Monday, May 22, 2023

مرد کیوں روتا ہے

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ* 
محترم احباب بزم محفل مشاعرہ
امید خیر وعافیت سے ہوں گے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ *مرد کب روتے ہیں؟*
*مرد روتے ہیں جب ان کی مائیں فوت ہو جاتی ہیں.... مرد روتے ہیں جب وہ اپنے پیاروں کی ضرورتیں پوری نہیں کر پاتے.....*

*مرد روتے ہیں جب ان کا کوئی بچہ بیمار ہوتا ہے ۔ مرد اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے وقت روتے ہیں.....*

*مرد اس وقت روتے ہوتے ہیں جب وہ اپنے بچوں کے لئے کھانے پینے یا کسی بھی ضرورت یا معمولی سی خواہش کا بندوبست نہیں کر پاتے ۔۔۔*

*مرد روتے ہیں لیکن مردوں کے آنسو گال پر آنکھ سے نہیں گرتے اور نہ ہی ان کے آنسو کسی کو نظر آتے ہیں ... یہ دل سے روتے ہیں اور ان کے آنسو دل پر ہی گرتے ہیں جس کا اثر چہرے کی جھریاں بالوں کی سفیدی اور کانپتے ہاتھ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں ...
19 ستمبر 1999 کے دن پہلی بار میں نے میرے والد محترم کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے اس دن میری دادی زیتون بی کا  انتقال ہوا تھا۔ میرے والد کی عمر دو سال کی تھی تب میرے دادا سیف اللہ خان کا یرقان کے سبب انتقال ہوا تھا۔ وہ مرد جس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنے والا کوئی نہیں پھر بھی زندگی بقاء کے لیے دگ و دو کرکے اپنا ایک مقام بنانا اور اس مقام کو حاصل کرنے کے لیے ماں کی دعاؤں کا سہارا لینا اور جب وہ سہارا چھوٹ جائے تو آنسوؤں کا جاری ہونا بنتا ہے ایک ماں ہی ہوتی ہے جو اولاد کو ۹ ماہ کوکھ میں ۳ سال گود اور پھر زندگی بھر دل میں رکھتی ہے۔ میں اپنے بچپن میں دیکھا کہ ایک قابل عورت کس طرح سے خاندانوں کی تربیت کرنے کا ہنر رکھتی ہے میرے گاؤں کا جو گھر تھا جو تقریبا ۱ ایکڑ کی زمیں پر مٹی کا بنا ہوا تھا گاؤں کا ہفتہ واری بازار کے سینٹر میں تھا پیر کے روز بازار بھرا کرتا آس پاس کے گاؤں والے سامان خریدنے جب آتے اس دن ہمارے گھر میں بڑی چہل پہل ہوتی دادی اور والدہ ایک بڑے سے رنجن میں سالکری سے پینے کا پانی بھرا کر رکھ دیتے دن بھر جس کو ضرورت ہوتی آتا پانی پیتا  نیم کے درخت کے سائے میں دوپہر کا کھانا کھاتا وہ منظر میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا گیہوں چھاننے دال بنانے کلڈایاں سکھانے عورت یا لڑکیاں گھر میں آتیں  ان کی تربیت اور سلائی کڑھائی سکھانا ان کو سلیقہ سکھانا میری والدہ کا کام تھا اور والد محترم کو کبھی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا کہ انھیں کیوں جمع کرتے ہو۔ 
میرا کیا ہے قصہ ایک شروع کرتا اور دوسری کہانی میں گھس جاتا ہوں۔
بات چل رہی کی مرد کے درد کی تو مرد صرف مرد کو ہی ہوتا ہے ایسا نہیں ہے درد عورتوں کو بھی ہوتا ہے مگر وہ چیخ کر چلّا کر رو دھو کر اپنا درد عیاں کر دیتی ہیں۔ مگر مرد کو رونے کے لیے سوائے تنہائی کے کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
درجہ بالا تصویر میں ۳ تصویروں کا مجموعہ شامل ہے جس میں سے مرد کے درد کی بات ہوچکی مگر وہ سوتی ہوئی لڑکی تو وہ کوئی اور نہیں وہ ہر بات کی لاڈلی بیٹی ہے جسے وہ سوتا ہوا دیکھ اس کی معصومیت پر روتا ہے۔ کسی نے کہا تھا اگر وقت کا بادشاہ ہو اور اس بیٹی گھر میں بیٹھی ہو تو وہ بھی فکر میں روتا ہے اللہ ہر بیٹی کے نصیب اچھے کرے خوش رکھے شاد رکھے آباد رکھے۔
*جب جب جہاں جہاں مجھے تیری ضرورت پڑی* 

*تب تب وہاں وہاں میرا ساتھ چھوڑنے کا شکریہ*
آخری تصویر جس میں ایک عورت اپنے بچوں کو لیے کہیں جا رہی ہے مگر کہاں اور کیوں؟
ہر ایک سوچنے کا زاویہ الگ ہوگا کوئی سوچے گا وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر جارہی ہے۔ اس کا یہ سوچنا بھی جائز کیونکہ آج کے دور میں ہر کوئی توجہ چاہتا ہے اور ہم اپنے اقرباء کو توجہ نہیں دے پا رہے کیونکہ ہر جگہ दोघात तीसरा موجود یعنی وہ وسیلہ جو آپ کے اور میرے ہاتھ میں موجود ہے ہر کوئی اس سے پریشان ہے اصل میں ہم کو اس کی لت لگ گئی ہے جس کے سبب سب چھوڑ کر جانے کے لیے تیار ہے۔ 
اگر ہم اپنے گھروں کی خوشیوں کو برباد ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو اس کا کم سے کم استعمال کریں۔
جو آپ کو بھول گئے۔ چھوڑ گئے۔ ۔ آپ انہیں نہیں بھول پا رہے ۔ حد نہیں ہے ویسے ؟؟ کہاں گئی آپ کی عزت نفس ؟؟ اس کےلئے آپکو بھولنا ، چھوڑ جانا آسان ۔ مگر آپ کےلئے نہیں ۔۔واہ واہ ، بہت خوب ۔ ۔ ۔کیا آپ کا رونا ، اداس ہونا ،  محبت ، جذبے ، اتنے ہی غیر اہم ہے یار کہ کسی ایسے بندے کے لئے ضائع  کرو ؟؟

مانا کہ یہ تکلیف سہنا مشکل مگر ۔ ۔ وقت گزرتے ساتھ کم ہوتے ہوتے ختم ہو ہی جاتی ہیں صاحب ۔ ۔شرط یہ ہے کہ سوچوں پر قابو ہو ۔ کوئی گری پڑی شخصیت نہیں آپ کی کہ کوئی تمہیں چھوڑے ، بھولے اور تم پھر بھی پیچھے پیچھے لپکو ۔ ۔ لیو اٹ ناؤ ۔ ۔ ۔پہلے اپنے آپ کو ، اپنے جذبوں کو " خود اہمیت " دو گے تو کوئی اور دے گا ۔ 

یاد رکھو ایسے کمزور بنو گے تو روتے رہو گے ، رگڑے جاؤ گے ، پیچھے رہ جاؤ گے بے قدرے ہو جاؤ گے، ۔ ۔ ۔نہیں ، نہیں ۔ ۔یہ سب تمہیں بلکل بھی سوٹ نہیں کرتا یار ۔ ۔ اس لئے اٹھو ، مسکراو اور خود کو بدلو تاکہ کچھ لوگوں کو پچھتاوا کے مستقل مرض میں مبتلا کر سکو ، اپنے don't care attitude کے ساتھ کہ زندگی بہت خوبصورت ہے۔

ہم تیری ہی محفل سے سبق اندوز ہوئے ہیں
 کہ گل اپنے چمن کے ویران نہیں کرتے۔

بس بہت ہو گیا رونا دھونا اب نئے سرے سے زندگی کا آغاز کیجیئے۔⁦
*کِسی بھی شخـــص کو اتنا*
*حق مت دیجیئـــے کہ وہ*
*فیصلـہ کرے کہ آپ کو*
*کب ہنسنــا ہے اور کب رونا ہے*
اپنوں کو وقت دو اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ بولو ان کے ساتھ ہنسوں کھیلو گدگداؤ۔ خیر باتیں تو بہت ہے مگر ایک بات یاد رکھو *میرے پاس تم ہو*

🌹🌹🌹 *انعام اول* 🌹🌹🌹
*چھوڑ کے مجھ کو کیا گیا وہ شخص*
*تب سے سب کچھ ہی لٹ گیا میرا*
ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب
*‏تم نے دیکھے ہیں کبھی؟درد کو سہتے ہوۓ لوگ*
*بھیگی آنکھوں سے ، "سب اچھا ھے" کہتے ہوۓ لوگ*
سیدہ ھما غضنفر جاوید صاحبہ 
*آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا*
*ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر*
قاضی فوزیہ انجم صاحبہ
 🌹🌹   *انعام دوم*  🌹🌹

*جہاں خوشیوں کی سرگم ہے وہاں پر غم بھی ہوتے ہیں*
*جہاں بچتے ہیں نقارے وہیں ماتم بھی ہوتے ہیں*

مہرالنّساء مہرو بیجاپور کرناٹک

*ضبط سے بڑھ کر اگر درد چھپایا جاۓ* 

*حوصلے ٹوٹ کے آنکھوں سے نکل آتے ہیں*
خان گوہر نایاب فضل اللہ خان 

*وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا*

*کس گھر میں خوشی ہوتی ہے ماتم نہیں ہوتا*
فہیم سر
*ہر درد پہ شرط لگاتے ہو۔۔۔۔۔!!*
 *آواز نہ نکلے سسکیوں کی...!!*
*کوئ پوچھ لے آکے ہم سے کبھی*
 *کیوں تار بندھی ہے ہچکیوں کی...!!*
فہیم خاتون مسرت باجی
❤️❤️ *انعام سوم* ❤️❤️
*تو نے دیکھا ہی نہیں چھوڑ کے جانے والے*
*کیسے روتے ہیں محبت کو نبھانے والے*
ایم کے وسیم راجا
*محبتیں  بھی منافقوں کو  مِل گئیں ،  بٗرا  ہوا* 
*یہ لوگ سوچتے نہیں کسی کو چھوڑتے ہوئے*
عبدالستار سر
*کیا پوچھتے ہو درد کہاں ہے کہاں نہیں ہے*
 *رکہا ہے تم نے ہاتھ جہاں بس وہاں نہیں*
سید شفیع الدین نہری
*دھوپ میں باپ،  چولہے پہ ماں جلتی ہے*
*تب کہی جا کر اولاد پلتی ہے*
رازق حُسین
*روٹھ کر آنکھ کے اندر سے نکل جاتے ہیں*
*اشک بچوں کی طرح گھر سے نکل جاتے ہیں*
ثنا ثروت صاحبہ

Sunday, May 21, 2023

ہچکی

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
_احباب بزم محفل مشاعرہ!_
*_ایک ہچکی میں کہہ ڈالی سب داستان_*
*_ہم نے قصہ کو یوں مختصر کر لیا_*

بچپن میں جب کبھی ہچکیاں آتی یا کسی کی سنائی دیتی تو گھر والے اکثر کہا کرتے تھے کی کوئی یاد کر رہا ہے شاید اب ان ہچکیوں کو روکنے کا تدارک کیا تھے؟ تو بتایا جاتا کہ جو تمہیں یاد کر رہا ہے اس کا نام لو، اگر اس شخص کا نام لینے پر ہچکی رک گئی تو سمجھ جاؤ اسے تمہاری یاد بڑی شدت سے آ رہی ہے۔ 
میں بھی کبھی اس کھیل کا شکار ہوگیا اور مجھے ہچکیاں لینے کی لت لگ گئی اور میں دوستوں کے نام لینے لگا جس دوست کے نام پر ہچکی رکتی اس کو اپنا بہترین دوست جانتا۔ اچھا کھیل تھا مگر اب ہچکیاں آنا ہی بند ہوگئی مانوں سب چاہنے والوں کی چاہتیں ختم ہوگئی سب آشنا نا آشنا ہوگئے، دل محبتوں سے خالی ہوگئے دلوں پر اداسیوں کا راج ہونے لگا۔
ایک وقت تھا کسی کے آنے اور جانے کے وقت مقرر ہوا کرتے تھے گھڑیاں اتنی نہیں تھیں جتنی آج ہوا کرتیں ہیں مگر لوگوں کے پاس وقت تھا ایک دوسروں کو یاد کرنے کی وجہ تھی، جب کبھی کسی کی یاد آتی اس کا عکس بھی پانی میں کبھی درپن میں کبھی کسی کے مسکراتے چہرے میں نظر آ جاتا تھا۔ آج ہچکیاں آنا بند ہوگئی لوگ یاد نہیں کرتے آئینوں میں اب کسی کا عکس نہیں دکھتا لوگ اب اپنی ہی پرچھائیں سے ڈرنے لگے ہیں لوگوں کو تو اپنے زندہ رہنے کی وجہ بھی یاد نہیں رہی ہائے بے ہسی ہائے رے بربادیاں آج ہر یہ محسوس کرتا ہے کہ میں آباد ہوں مگر مجھے نہیں لگتا۔
ہچکیاں آکر مجھے تسلی دیا کرتیں تھیں کہ یاسر تمہیں یاد کرنے والے احباب زندہ ہے کوئی پردے کے پیچھے سے تمہاری آبادی کی دعا مانگ رہا ہے۔ آج کل کسی کسی کی سسکیاں ہچکیوں میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
*ہچکیاں ایک ایسی پراسرار بیماری یا عادت ہے جس کے بارے میں ڈاکٹرز بھی تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے البتہ اب تک ہونے والی تحقیقات میں یہ بات ضرور سامنے آئی تھی کہ ہچکیاں بچوں کی نشو و نما کے لیے مفید اور نوجوانوں کے لیے پریشان کُن ہیں* 
ویسے بھی ان ہچکیوں کا سامنا ہر انسان کو اس کی پیدائش سے لے کر موت کے آخری مرحلے تک کسی نہ کسی لمحہ کرنا ہوتا ہے ایک آخری ہچکی زندگی کے تار کو توڑ دیتی ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے 
*ہچکیوں پر ہو رہا ہے زندگی کا راگ ختم* 

*جھٹکے دے کر تار توڑے جا رہے ہیں ساز کے*
*فہیم سر*
آئیے رخ کرتے ہیں نتیجے کی طرف

🌹🌹🌹 *انعام اول* 🌹🌹🌹 
اسی نے یاد کیا ہوگا مجھ کو شدت سے 
کہ اس کا نام لیا اور ہچکییاں غائب  


یہ ہچکیوں کا تسلسل یہ قلب کی دھڑکن 
کسی جگہ تو میرا ذکر ہورہا ہوگا----
*سید نسیم الدین وفا* سر پہلی ہچکی والی کہاں ہے ویسے سر آپ کی دونوں ہچکیاں قبل قبول اور قابل ستائش ہے 


کنارے ، سانس کی ، سب کشتیاں لگی ہوئی ہیں
چلے  بھی  آؤ  !  کہ  اب  " ہچکیاں "  لگی  ہوئی  ہیں

رات سسکیوں اور ہچکیوں کی تکرار چلی
ہمہ  تن  گوش ،  ہم اشک  چھپاتے  رہے
*سید عبدالستار سر*🧑‍🏫
جو زیادہ یاد آؤں میں تو تم جی بھر کے رو لینا

اگر ہچکی کوئی آۓ سمجھ لینا کہ وہ میں ہوں
*ایم کے وسیم راجا*👨‍🦱

کبھی جو ہچکیاں آی تو پانی پی لیا کرنا
کبھی یہ فرض مت کرنا ۰ تمہیں ہم یاد کرتے ہیں
*قاضی فردوس فاطمہ*

❤️❤️❤️ *انعام دوم* ❤️❤️❤️

نزع کی آخری ہچکی کو ذرا غور سے سُن
زندگی بھر کا خلاصہ اسی آواز میں ہے

*فہیم خاتون مسرت صاحبہ* 👩‍🏫
جاں کنی وہ کہ فرشتے بھی پناہیں مانگے
آپ آئیں تو مری آخری ہچکی نکلے
*ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب*👨🏻‍⚕️
ایک نالے میں ساری رات گئی
ایک ہچکی میں کائنات گئی
بہت خوب *قاضی فوزیہ انجم صاحبہ* 
یہ ہوتی ہے محبت واہ ڈاکٹر صاحب 

آخری ہچکی بھی تیرے زانو پر آۓ
موت بھی شاعرانہ چاہتا ہوں
 یہ شعر پہلے فوزیہ باجی پھر *فہیم خاتونمسرت باجی* نے پھر *فرح نور محمد* صاحبہ نے ارسال کیا 💐

💐💐💐 *انعام سوم* 💐💐💐
وصل اک خواب, آخری ہچکی
عشق ہجرت کا استعارہ تھا

جسکو سمجھا تھا یہ محبت ہے
وہ تو حرفِ سُخن تمہارا تھا
*سیدہ ھما غضنفر جاوید*🤵🏻‍♀


وقت نزع جنبش لب سے اک آہ نکلی

فسانہ عمر بھر کا آخری ہچکی میں تھا


*خان گوہر نایاب فضل اللہ خان*💐
سسکیوں ہچکیوں آہوں کی فراوانی میں
الجھنیں کتنی ہیں اس عشق کی آسانی میں

*خان آفرین*

مجھے یاد کرنے سے یہ مدعا تھا

نکل جائے  دم  ہچکیاں  آتے آتے
*فہیم سر اورنگ آباد*

تجھ کو ہی سوچتا رہوں فرصت نہیں رہی
اور پھر وہ پہلے والی طبیعت نہیں رہی

وہ ہچکیوں سے روتا رہا اور میں چپ رہا
شاید یہ سچ ہے مجھ کو محبت نہیں رہی
*مسعود رانا صاحب*
آخری سسکی اگر آدھی گلے میں رہ جائے
کاش مل جائے کوئی کرب سمجھنے والا
آخری ہچکی ابھی دور سہی دور سہی
شام کا اپنا ہی انداز ہے دکھ دینے کا

*شیخ عبدالرازق حسین*
چاند ڈوبا ہے کہیں کرب زدہ ہچکی میں
رات بیٹھی ہے کوئی درد کا مارا لے کر
*مرزا حامد بیگ صاحب* کافی تاخیر سے ۱۰ بجکر ۵ منٹ پر

Sunday, March 12, 2023

عبث

دعا میں التجا نہیں،
تو عرض حال مسترد 
سرشت میں وفا نہیں،
تو سو جمال مسترد 


ادب نہیں، تو سنگ و خشت
 ہیں تمام ڈگریاں 
جو حُسن خلق ہی نہیں،
تو سب کمال مسترد 


عبث ہیں وہ ریاضتیں
جو یار نہ منا سکیں 
وہ ڈھول تھاپ بانسری،
 وہ ہر دھمال مسترد


کہو سنو ملو مگر
 بڑی ہی احتیا ط سے 
مٹھاس بھی تو زہر ہے،
 جو اعتدال مسترد
مراسلہ سید *وقار احمد سر ناندیڑ*

احباب من السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ دن گزرتے جا رہے ہیں ہم اپنی عمر مکمل کرکے نہ پوری ہونے والی حسرتوں اور چاہتوں کو یہیں چھوڑ کر دارِفانی سے رخصت ہونے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اب دیکھیے نا گذشتہ اتوار فرصت ہی میسر نہیں ہوئی اور جب اتوار گزر گیا تو محسوس بھی نہیں ہوا کہ اتوار گزر گیا اور پیر کی رات 7 بجکر 50 منٹ کو میں نے اتوار سمجھ کر تصویر پوسٹ کردی مقابلہ چلتا رہا اور ممبئی سے اورنگ آباد کا میرا یہ سفر بھی مگر اس سفر میں ایک فکر بھی سفر کر رہی  تھی کہ میں جس شہر جا رہا ہوں اس کا نام تو اب کچھ دنوں بعد وہ نام رہے گا یا نہیں ہر اورنگ آبادی کے چہرے پر یہ فکر نمایاں نظر آ رہی ہے میں آفس پر آویزاں ہر تختی کو دیکھتا ہوں اور دل افسردہ ہو جاتا ہے کبھی کبھی سانسوں کی روانی تھکاوٹ کی محسوس ہوتی ہے یہ محسوس کرتا ہوں جیسے دل رو رو کر تھک چکا ہے کبھی میں اپنے آپ کو ایک گروہ کے ساتھ دیکھتا ہوں اور کبھی تنہا گروہ میں رہنے کے باوجود میں تنہا ہی رہتا ہوں یہ کیا ماجرا ہے نا جانے کب یہ اداسی ختم ہوگی نا جانے کب خوشگواری رونما ہوں گی کب دلوں میں سویا ہوا احساس جاگے گا-

*جی میں آتا ہے کہ اک بار تو چیخوں ایسے*
*ساری دنیا کو خبر ہو کہ تجھے کھویا ہے*
یہ عالم دل کا ہے اور ھما نے اسے بہتر انداز سے اپنے شعر میں بیان کرنے کا موقع دیا ہے  اس کے علاوہ علیم اسرار سر یوں گویا ہوئے 
*اک شخص خوبصورت سی زندگی کو ہارے*
*بیٹھا ہوا ہے بے کل بے بس سڑک کنارے*

علیم اسرار
علیم اسرار سر  کا یہ شعر ہر اورنگ آبادی کے نام کرنا چاہوں گا کیونکہ میرے شہر کی حالت ایسی ہی ہوگئی ہے۔

اس لیے درجہ بالا شعر انعام اول کا حقدار ہے اور اسی کے ساتھ یہ دو شعر بھی
*زمیں روئی ہمارے حال پہ اور آسماں رویا*

*ہماری بے کسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویا*

خان گوہر نایاب فضل اللہ خان 
*کُنجِ تنہائی میں دیتا ہوں دلاسے کیا کیا*
*دلِ بیتاب کو مَیں اور دلِ بیتاب مجھے*
قاضی فوزیہ انجم صاحبہ 
اب میں کیا کر سکتا ہوں جب اشرف سر کا یہ شعر مجھے انعام اول دینے کی طرف بار بار راغب کر رہا ہو تو اس لیے اسے بھی انعام اول کا مستحق قرار کے کر شامل کر رہا ہوں
*لوگ کہتے ہیں بھول کر اسے نئی زندگی شرو ع کر*

*وہ روح پر قابض ہے مجھے کسی اور کا ہو نے نہیں دیتا ☺️*

انعام دوم
 جالنہ والوں نے ابھیبتک اورنگ آباد تبدیلی نام کے سلسلے میں اعتراضات داخل نہیں کیے کیونکہ ان کا کہنا ہے
دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں 

*بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں* 
*ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی*

*جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں*
فیاض سر جالنہ

*رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح*
*بیٹھے ان ہی کے کوچہ میں ہم آج گناہگاروں  کی طرح*
مجروح سلطانپوری
مراسلہ  سرتاج شاکر سر
*بیٹھا کرتے تھے جہاں تمہاری صحبت میں*
*آج بھی بیٹھتے  ہیں ہم  وہیں   مگر  تنہا*
سید عبدالستار سر 


انعام سوم
*چپ چاپ سے بیٹھے ہیں ہر اک نقش مٹا کر*
*تھک ہار کے دنیا کا کہا مان چکے ہیں*
خان آفرین
*بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے* 

*ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے* 
*نہیں مرتے ہیں تو ایذا نہیں جھیلی جاتی*

*اور مرتے ہیں تو پیماں شکنی ہوتی ہے*
سیم راجا سر ممبئی
تحریر 
خان محمد یاسر 

Sunday, February 19, 2023

چاندنی رات اور تنہائی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
احباب بزم محفل مشاعرہ 
کہی ان کہی، سنی ان سنی سب معاف اب ہم تذکرہ کرتے ہیں بس اس چاندنی رات اور تنہائی کا سب سے پہلے عالم نظامی کی یہ غزل پیش خدمت ہے

*چاندنی رات ہے میں ہوں مری تنہائی ہے* 

*یاد ایسے میں تری دل میں چلی آئی ہے* 

*وہ دغاباز ہے ظالم بڑا ہرجائی ہے*

*پھر بھی یہ دل ہے کہ اس کا ہی تمنائی ہے*

*وہ مری بزم تصور میں کچھ ایسے آئے* 

*جیسے جنت مرے آنگن میں اتر آئی ہے*

*باغ فردوس ہے سرقہ ترے حسن رخ کا*

*اور تفسیر قیامت تری انگڑائی ہے*

*نہ کروں یاد میں تجھ کو تو یہ دم گھٹتا ہے*

*تیری چاہت مجھے اس موڑ پہ لے آئی ہے* 

*نیند اوجھل ہوئی خوابوں کا سفر ختم ہوا* 

*پھر وہی میں وہی یادیں وہی تنہائی ہے*
شاید اس سے قبل کبھی میں نورالحسنین کی ناول چاند ہم سے باتیں کرتا ہے کا تذکرہ کیا تھا۔ چاند گواہی دیتا ہے دنیا کے ان تمام عاشقوں کے عاشقی کی جیسے کہ ہیر رانجھا لیلی مجنوں شیریں فرہاد اور نہ جانے کئی ایسے اور ناکام عاشقوں کی جو آج بھی چاند کو دیکھ کر کسی اور کے چاند کو یاد کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔
خیر ہمیں لایعنی باتوں سے کیا لینا دینا ہم اپنے اپنے چاند تاروں کو آج کے دور دیکھ کر خوش ہے۔
الحمدللہ آج کا مقابلہ بہتر سے بہترین کی طرف گامزن ہوگیا تمام اشعار عمدہ اور خوش دلی سے ارسال کیے گئے ہیں آپ تمام ہی قابل مبارکباد ہو۔
*رستوں کی نیند گئی قدموں کی چاپ سے*
*مجھ کو تمام رات میرا گھر نہیں ملا*

فہیم احمد صدیقی
*بہت کوشش میں کرتی ہوں اندھیرا ختم ہوں لیکن*
*کہیں تارےنہیں دکھتے کہیں پہ چاند آدھا ہے*
فہیم خاتون مسرت باجی 
چلتے ہیں انعام اول کی طرف تو 🌹🌹 *انعام اول*🌹🌹 حاصل کیا ہے

*اجنبی شہر کے اجنبی راستے میری تنہائی پر مسکراتے رہے*
*میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا تم بہت دیر تک یاد آتے رہے*

مراسلہ ثنا ثروت صاحبہ 


*ان ہی راستوں نے جن پر کبھی تم تھے ساتھ میرے*
*مجھے روک روک پوچھا ترا ہمسفر کہاں ہے*
مراسلہ سیدہ ھما فرحین

*اس راستے پہ کیسے چلوں میں ترے بغیر*
*مجھ سے اکیلے راستہ کٹنا تو ہے نہیں*
مراسلہ سید عبدالستار سر 
*یہ جدائی کے اندھیروں میں دہکتی ہوئی رات* 
*چاندنی چھوڑے گی اک دن مجھے پاگل کر کے*
مراسلہ وسیم راجا

*رات کو جب یاد آئے تیری خوشبوئے قبا*
*تیرے قصے چھیڑتے ہیں رات کی رانی سے ہم*
مراسلہ ڈاکٹر جواد احمد خان 

🍁🍁🍁 *انعام دوم* 🍁🍁🍁
*محبت میں ایک ایسا بھی وقت آتا ہے انساں پر۔* *ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگ جاں پر*
سید شفیع الدین نہری 

*صبح کے اجالے میں ڈھونڈتا ہے تعبیریں*

*دل کو کون سمجھائے خواب خواب ہوتے ہیں*
مراسلہ محمد عتیق خلد آباد 


*وقت کے ساتھ دن گزرتا ہے*
*اور پروانہ شب کو جلتا ہے*

*روشنی کو زمیں پہ پھیلانے*
*"صبح  سورج   نیا  نکلتا  ہے"*

*شب کی تنہائہوں میں اکثر ہی*
*کارواں اشک کا نکلتا ہے*

*رندؔ آوارگی بہت کر لی*
*گھر چلو اب تو دن بھی ڈھلتا ہے*

*رازق حُسین*
*جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے*
*چاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے*
مراسلہ قرۃالعین صاحبہ

*کیا ضروری ہے ہر رات کو چاند تم کو ملے*
*جگنووں سے نسبت رکھو چاندنی کا بھروسا نہیں*
مراسلہ عمران احمد خان


❤️❤️❤️ *انعام سوم* ❤️❤️❤️
*چاند جیسے ہی اُترتا ہے مرے کمرے میں*
*نیند جاتی ہےکہاں، خواب کہاں جاتے ہیں*

*رات بھر دُور خلاؤں میں کھڑے رہتے ہیں*
*پھر یہی انجم و مہتاب کہاں جاتے ہیں*

مراسلہ عبدالغفار سر جالنہ


*تھی اسقدر عجیب مسافت کہ کچھ نہ پوچھ*
*آنکھیں ابھی سفر میں تھیں، اور خواب تھک گئے*
قاضی فوزیہ انجم صاحبہ 
*تو نہیں ہے تو مری شام اکیلی چپ ہے*
*یاد میں دل کی یہ ویران حویلی چپ ہے*
آفرین خان

بڑی بات ہے یا نعمتیں کہ وجود رات ہے
عبادتوں کی لذتیں کہ سکوت ساعت ہے
انصاری مسرت طاہر

Saturday, February 4, 2023

ذمہداری

اے زندگی تیری چالوں نے ہمیں جینا سکھا دیا
ورنہ دوغلے لوگوں میں کیسے گزارہ یہاں ہوتا

میں نے سبھی ریاضتوں کو رایگاں جانے دیا
کرتی گلا جو میرا کوئی دکھ تم پہ عیاں ہوتا

ہمیں تو لفظوں کے تیروں  سے چھلنی کیا گیا
ہم جو کچھ کہتے تو تم  سے برداشت کہاں ہوتا

ہم نے زندگی کے ہر رنگ سے تم کو آگاہ رکھا
آج سوچتے ہیں کوئی راز تو تم سے پنہاں ہوتا

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
احباب بزم محفل مشاعرہ
ایک تصویر اور اس کے کئی مطلب کبھی انسان اس تصویر خود کو ڈال کر دیکھتا ہے اور کبھی اپنے عدو کو بہرحال انسان اپنے بارے میں سی سوچتا ہے۔ آج جس تصویر کا نتیجہ پیش کیا جارہا ہے وہ آج کے دور کی سچائی ہے ہم اتنے خود پسند ہوگئے کہ ہمیں اپنے علاوہ اور دوسرا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔
*ہم نے سات چیزوں پر ایمان لائے اللہ پر فرشتوں پر کتابوں پر اور رسولوں اور آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے اور دوبارہ اٹھائے جانے پر۔*
ہم سب باتوں کو قولا اور عملا مان رہے ہیں مگر تقدیر کا گلا ہم سے نہیں جاتا۔
*‏ہزاروں نا مکمل حسرتوں کے بوجھ تلے*
*یہ جو دل دھڑکتا ہے ، کمال کرتا ہے....!!*
یہی شکر گزاری ہے وسیم راجا صاحب آپ کے اس شعر میں بہت دم ہے۔ اس طرح کا حوصلہ ہم سب میں ہونا چاہیے اکثر خواتین کو میں نے سنا ہے وہ اپنی تقدیر کا گلا کرتی ہے کہ ایسا ہوا نہیں وہ ملا نہیں یہ کیا نہیں، ایک آدمی زندگی کی آخری سانس تک اہل خاندان کی ضرورتیں پوری کرنے میں مصروف رہتا ہے اس کی ساری زندگی دوسروں کے لیے خوشیاں خریدنے میں ختم ہو جاتی ہے اور وہ خوش بھی اسی میں ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے سب خوش ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے اس کی اس کامیابی میں اس کی شریک حیات کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے وہ جو چاہتی ہے اس سے کروا کر رہتی ہے اسی لیے کہتے ہیں نا کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ویسے بھی عورت سے مراد ماں بیوی بیٹی اور بہن ہے خاندان تو ان کی ہی بدولت بنتا اور بکھرتا ہے۔اسی لیے تو علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
*وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ*

*اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں*
یہ ہمارے سماج کی بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ لڑکوں کی پیدائش خوشی کا باعث سمجھتے ہیں بلکہ صرف لڑکوں کی پیدائش کے دن ہی سب خوشیاں مناتے ہیں اور باقی تمام زندگی لڑکا عورتوں کی خوشیوں کے لیے مرمر کرتا ہے۔ بھاگم دوڑ کرتا ہے۔ آپ اگر غور کریں تو اکثر مرد آج بھی سال میں ایک مرتبہ ہی اپنے لیے کپڑے سلاتا اگر چپل یا جوتا پھٹ جائے تو اس کی مرمت کرکے پہنتا ہے گھر کی اسے کوئی خواہش نہیں ہوتی امیر ہوں دکھانے کی کوئی چاہ نہیں ہوتی اس کی کوئی حسرت نہیں ہوتی سوائے ایک بہترین شریک حیات کے اور وہ اسی شریک حیات کی حسرتوں کو پورا کرنے کے لیے اسے خوش رکھنے کے لیے اس طرف ہر حال میں گھر کو گھسیٹ کر چلتا رہتا۔
بہت ہوگی ادھر ادھر کی بس ایک آخری بات عورتوں کو بھی چاہیے کہ اپنے خاوند کا خیال رکھے کیونکہ وہ آپ کا مجازی خدا ہے۔ ویسے ہمارے گروپ میں ایسا کوئی نہیں جو اس نصیحت کا حقدار ہو پھر بھی بولنے میں کیا جاتا ہے کبھی کبھی کوئی بات ہوجاتی جو برداشت کے باہر ہوجاتی ہے۔ آپ تمام با سمجھ اور با سمجھ احباب کا کام نا سمجھ افراد کو سمجھ دینے کا ہوتا ہے آج کل کے معاشرے میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر نااتفاقی ہوکر بڑے بڑے جرموں کے مرتکب ہو رہے ہیں لوگ انھیں سمجھانا ہماری ذمہ داری ہے ہماری ذمہداری ہے کہ ہم اپنے گھروں کے علاوہ دوسروں کے گھروں کو بھی ٹوٹنے سے بچائے انھیں show off سے روکے انھیں بتائے کہ مقدر میں جو ہے مل کر رہتا ہے اور مقدر کی روزی بڑھانا ہے تو شکر کے کلمات کو بولو اور اپنی روزی بڑھاؤ۔
*خود سے لڑتا ہوں ، بگڑتا ہوں ، منا لیتا ہوں*

*میں نے تنہائی کو ، ایک کھیل بنا رکھا ہے*
مراسلہ گوہر نایاب فضل اللہ خان

👑👑 *آج کل پہلا انعام* 👑👑
یہ ذمہ داریوں کو نبھانا بھی ایک ذمہ داری ہے
چلتی رہتی ہے ساتھ ساتھ گور تک خوشی
*محترمہ مسرت طاہر عرف خوشی*
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
*فرحت جبین باجی*
اک دن اپنا آپ سمیٹا ، اس کوچے سے کوچ کیا
میں نے اپنی قیمت جانی اپنی ہی ارزانی سے
*وسیم راجا صاحب*

🌹🌹 *دوسرا انعام حاصل کیا ہے* 🌹🌹
غم زندگی ،غم بندگی ،غم دو جہاں غم کارواں
میری ہر نظر تیری منتظر تیری ہر نظر میرا امتحاں
آہستہ چل اۓ زندگی کئی قرض چکانا باقی ہیں
کچھ درد مٹانا باقی ہیں کچھ فرض نبھانا باقی ہیں
*ثنا ثروت صاحبہ*
گھر چھوڑنے کا جب بھی ارادہ کیا محسن
قدموں سے اسکی یاد کی خوشبو لپٹ گئ
محسن نقوی صاحب
*محترم سرتاج شاکر سر*
دنیا بہت خراب ہے جائے گزر نہیں
بستر اٹھاؤ رہنے کے قابل یہ گھر نہیں
*سید وقار احمد سر* 🍁

💐💐 *انعام سوم* 💐💐
اے دوست اب سہاروں کی عادت نہیں رہی
تیری تو کیا کسی کی ضرورت نہیں رہی !

اب کے ہماری جنگ ہے خود اپنے ہی آپ سے
یعنی کہ جیت ہار کی وُقعت نہیں رہی !

عادت اکیلے پَن کی جو پہلے عذاب تھی
اب لُطف بن گئی ہے اذیت نہیں رہی !
*گوہر نایاب خان*
مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
کسی موڑ پر پھر ملاقات ہو گی
*مرسلہ عبداللہ خان ممبئی*
زندگی تو اپنے ہی قدموں پہ اچھی لگتی ہے صاحب
اُوروں کے سہارے تو جنازے اٹھا کرتے ہیں
*محمد اشرف الدین سر لکی*
در و دیوار پہ حسرت سے نظر کرتے ہیں
خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں
*ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب*
یہ شہر سارا تو روشنی میں کھلا پڑا ہے سو کیا لکھوں میں

وہ دور جنگل کی جھونپڑی میں جو اک دیا ہے وہ شاعری ہے


Tuesday, January 24, 2023

مہمان

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
محترم احباب بزم محفل مشاعرہ 
آج 89 اشعار موصول ہوئے 10 بجے تک 10 کے بعد کے اشعار کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔
میں عنوان یہ سوچ کر دیا تھا کہ مہمان کی تعریف اور اس کی خدمت میں کچھ بہترین اشعار مل جائے گے مگر ہائے افسوس ان اشعار میں مہمان سے بیزارگی کی بو میں نے محسوس کی شاید اسی وجہ سے ہمارے گھروں میں بے برکتی پیدا ہورہی ہے میں نے کہیں پڑھا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہما کے گھر مہمان نہیں آتا تو پریشان ہوجاتے اور یہ سوچا کرتے کہ میرا خدا تو مجھ سے ناراض تو نہیں۔
حضرت ابراھیــــــــم خلیل اللہ کے پاس مہمان آ گئے اور بغیر اللہ کا نام لیے کھانا شروع کیا تو اللہ کے خلیل نے انھیں بسم اللہ پڑھنے کے لیے کہا وہ ناراض ہوکر چلے گئے پھر کیا ہوا وہ تو آپ کو معلوم ہے۔ ہمارے گھروں سے مہمان نوازی کی روایت نکل چکی ہے ہم اب کہیں جاتے بھی نہیں اور کسی کا آنا ہمیں پسند بھی نہیں رہا ہم اعلی اسٹیٹس والی زندگی جینا چاہ رہے ہیں۔ مگر ہم سماجی جاندار ہے اک دوسرے کے بغیر نہیں جی سکتے کہیں نہ کہیں مہمان بن کر کسی نہ کسی کے در پر جانا ہی ہوتا ہے پھر لوگ کہیں گے
*خوش فہمیوں کی بات الگ ہے مگر یہ گھر*
*جس کے لیے سجا ہے وہ مہمان تم نہیں۔۔۔۔!!*
ہم دل تھوڑا بڑا کریں اللہ رزق کے دروازے کھول دے گا وہ واقعہ یاد ہوگا موسی کلیم اللہ کا کہ طور پر جا رہے تھے ایک غریب آدمی ملا اور کہا موسی اللہ سے پوچھ میری زندگی کتنی ہے کبھی کھانے کو ملتا ہے اور کبھی نہیں۔ موسی علیہ سلام جب واپس آئے اور اس سے ملاقات کی تو بتایا کہ مختصر زندگی ہے تب اس نے کہا اے موسی تو خدا سے کہہ مجھے میری پوری غذا ایک ساتھ دے دے تاکہ میں پیٹ بھر کھا کر مر جاؤں پھر کئی دنوں بعد موسی کا گزر اس غریب کے گھر کے پاس سے ہو تو دیکھا وہ تو لنگر پڑے ہیں اللہ سے موسی علیہ سلام نے پوچھا یہ کیسا اتنے دنوں تک جی لیا جب کہ اس کی غذا مختصر تھی تب اللہ نے کہا اس بندے کو جو میں نے غذا فراہم کی تھی تب اس نے اپنی تمام غریب دوستوں رشتے داروں کو بلا کر کھانا کھلا دیا تب سے اس کی رزق میں برکت ہوگئی۔ 
*خزانہ اور نہ دولت تلاش کرتا ہوں*
*ماں کے قدموں میں جنت تلاش کرتا ہوں* 


*میرے خدا کوئی مہمان بھیج دے گھر پر*
*میں اپنے رزق میں برکت تلاش کرتا ہوں*
خصوصی انعام کا مستحق شعر شکریہ وسیم راجا سر

ایک مرتبہ ایک نبی کریم ﷺ نے مجمع میں پوچھا کون ایک مسافر کو اپنے گھر مہمان بنا کر لے جاتا ہے ایک صحابی رسول اٹھے اور انھیں گھر لے گئے بیگم سے پوچھا گھر میں کچھ ہے بیگم نے بتایا بچوں کے پرتا موجود ہے تب انھوں نے کہا بچوں کو تم بہلا پھسلا کر سلا دو اور اس مہمان کو وہ کھانا کھلا دو ہم جب دسترخوان پر بیٹھیں تم چراغ درست  کرنے کے بہانے بجھا دینے ہم خالی منہ چلاتے رہیں گے اور مہمان کو وہ کھانا کھلا دیں گے۔ اللہ نے ان صحابی کی رات کی مہمان نوازی کی اطلاع پہلے پہچا دی
*آپ کی شان ہے کیا شانَ رسولِﷺ عربی*
*آپ پر جان ہے قربان رسولِﷺ عربی*

*کس نے یہ مرتبہ پایا ہے ہوا کس کو عروج*
*ہوئے اللہ کے مہمان رسولِﷺ عربی* ابو ایوب رضی اللہ تعالٰی عنہما کے آپ مدینہ میں مہمان ہوئے مہمان خدا کی رحمت ہوتے ہیں ان کی ضیافت کرنا چاہیے مہمان اپن رزق خود لے کر آتا اور ہم مہمان سے بیزار۔مہمان کے تعلق سے سید نسیم الدین وفا کے ارسال کردہ شعر کے مطابق

*کوئے کو دانے ڈال کے خاموش کردیا* 
*کمبخت کہہ رہا تھا کہ مہمان آئے گے*
سید نسیم الدین وفا سر 

میں یہ نہیں کہتا کہ آپ بیزار ہے ماشاءاللہ آپ میں خلوص ہے مگر اشعار ارسال کرتے وقت لاشعوری میں بغیر سوچے سمجھے ارسال کردیئے۔
فھیم خاتون مسرت باجی  مہمان نوازی اور رشتہ نبھانے میں بڑے ماہر ہے پورے گروپ کو جوڑ رکھا ہے شکریہ باجی ابھی حال ہی میں عبدالستار سے گروپ چھوڑ کر چلے گئے تھے آپ تمام کی بے رخی دیکھ انھوں انھیں منایا اور پھر دوبارہ گروپ میں لے آئیں شکریہ فہیم باجی عبدالستار میں اپنی بیماری کے سبب گروپ پر توجہ نہیں دے پا رہا تھا یہ سانحہ کب ہوا کیسے ہوا معلوم ہیں پڑا فہیم باجی سے قسمیں لے دے کر تحقیقات کی تب جا کر معلوم ہوا میزبان مہمان بننا چاہ رہے تھے یہ گروپ آپ کا اپنا ہے ایسا نہ کرو آپ تمام کی یہ خاموش مزاجی ہمیں جینے نہیں دیں گی شکیب بھائی آپ کو بھی کیا ہوا ناراض ہو ہم سے چلو بھرے بزم میں اپنی جانے انجانے میں کی ہوئی کسی چھوٹی بڑی غلطی کی معافی تلافی چاہتے ہیں آپ کی تحریر کا اہل بزم بے صبری سے انتظار کرتے ہیں جیسے کسی زمانے میں مختار زیدی کی بال کی کھال کا ہے نہ سید نسیم الدین وفا سر یہ بزم ہماری سجائی ہوئی ہے اسے یوں ویران نہ ہونے دو۔
چلو جس کو فرصت ملے ملے نہ ملے نہ ملے مگر گروپ کوئی نہیں چھوڑے گا یہ وعدہ کرو روز دیوانگی کی حد تک وقت نہ دو میں ہفتے میں ایک آدھ بار ایک شعر عنوان کی مناسبت سے ڈال دیا کرو اس بزم کی دھوم عرب و عجم میں ہورہی ہے 
*اب جانے کی ضد نہ کرو*
*یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو*
*اب جانے کی ضد نہ کرو*
چلئے دیکھتے ہیں آج کا انعام اول کسے ملتا ہے
❤️🍁❤️ *انعام خصوصی* ❤️🍁❤️

*اک دل اور ارمان زیادہ*
*دل چھوٹا مہمان زیادہ*
*اتنا سفر ہوتا ہے مشکل*
*جتنا ہو سامان زیادہ*

ڈاکٹر منشاء الر رحمان خان منشاء اللہ منشاء الرحمان صاحب کی مغفرت فرمائے
قطرِ خُون سے کی ہم نے تواضع عشق کی
سامنے مہمان کے ...جو تھا میسر رکھ دیا
داغ دہلوی
ارسال کردہ وسیم بھائی
*سمیٹ لے گئے سب رحمتیں کہاں مہمان*
*مکان کاٹتا پھرتا ہے میزبانوں کو*
ثنا ثروت صاحبہ 
بہت خوب 
*‏دل کے مہمان تیری یاد لیے بیٹھے ہیں*
*ضبطِ دل کس سے کہیں، ضبط کیے بیٹھے ہیں*
*موت سے کہہ دو فراز ہم کو نہ مجبور کرے*
*جن کی یہ چیز ہے ہم ان کو دیئے بیٹھے ہیں*
سیدہ ھما غضنفر 
*مہمان کی آمد تیرے لئے باعث فخر ہے* 

*جو بھی آتاہے لے کر کے اپنا رزق  آتا ہے*
گوہر نایاب 
🌹❣️🌹 *انعام اول*  🌹❣️🌹
*اتنا دکھ دے کہ ترا درد بدن جھیل سکے*
*زندگی کچھ بھی ہو آخر ترا مہمان ہوں میں*
فہیم خاتون مسرت باجی 
*ایک شاعر کا ہوں مہمان خدا خیر کر*
*اس کے ہاتھوں میں ہے دیوان خدا خیر کرے*
سید وقار احمد سر 
*خوشیاں ہیں مہمان مری*
*غم میرا ہم سایا ہے*
ڈاکٹر جواد احمد خان 

💐❣️💐 *انعام دوم* 💐❣️💐
*کسی نہ کسی دن ہر ایک کو جانا ہے*          

*دنیا کیا ہے اک مہمان خانہ ہے*
سید شفیع الدین نہری
*تیری رحمت سے تو انکار نہیں ہے مولا*
*جیپ خالی ہو تو مہمان برے لگتے ہیں*
فرحت جبین 
یہ ایک کڑوی حقیقت ہے

*ہمارا اِنتخاب اچھّا نہیں اے دل! تو پھر تُو ہی*

*خیالِ یار سے، بہتر کوئی، مہمان پیدا کر*
مریم بتول 
*یہ بات بھی نہ جانتے انجان ہیں سبھی*
*دنیا میں چند روز کے مہمان ہیں سبھی*
آفرین خان
❣️🌸❣️ *انعام سوم* ❣️🌸❣️
*مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے*
*جوشِ قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے*
فریسہ جبین باجی 
*لازم ہے کہ ہـر شام ہتھیلی پہ رکــــھوں دِل،*
*وہ شَخـص ناں آ کر بھی تو مہمان ہے میرا*
قاضی فوزیہ انجم صاحبہ 
*تم منتظر کسی مہمان کے لگتے ہو* 
*تھکے ہارے کسی امتحان کے لگتے ہو* 
*کس لیے کر لیا تم نے عشق* 
*یار تم تو اچھے خاندان کے لگتے ہو*
 مریم بتول اور مرزا حامد بیگ
اجازت 
خدا حافظ 
فقط
آپ کا بھائی 
خادم
محفل مشاعرہ

Saturday, September 17, 2022

یادیں بچپن کی

🌹   *11/09/2022* 🌹🌹
*سزا دے ہی چکے تو حال مت پوچھو،،*
*ہم اگر بے گناہ نکلے تو افسوس بہت ہوگا تمہیں،،*
مراسلہ ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب 

مقابلہ  *تصویر پر شعر*
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جج : *خان محمد یاسر اشرف*
امید آپ خیریت سے ہوں گے۔ اا ستمبر ۲۰۲۲ کو جو تصویر میں نے پوسٹ کی تھی وہ آج کل کے حالات پر منحصر تھی۔ ہمارے بچپن میں والدین میں کب کس بات پر جھگڑا ہوتا ہے اس بات کا ہمیں آج تک علم نہیں چلو یہ بات مان بھی لے کہ والدین میں کبھی جھگڑا ہوگیا ہو مگر چاچا تایا ابا اور ماموں میں کبھی جھگڑا ہوا اس بات کا بھی علم آج تک نہیں ہوا نہ جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کی دس دس اولادیں ہونے کے باوجود کام کا بھی بوجھ محسوس نہیں کیا شکایت کے نام پر کبھی اپنے خاوند سے ایک حرف تک نہیں کہا آج ہم اپنی اولادوں کے تعلق کے آئے دن آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں بھائی بھائی میں آپس میں نہیں جم رہی بہن بہن میں آپس میں نہیں جم رہی ایسا کیوں اور اس کی وجہ کیا ہے اس کی تلاش ضروری ہے ہم دور حاضر میں جن حافظ ابراھیــــــــم خان محمودی کے عنوان مشکلات سے گزر رہے ہیں اور شکیب الحسن سر کی پریشانیوں میں مبتلا ہے اس کا حل ضروری ہوگیا ورنہ ہمیں اولادیں ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر غلط رہ پر چل پڑے گے اور ہمیں لیے باعث شرمندگی کا سبب بنے گے اس لیے اس تصویر کو مد نظر رکھ کر شعر کہنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے یہ تصویر پوسٹ کی گئی تھی۔
 چلیے دیکھتے ہیں اس تصویر کی تہہ تک کون گیا اور کس نے اس کا عنوان کو سمجھ ہر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔
    
           *انعام خصوصی* 

*کس جرم آرزو کی سزا ہے یہ زندگی*
*ایسا تو اے خدا میں گنہ گار بھی نہیں*
ڈاکٹر جواد احمد خان
ایسا تو آج کل کے سرپرستوں سے امتحان کے نتیجے کے دن بچہ پوچھتا ہوگا کیوں کہ تعلیم بہت مہنگی ہوگئی اور والدین سب کچھ بچے کو دے رہے ہیں سوائے وقت کے اور جو وقت دے رہے ہیں وہ ایسا جیسا کہ تصویر میں بتایا گیا ہے سوائے کچھ افراد کے یا خاندان کے۔
۔۔۔

*ادھوری اک کہانی چل رہی ہے*
*مسلسل زندگانی چل رہی ہے*
*جبر کرتے رہے ہم بچوں پر*
*روایت خاندانی چل رہی ہے*
مجھے نہیں لگتا کہ تصویر کو آپ سے بہتر کسی نے سمجھا ہوگا روایت یہ جو خاندانی ہے بہت خوب عالیجناب *سید وقار احمد سر*


*بچپن کی خوش مزاجیاں سب چھین کر میری*
*اے زندگی کیوں تونے جواں کر دیا مجھے*
ڈاکٹر سید زاہد علی صاحب

*مُنصفی شرط ہے آخِر کوئی کب تک بخشے*
*روز ہو جاتی ہے بُھولے سے خطا تھوڑی سی*

مراسلہ فریسہ جبین باجی

*بس ایک معافی ، ہماری توبہ کبھی جو ایسے ستائیں تم کو*

*لو ہاتھ جوڑے ، لو کان پکڑے ، اب اور کیسے منائیں تم کو*
مسعود رانا صاحب

            *انعام اول* 
*خوف کے سائے میں بچے کو اگر جینا پڑا*
*بدزباں ہو جائیگا یا بے زباں ہوجائیگا*
محمد عقیل سر 

*اس نئے دور کی تہذیب سے اللہ بچائے*
*مسخ ہوتی نظر آتی ہے بشر کی صورت*

عبدالرزاق حسین 

*ان سے وابستہ ہے مرا بچپن*
*میں کھلونوں کی قدر کرتا ہوں*
قاضی فوزیہ انجم صاحبہ 
ہوتا ہے بچپن میں بچہ دل کی بات کھلونوں سے ہی کرتا ہے چائے وہ گھر کا ٹوٹا ہو چمچہ ہی کیوں نہ ہو اس کی نظر میں اس  قدر اہمیت بہت ہوتی ہے
         
             *انعام دوم*

*میرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ*

*بڑوں کی دیکھ کر دنیا   بڑا ہونے سے ڈرتا ہے*
خان گوہر نایاب
 
خدا حافظ
خادم
محفل مشاعرہ 

*میں نے بچپن میں ادھورا خواب دیکھا تھا کوئی*
*آج تک مصروف ہوں اس خواب کی تکمیل میں*

نزہت صاحبہ 

*زَمین اُٹھا کے میں مِرّیخ پر نہ دے مارُوں*
*کسی پہ غصہ مجھے آج اِنتہا کا ہے*
وسیم راجا سر

      *انعام سوم*
*ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے*
*صرف دل کی گلی میں کھیلے تھے*
سیدہ ھما آفرین


*تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ*
*تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی*
فہیم خاتون مسرت باجی