا ثروت صاحبہ*
🥈🥈  *انعام دوم* 🥈🥈
ستارے جیسی روشن ہیں۔ میری پیشانی اب
جب سے میری ماں نے اسے چوما ہے
*ڈاکٹر نسرین سلطانہ صاحبہ*
یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دُکھ عابی
سُنا ہے باپ زندہ ہو تو کانٹے بھی نہیں چُبھتے
*فہیم خاتون مسرت باجی صاحبہ*

وہ اکثر خواب میں آکر میری حالت پہ روتی ہے
کہ زیر خاک بھی ماں کی پریشانی نہیں جاتی
*گوہر نایاب خان*
🥉🥉  *انعام سوم* 🥉🥉
دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
*محترمہ قاضی فوزیہ انجم صاحبہ*

بس ایک ماں کی محبت دکھائی دیتی ہے
زمیں پہ ایک ہی عورت دکھائی دیتی ہے

اے بوڑھی ماں تیرے چہرے کی جھریوں کی قسم
ہر اک لکیر میں جنّت دکھائی دیتی ہے
*مسعود رانا صاحب*

سو ماں کی قبر پہ پہنچا لپٹ کے رونے لگا
دلیر بیٹا کسی بات پر دکھا ہوا تھا
*محترم وسیم راجا صاحب*

Wednesday, June 15, 2022

تشنگی


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
*پھر طبیعت میں کیوں نہ روانی آئے* 
*کسی پیاسے کے سامنے اگر پانی آئے*
مراسلہ *سید عبدالستار سر*
محفل کی آن بان شان😘
احباب بزم محفل مشاعرہ امید ہے آپ خیریت سے ہوگے میں بھی خیریت سے ہوں اور آج رات 11:20 کی دیوگیری ایکسپریس سے ممبئی کے لیے روانہ ہو جاؤں گا۔ ممبئی سے 20 جون کی صبح میرا جہاز ممبئی سے جدہ کے لیے پرواز کرے گا۔ آپ تمام احباب کا اس گروپ کی کامیابی اور کارکردگی میں بہت ساتھ رہا اس گروپ کے تمام احباب کا میں خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہر ایک کو حج بیت اللہ کی سعادت نصیب فرمائے بار بار بار بار اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائے اور میرا اور تمام امت مسلمہ کا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔ اور اللہ سے مزید دعا ہے کہ وہ آپ تمام احباب کے مسائل کو حل فرمائے مشکلات کو آسان کرے دونوں جہاں میں کامیاب کرے کسی کا محتاج نہ رکھے۔ آپ کے جائز خواہشات کو پورا کرے *آپ کی پیاس کو تشنگی کو بجھائے* اور شاید میرا عنوان بھی یہی تھا۔
عبدالستار سر نے کہا تھا کہ دیکھنا ہے کون کتنا پانی پیتا ہے؟ یا  پلاتا ہے۔ اور یہ بات بھی صحیح کہا کہ جب ایک پیاس بجھ جاتی ہے تو دوسری پیاس بھڑک جاتی ہے۔


🌹🌹 *انعام اول*🌹🌹

آنکھوں کی تشنگی کا تمہیں تجربہ نہیں
تم دیکھتے رہوگے تو بڑھتی ہی رہے گی
مراسلہ *سید عبدالستار سر*
‏مری تشنگی, مری بے بسی, مری آرزو ,مری جستجو

اگر ایک بار تو جان لے تو کبهی نہ مجهکو جدا کرے
مراسلہ *ابرار علی خان اکبر علی خان*
میں دشت دشت رسوا تو سراب سا مسلسل
میں لمحہ لمحہ تنہا __ تو خواب سا مسلسل

مشہور ہیں نگر میں میری تشنگی کے قصے
میں قریہ قریہ پیاسا ___ تو آب سا مسلسل
مراسلہ *محمد وسیم راجا*

🥈🥈 *انعام دوم* 🥈🥈
صحرا کی طرح تکتی ہے بادل کی طرف آنکھ 
ملتی ہی نہیں پیاس کو چھاگل سے رہائی 

مراسلہ *عبدالرازق حسین*

میں وہ دریا ہوں جو گھر سے کبھی نکلا ہی نہیں
پیاس لے کر میری چوکھت پر سمندر آئے
مراسلہ *انصاری شکیب الحسن*

کہتی ہے تشنگی کسی دریا سے جاملو
فطرت کا کیا کروں جسے صحرا سے عشق ہے
مراسلہ *ثنا ثروت صاحبہ*
 
ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے

کس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے

سب کو سیراب وفا کرنا خود کو پیاسا رکھنا 

لے ڈوبے گا اے دل تیرا دریا ہونا

مراسلہ *گوہر نایاب فضل اللہ خان*


   🥉🥉 *انعام سوم* 🥉🥉
کہیں بجھتی ہے دل کی پیاس اک دو گھونٹ سے انظرؔ
میں سورج ہوں مرے حصے میں دریا لکھ دیا جائے

مراسلہ: *قاضی فوزیہ انجم صاحبہ*
 ہونٹوں کو روز اک نئے دریا کی آرزو 
لے جائے گی یہ پیاس کی آوارگی کہاں
مراسلہ *مرزا حامد بیگ صاحب*
 
میں پیاس ہوں جیسے صحرا کی تو چشمئہ ٹھنڈا ٹھار پیا 
مجھے عشق اڑائے پھرتاہے اس پار کبھی اس پار پیا

مراسلہ *محمد عقیل سر* 

خوابوں کی وادی میں ملے ہیں
بیتے لمحے گزرے زمانے
مراسلہ : *خان آفرین*

پھر کسی پیاس کے صحرا میں مجھے نیند آئے
اور میں خواب میں مانگوں تجھے پانی کی طرح
مراسلہ *فہیم خاتون مسرت باجی*

آب ہے صحرا میں تشنگی کے بعد عشق حقیقی۔۔۔ 

پھر یوں سارا حسن خلق بھی بے وجہ لگتا ہے خوشی۔۔

کاش تیری بندگی کی تشنگی مجھ میں آب جیسی ہوتی قسامِ ازل۔۔۔ 
 جام کے جام نوش کرتی خوشی عالم عشق میں تیرے بدل بدل۔۔۔۔ 
*ازقلم۔۔۔ خوشی*


موبائل اور اِنٹرنیٹ کی سہولیات کی وجہ سے دنیا مٹھی میں ہوگئی دور کے لوگ بہت قریب ہوگئے اور قریب کے بہت دور یادوں کے صحرا میں اپنوں کے چہرے کہیں کھو گئے پھر بھی ابرا کا یہ شعر تشنگی دور کرنے کے لیے بہت صحیح ہے اور میں بھی ایک صحرا میں جا رہا ہوں جہاں آپ کے چہرے مجھے یاد آئے گے۔

 *سرِ صحرا مسافر کو ستارہ..!*
*یاد رہتا ہے..!!*


*میں چلتا ہوں مجھے چہرہ..!*
*تمہارا یاد رہتا ہے.*

Sunday, June 12, 2022

بساط

زندگی کی بساط پر بچھا شطرنج کا یہ کھیل ہے۔ اس بساط پر ہم انسان مہروں کی مانند ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ میں فلاں کو ہرا کر میں آگے نکل جاؤں گا میں جو چاہتا ہوں وہ کر سکتا ہوں جسے چاہیں اسے مات دے سکتا ہوں مگر حقیقت سے بے خبر یہ انسان خواہشات کی لگام تھامے اپنے رب کو بھول کر من چاہی گزارنے والا یہ انسان آخر میں خود مات کھا جاتا ہے اور گمراہی و ناکامی  کے ایسےگڑھے میں جا گرتا ہے جہاں سے جیت کے کوئی امکان نظر نہیں آتے بساط بچھانے والے نے بساط بچھادی مہرے کھڑے کردیئے انھیں اختیار بھی دے دیا کیسی چال چلنا ہے اور ساتھ ہی اچھے اور برے کی تمیز بھی سکھا دی کہ کس چال سے فائدہ ہوگا کونسی چال نقصان پہنچائے گی۔ لیکن یہ ابن آدم سدا سے نادان رہا اور سدا ہی نادان رہے گا وہ بھول گیا یہ بساط اللہ نے بچائی ہے وہی اس کے نظام کو چلا رہا ہے میں کیوں اس میں مداخلت کروں وہ یہ بات نہیں سمجھ رہا۔
ہم کو ہمارے نبی نے امت بنا کر گئے آج ہم فریق میں بٹ گئے۔ بچپن میں کسان کی کہانی سنا کرتے تھے کہ کسان تھا اس کا آخری وقت آگیا اس کو اپنی اولاد کی کاہلی اور سستی کی بڑی فکر ہوئی وہ ان کی روز کی لڑائی جھگڑے سے بیزار ہو گیا تھا وہ ان میں اتحاد پیدا کرنا  چاہتا تھا اس نے سب کو ایک ایک لکڑی دی اور اس کو  توڑنے کے لیے کہا پانچوں لڑکوں نے با آسانی اس کو توڑ دیا پھر اس نے ان ٹوٹیں ہوئی لکڑیوں کا گھٹا بنا کر دیا اور کہا توڑوں تو کوئی بھی اس گھٹے کو  نہیں توڑ سکا پھر بتایا کہ اتحاد کی طاقت کیا ہوتی ہے آپس میں مل جل کر رہو کوئی تمہیں کمزور نہیں کرے گا سستی اور کاہلی کو دور کرنے کے لیے کہا کہ کھیت میں خزانہ چھپایا ہوا ہے اس کو تلاش کرو اور لے لو بچوں نے محنت کی کچھ بھی حاصل نہیں ہوا تو کہا بیج بو دو پھر فصل آئی اس کو فروخت کیا تو بہت پیسے کما لیے ہم ایسی کہانیاں سن کر بڑے ہوئے۔
 ہم (سے مراد آپ اور میں) نے زندگی کی بساط پر کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچایا سب کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا کسی کی دل آزاری نہیں کی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سماج میں ایک مقام ہے ہم بادشاہ تو نہیں بنے مگر اس پیادے کی مانند ڈٹے ہوئے ہیں اور اس بساط پر کھڑے ہیں جہاں بادشاہ کو مات ہونے نہیں دے رہے۔
آج ایک سماج بساط بچھا رہا ہے جذبات کا وہ آپ کو ورغلا رہا ہے تاکہ آپ جذبات میں آئے کوئی غلط قدم اٹھائے اور بساط کے باہر ڈھکیل دیئے جائے اور ہمارا کھیل ختم ہوجائے۔ ہم عشق نبی ﷺ  میں اپنی جان کی بازی لگانے والے لوگ ہے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت عمر نے کہا  جس کا مفہوم کہ  آپ سے اپنی جان سے زیادہ محبت نہیں کرتا جس پر نبی ﷺ نے کہا تمہارا ایمان کامل نہیں پھر انھوں نے کہا کہ میں اپنی جان سے زیادہ آپ سے محبت کرتا ہوں تو کہا اب تمہارا ایمان کامل ہوا۔
          بنی ﷺ سے محبت کے جھوٹے وعدے کرنے والے کتنے ہیں نبی کی سنت کیا ہے یہ نہیں معلوم پھر دعوی کرتے ہیں نبی کے امتی ہونے کا بساط بنانے والے نے آخری نبی کو بھیجا اپنی حجت پوری کہ اچھا برا بتایا اب عمل کرنا اور بازی جیتنا ہمارا کام۔ ہم اپنے آپ کو کسی سے بڑا نہ سمجھے علم والا نہ سمجھے طاقت والا نہ سمجھے انکساری عاجزانہ زندگی گزارے۔ 
بات کہاں سے شروع کی کہاں ختم کچھ سمجھ نہیں آیا ہاں ایک بات ضرور کہوں گا کہ باطل طاقتیں آپ کی چال کو پلٹا چاہتی ہیں مگر آپ اور میں اس وقت کامیاب ہونے جب ہم چوکنے رہیں گے۔ ان کی چالوں سے واقف رہیں گے اپنی اولادوں کو دنیا کی تعلیم سے پہلے اللہ اور نبی کے نام سے واقف کرائیں گے۔ عشق خدا میں خلیل کا دعوی اور عشق نبی میں صدیق کا دعوی سکھائیں گے تو بچھی ہوئی بساط کی بازی ہم ماریں گے ورنہ عشق مجازی میں سب ختم ہوجائے گا۔
خیر آج بہت ہو گیا اللہ خیر کا معاملہ کرے ملک کے حالات مسلمانوں کے لیے خوشگوار اور سازگار بنائیں۔ اس دعا کے ساتھ نتیجہ پیش خدمت ہے۔
 🌹🌹   *انعام خصوصی* 🌹🌹
مات دینے کا ارادہ کر لیا
شاہ کے آگے پیادہ کر لیا

ایک لقمہ اور دو خالی شکم
سو اسی کو آدھا آدھا کرلیا
@⁨Waseem Raja Sir⁩ 
شطرنج کی سی ہے یہ عاشقی تیری۔۔۔۔ 
ہر چال سوچ سمجھ کر آخر تونے چلی۔۔۔ 
میں رہ گئی تکتے تیری چھڑکی بساط کو۔۔۔ 
تو رہ گزر پھر جیت کر دل میرا چلا گیا۔۔۔ 
انداز میں سنجیدگی ایسے لئے تھا تو۔۔۔۔ 
چہرہ میرا  دل دیکھ یوں  ششدر بڑا ہوا۔۔ 
پھر آخری پاری یوں کھیلی تونے کیا کہے۔۔۔ 
تیرا زمن جیتا خوشی، وہ ہجر میں رہ گیا۔۔ 

از قلم۔۔ خوشی @⁨Miss Khushi⁩ 

سب کو خوش کرتے کرتے آدھا سا رہ گیا ہوں 
اس دل فریب دنیا میں سادہ سا رہ گیا ہوں 
اب کی بار سوچتا ہوں خود غرض ہو جاؤں 
ہر شطرنج کی چال میں اک پیادہ سا رہ گیا ہوں

وجود کی بساط پر... بڑی عجیب مات تھی 
یقین لٹا کے چل پڑے، گمان بچا کے رکھ لیا
@⁨Fareesa Baji Amanullah Motiwala⁩
تخت شطرنج پر بس ایک پیادہ ہے میرا
فوج تو گم ہے مگر عزم ذیادہ ہے میرا
@⁨ثروت باجی⁩  

 Frist prize goes to 
دل کی بساط پہ شاہ پیادے کتنی بار اتاروگے 
اس بستی میں سب شاطر ہیں تم ہر بازی ہاروگے

تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو 
میں جیسے چاہوں لگاوں بازی 
اگر میں جیتا تو تم میرے ہو 
اگر میں ہارا تو میں تمہارا

@⁨Mohd Aqueel⁩ sir

‏کھیل جو بھی تھا جاناں اب سوال کیا کرنا
جیت جس کسی کی ہو، ہم نے  ہار  مانی ہے
@⁨Waseem Raja Sir⁩ 

سمجھ جاتا ہوں_____چالوں کو مگر کچھ دیر لگتی ہے

وہ بازی جیت جاتے ہے______ میرے چالاک ہونے تک
@⁨Gohar⁩ 

گیا تھا ترک محبت کا فیصلہ کرنے
مگر میں آخری بازی بھی اس سے ہار آیا
@⁨سید وقار احمد مشاعرہ گروپ⁩ 
جہاں شطرنج بازندہ فلک ہم تم ہیں سب مہرے
بسان شاطر نو ذوق اسے مہروں کی زد سے ہے
 @⁨Razeq Husain⁩ sir



اُلفت بھی انوکھی بازی ہے
 چال اس کی نصیر اُلٹی پُلٹی
وہ ہار کـے جیتا کرتـے ہیں 
ہم جیت کے ہارا کرتے ہیں

 
مانا  حسین  تھا  وہ  بلا  کا  ذہین بھی
وہ  شخص  بے مثال  تھا  کچھ بھی نہیں بنا
شہہ  مات  ہو  گئی پھر  دل  کی  بساط پر
کھیلا  مگر  کمال  تھا  کچھ  بھی  نہیں بنا

@⁨Abdus Sattar Sir Nanded⁩ 

Second prize goes to
بحث شطرنج شعر موسیقی
تم نہیں تھے تو یہ دلاسے رہے
@⁨Afreen Huma Javed⁩ 
ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں
تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی
@⁨Fauzia Baji Malik Amber⁩ 

*انعام سوم*

شطرنج میں جی ان کا بہل جائے تو اچھا
اے مہرؔ یہ چال اچھی ہے چل جائے تو اچھا
@⁨Bushra Jabeen Baji⁩