Sunday, May 29, 2022

رشتے

پہلے زمانے میں ایک آدمی کے کوئی سولہ سترہ بچے اور 4 بیویاں ہوتی تھیں ،،
بچوں میں سے کسی نے بھی اسکول کا منہ نہ دیکھا ،، اردو پڑھنا بھی مسجد میں جاکر سپارہ پڑھ کر سیکھا ،جس نے بھی سیکھا ،، 

بچے سر اٹھاتے تو فصلوں اور کھیتوں میں دھکیل دئے جاتے ،، جو گائے دوسرے گاؤں سے جفتی کرا لاتا وہ پرائمری پاس کر لیتا ،جو ہل کی ہتھی پکڑ لیتا وہ میٹرک پاس کر لیتا ،جو کسی مل میں ملازم ھو جاتا وہ ایم اے کر لیتا ،، یوں والدین کا خرچہ کچھ نہیں تھا منافع ہی منافع تھا ،، لہذا والدین کبھی فرسٹریشن کا شکار ہو کر بچوں کی ماں بہن ایک نہیں کرتے تھے ،، راوی چین ہی چین لکھتا تھا ،بچے کی مونچھیں بھیگتی یا مسیں پھوٹتیں تو اسی حویلی میں سے ایک کڑی پکڑ کر اس کے ساتھ بیاہ دی جاتی اور چارپائی اور پانی کی بالٹی چھت پر چڑھا دی جاتی ،، شادیاں عموماً 16 سال کا لڑکا اور 14 سال کی لڑکی کے حساب سے ہوتی تھیں،، سارے دیہات کا تقریباً یہی رواج تھا ،، والدین بھی سوکھی تھے ،بچے ایک منہ اور دو ہاتھ لے کر آتے تھے ،، بچے دس بھی ہوں تو مونگ پھلی بھی چن کر لاتے تو بھی اپنی اپنی اس دن کی روٹی خود کما کر شام کو گھر آ جاتے تھے ،، 

نہ زیور بکتا تھا ، نہ ایجنٹوں کا دھوکا تھا ، نہ ادھر ادھر کے دھکے تھے ، نہ والدین کے کوسنے تھے اور نہ اولاد کا ڈیپریشن تھا سالوں میں بھی کوئی معاشی خود کشی نہیں ہوتی تھی ،جو ایک آدھ کیس دو چار سال میں ہوتا وہ عشق کی ناکامی کے سبب ہی ہوتا تھا ،، فرسٹریشن دونوں نسلوں میں نہیں تھی ،،،،،،،،،،،،

پھر دور تبدیل ہوا ،، لوگوں نے زمینیں بیچیں ، زیور بیچے اور بچوں کو ایران کے رستے یونان امریکہ فرانس آسٹریلیا اور دبئی کی طرف روانہ کیا ،، کچھ پہنچے کچھ رستے میں ہی خواہشات کے جنگل میں مر کھپ گئے ، جو پہنچے ان کا حال اے ٹی ایم یا گو کیش go cash کارڈ کا سا تھا ،، وہ کما کر بھیجتے گئے اور کوشش کی کہ ان کی اولاد پڑھ لکھ جائے اور کسی اچھے جاب پر لگ جائے ،، تعلیم میں مقابلہ بازی شروع ہوئی کیونکہ انگلینڈ کے لوگ پڑھے لکھے تھے وہ آفس جاب میں لگتے جبکہ ہندوستانی نچلے درجے کے کام کرتے تھے ،،

دیہات میں بجلی آئی تو ٹیلی ویژن کو بھی لائی ،اور دیگر بجلی کا سامان بھی امپورٹ ہوا ، والدین مشین کی طرح کما کر اولاد پر لگاتے چلے گئے اور اپنی جوانی اور اس سے متعلق جذبات کو قربان کر دیا ،، والد 4 ، 4 سال بعد ملک کا چکر لگاتے وہ بھی ایک ماہ کے لئے مہمان کے طور پر آتے ،، ایک ماہ میں بچوں کا کیا پتہ چلتا ہے ،فاتحہ خوانی پوری نہیں ہوتی تھی کہ چھٹی ختم ہو جاتی ،، سہولیات ملیں تو بچے بگڑتے چلے گئے اور والدہ چھپاتی چلی گئی اور مرد اندھا دھند 16 ، 16 گھنٹے کام کر کے کما کر گھر بھیجتے چلے گئے،،

اولاد پر لعن طعن شروع ہوا ، اخراجات کا حساب کتاب شروع ہوا ، تعلیم کو کوسا گیا اور والدین اور بچوں کے درمیان سرد جنگ شروع ہو گئی،،تعلیم دن بدن ٹف ھوتی چلی گئی وہ آج سے چالیس سال پہلے والی تعلیم نہیں تھی جب انگلش چھٹی کلاس سے شروع ہوتی تھی اور میٹرک تک ہمیں انگلش کے حروفِ تہجّی ہی درست کرنا سکھایا جاتا ،، مائی بیسٹ فرینڈ ، مائی فادر ،، ہنگری فاکس اور تھرسٹی کرو پر میٹرک ہو جاتی تھی ،، اب انگلش کچی یعنی کے جونیئر کے جی ہی شروع ہو جاتی ہے ، بستے بڑے ہوتے گئے اور رشتے چھوٹے ہوتے چلے گئے ،، ساری ساری رات پڑھ کر بھی بچہ پاس نہ ہو تو بھی گھر میں اس قدر ذلیل کیا جاتا ،، اس کو ماں بہن سے گالیاں دی جاتیں ، مار اس قدر شدید کہ پڑوسی آکر چھڑائیں تو چھڑائیں ماں بھی قریب جانے کی ہمت نہ کرے ،، یوں والدین اور اولاد کے درمیان نفرت کی نادیدہ مگر محسوس دیوار بننا شروع ہوئی ،،

ریزلٹ کے دنوں میں نہر کے پلوں پر پولیس پہرہ لگ جاتا ہے کیونکہ ناکام ہونے والے بچے ریزلٹ سن کر گھر جانے کی بجائے قبر میں جانے کو ترجیح دیتے ہیں ،، والدین اپنی جگہ اخراجات کے گوشوارے دکھاتے پھرتے ہیں اور بچہ اپنے جسم پر پڑے نیل کے نشان دکھاتا پھرتا ہے ،، یعنی کہ اس تعلیم کی بجائے ، ان اخراجات کی بجائے کچھ بھی نہ ہوتا تو والدین اور اولاد کا تعلق تو قائم رہتا ،، جب ہر لمحہ ان اخراجات کو کوسا جاتا رہے ،، تو وہ ناسور بن جاتے ہیں ،، ایک عورت بیرون ملک سے آئی تو گاؤں کی ایک غریب عورت کے لئے ایک سوٹ لے کر آئی اور اس کو کہا کہ آپ یہ سلا کرپہن لیں ،، مگر اس عورت نے شاید وہ سوٹ اپنی بیٹی کو دے دیا ہو گا ،، لیکن یہ خاتون جہاں اس غریب عورت کو دیکھتی فورا ً پوچھتی کہ " ماسی وہ سوٹ ابھی نہیں سلوایا ؟ " یہاں تک کہ ماسی نے اس خاتون کو دیکھ کر ہی رستہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ،، پھر وہ ان اوقات میں اس گلی سے گزرتی جب اس خاتون کے رستے میں ملنے کے امکانات نہ ہوتے ،مگر ایک دن صبح صبح بیچاری پکڑی گئی اور اس خاتون نے ابھی ماسی ہی کہا تھا کہ ماسی دونوں ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو گئی " خدا کا واسطہ ہے اگر ایک سوٹ مجھے دے ہی دیا ہے تو اب مجھے جینے دو "

یہیں حال اولاد کا ہو جاتا ہے کہ خدا کا واسطہ ہے اگر پڑھا ہی رہے ہو تو یہ رات دن کا راگ بھیرویں مت سنایا کریں ، سن سن کر ڈیپریشن ہو گیا ہے ،،
 والدین بچے میں نفرت بہت پہلے سے بھر چکے ہوتے ہیں ،، جب اس کی شادی ہوتی ہے اور وہ کمانے لگتا ہے تو والدین سے اس کا رویہ سرد مہری کا ہوتا ہے ،جس سے سمجھا یوں جاتا ہے گویا کہ آنے والی نے کان بھرے ہیں ، ورنہ ہمارا چاند تو ایسا نہیں تھا ،، الغرض والدین سب کچھ داؤ پر لگا کر ، اپنی جوانی کی قربانی دے کر صرف اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے بازی ہار جاتے ہیں ،، پھر جو بیٹے تابعدار ہوتے ہیں والدین خواہشات کا ایسا بار ان پر ڈالتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے حقوق پورے کرنے سے عاجز آ جاتا ہے ،، یوں گھر کے اندر ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے جب بیوی اپنے بچوں کا حق بھی پیچھے جاتے دیکھتی ہے ،، والدین ابھی بھی یہیں گردان کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے اتنا لگایا ہے اور اتنا کھپایا ہے ،لہذا سب کچھ ہمارا ہے ،، اور حدیث کوٹ کی جاتی ہے کہ تو اور تیرا مال تیرے والد کے ہو ،، جبکہ شریعت میں اولاد کی موجودگی میں چھٹا حصہ والد کا ہے اور چھٹا حصہ ماں کا ہے بیوی کو اٹھواں حصہ ملتا ہے اور باقی اولاد کا ہے ،مگر اس حدیث کو بیان کر کے اولاد کا حق بھی مار لیا جاتا ہے،،

والد صاحب بیٹیوں کی شادی کے لئے 10 لاکھ اور اٹھارہ لاکھ مانگتے ہیں ،، پلاٹ اور مکان کی قسطیں الگ ہیں ،، گویا پوری کوشش کی جاتی ہے کہ کمانے والے بیٹے کو ہینڈ ٹو ماؤتھ رکھا جائے اور وہ اپنی بیوی اور بچوں کا کچھ بھی نہ بنا سکے ،، بیٹا اپنے بچے بھیج کر والدین کے تقاضے پورے کرے تو وہاں اس کے بچے بیمار ہو جائیں تو کوئی اسپتال لے جانے کا روادار نہیں ہوتا ،، بیٹا پیارا ہے اور اس کی بیوی اور اولاد سے دشمنی ہے ،، بیٹا ذہنی مریض بن جاتا ہے گھریلو سیاست سے ماحول کو آلودہ کر دیا جاتا ہے ،عین اس وقت جب کھانا لگ چکا ہے ، بچے بیٹھے ہوئے ہیں کہ بہن یا بھانجی کا فون آ جائے گا کہ کھانا ہمارے ساتھ کھانا ہے ، اور وہ بھی سب کچھ لگا لگایا بچوں کے سامنے پڑا رہ جاتا ہے اور وہ بھانجیوں کے ساتھ کھانے چلا جاتا ہے ،، بیوی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتی ہے اور بہن بھائی کو گھر بلا کر بغلیں بجا رہی ہوتی ہے اور اس ڈھگے کو اس سیاست کی کوئی سمجھ نہیں لگتی ،، اس اولاد میں بھی پھوپھو اور چاچو اور دادا دادی کے خلاف نفرت بھرتی چلی جاتی ہے جو عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کی ماں بھرتی ہے جبکہ اصل میں باپ اور ددھیال کا رویہ ان میں زہر بھرتا ہے ،، 
اب جب باری آتی ہے رشتے ناتوں کی تو پھر ایک دوسرے کے یہاں رشتے کرنے کا امکان ختم ہو چکا ہوتا ہے ،، اور دونوں فریق رشتے باہر ڈھونڈتے پھرتے ہیں ،، دادا دادی اپنی ہی اولاد کو ایک دوسرے کا اس قدر دشمن بنا دیتے ہیں اپنی سیاست کی وجہ سے کہ مزید رشتے داری ممکن ہی نہیں رہتی ، ہر فریق دوسرے سے بدکتا ہے کہ یہ میری بیٹی سے بدلے لے گا ،، اور ایک فریق کہتا ہے کہ انہوں نے پہلے میرا شوہر ورغلائے رکھا تھا اب میں بیٹا ان کو کیسے سونپ دوں ،،

الغرض ہندوستان میں اب برادری سسٹم صرف شناختی کارڈ میں باقی ہے ،، عملی طور پر اپنا وجود کھو چکا ہے ،، کوئی مانے یا نہ مانے حقیقت یہیں ہے ،،
درجہ بالا تصویر میں اب صرف میاں بیوی اور دو بچے رہ گئے کیونکہ وہ اپنا گھر اپنے والدین سے نفرت کرنے لگے ہیں کیونکہ اپنی انا کی خطر وہ انھیں اپنوں سے دور کر چکے ہوتے ہیں۔
پہلے ہم ایک گھر میں سات آٹھ بھائی بہن رہتے تھے اور ماں یا باپ کو اپنے بازو سلانے کے لیے لڑا کرتے تھے اب انھیں ماں بات کی لاپروہی کی وجہ سے ان کے گھر میں سے انھیں ہی نکالا جارہا ہے۔ میرے پاس ایسی کہیں مثالیں موجود ہیں جہاں اچھے خاصے گھروں میں والدین کے لیے جگہ نہیں۔
خیر آج جب میاں اور بیوی دونوں نوکری پر ہیں اور گھر میں بچوں کو سنبھانے والا کوئی نہیں تب یہ احساس ہوتا ہے کہ اپنے تو اپنے ہوتے ہیں ان سے روٹھ کر کہیں نہیں جا سکتے انھیں منائیں انھیں عزت دے ان کی قدر کریں دونوں اس دور میں ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور دوسرے کے درد کی دوا بنیں۔ اور ایک بات غیروں کے طریقے کو مت اپناؤں کہ ہم دو ہمارے دو ایک گزارش ہر کوئی اپنا رزق لے کر آتا ہے جو آرہا ہے فقر و فاقے کی ڈر سے اسے قتل مت کروں اتنا کہہ کر میں اب نتیجے کا اعلان کرتا ہوں۔
*انعام خصوصی*
ہم نے اپنی مفلسی کا کچھ اس طرح رکھا بھرم

واسطے کم کرلیئے اور مغرور کہلانے لگے
*شیخ عبدالرازق حسین*
ساتھ رہنا ہو مگر رہنے کا سامان نہ ہو
ہائے احساس کا ایسا کبھی فقدان نہ ہو

 مشکل راہیں ہیں پر ترے ساتھ ہوں میں
ٹھیک ہو جائے گا سب کچھ، تو پریشان نہ ہو
*سید عبدالستار سر*

شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا

افتخار عارف
مراسلہ *فھیم خاتون مسرت باجی*

غربت کی تیز آگ پہ اکثر پکائی بھوک
خوش حالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا

اقبال ساجد
مراسلہ *مرزا حامد بیگ صاحب*


بستی سے رزق اٗٹھ گیا تو ہم بھی اٗٹھ گۓ
ہجرت مثال ِ مرگ تھی ! ٹالی نہیں گئ

شاھد ذکی
مراسلہ *محمد وسیم راجا* 

🌹🌹🌹 *انعام اول* 🌹🌹🌹

عزم و یقین ، حوصلے پل پل بہم رہے
 راہِ جنوں میں تم جو مرے ہم قدم رہے

شاعر : علیم اسرار ناندیڑ
مراسلہ:
*سید عبدالستار سر*



غربت میں بشر کے لیے سو طرح کا ڈر ہے
میرا تو سفر رنج و مصیبت کا سفر ہے
*سید وقار احمد سر*
🥈🥈🥈 *انعام دوم* 🥈🥈🥈
صعوبتوں کا سفر ہے سفر تمام تو ہو
ٹھہر بھی سکتا ہوں لیکن کوئی مقام تو ہو

*خان آفرین*

کچھ درد ایسے بھی ملے ہیں زندگی میں

جنہوں نے جان بھی لے لی زندہ بھی چھوڑ دی. ...
*خان گوہر نایاب* 

🥉🥉🥉 *انعام سوم* 🥉🥉🥉

کسی کا ساتھ اگر ہو تو خوب ہے ورنہ،
سفر تو کرنا ہے ہم نے، سفر تو جاری ہے
*انصاری شکیب الحسن سر*

وہ کون ہے جو مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے
یہ دیکھنے کو کئی بار رک گیا ہوں میں
*قاضی فوزیہ انجم صاحبہ*


خان محمد یاسر

Wednesday, May 11, 2022

جدائی

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
احباب بزم محفل مشاعرہ 
رمضان المبارک کے بعد دوبارہ محفل میں رونق لوٹ آئی اس کے لیے اللہ کا شکر ہے۔ جویریہ جودت کی شادی بھی ہوگئی اس کی جویریہ کو اور ان کے اہل خاندان کو ہم تمام کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد اور امید کرتے ہیں کہ وہ گروپ سے کبھی الگ نہین ہوں گی اپنے خاوند اور سسرالیوں کو وقت دے کر اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی خاوند کو بھی اس محفل کا حصہ بنائے گی۔ 
ان شاءاللہ 
ابتدا شکیب بھائی نے بہت اچھی کی بہترین تمہید باندھا نتیجہ بھی بہت خوب تھا بھائی شکیب بھائی کی صلاحیتوں کا کیا کہنا اللہ ان کو خوش رکھے اور ان کی تمام تمناؤں کو پورا کرے۔ 
مگر سنیچر کے روز مقابلہ منعقد نہیں ہوسکا مقابلے کے لیے کوئی سامنے نہیں آیا خیر کوئی بات نہیں کیونکہ کل عبدالستار سر نے ان کی باری آنے پر سب کو بولنے پر مجبور کردیا اور سب نے بہت اچھا بولا۔ فھیم باجی ستار کی شکایت بھابی مت کیجیے کہ وہ گروپ پر بہت اچھی باتیں کرتے ہیں بتائیے کہ آج کل وہ گروپ پر نہیں آرہے اس سے گھر کا اور گروپ کا ماحول خوشگوار بنے رہے گا۔
میں اکثر اصل مدعے سے ہٹ جایا کرتا ہوں اب آتے ہیں نتیجے کی طرف  میں نے ایک تصویر مقابلے کے لیے دیا تھا جسے دیکھ کر ماضی کی یادیں تازہ ہوگئی زیادہ تبصرہ نہیں کروں گا کیونکہ ایک ایک شعر کہیں صفحات کو بھرنے کے لیے کافی ہے۔
پھر بھی خان گوہر نایاب صاحبہ نے ارسال ہوئی غزل
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی 
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی 

نہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملال 
شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی 

محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا 
شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی 

عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت 
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی 

بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل 
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی 

کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن 
صدا تو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی 

کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت 
کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی 

عجیب ہوتی ہے راہ سخن بھی دیکھ نصیرؔ 
وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی 

https://youtu.be/vee-ARvduA4
ضرور سنئیے۔

اکثر ہماری ناچاقیاں ہمارے اپنوں کو ہم سے دور کر دیتی ہے۔  جب کسی نا اتفاقی کا عمل ہو تو اس کی تحقیق کرنا بھی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا کیونکہ آج ذرا ذرا سی بات پر رشتے ٹوٹ رہیں ہے اور شیطان تو بیٹھا ہی ہے رشتے توڑنے کے لیے وہ کہاوت ہے نا *عقلمند کو اشارہ کافی ہے*
🌹🌹🌹 *انعام خصوصی* 🌹🌹🌹

بحال کر یا مراسم کو توڑ دے یکسر
یہ درمیاں کی اذیت سے ان نکال مجھے
*شکیب الحسن سر*
جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے 

جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا 

*محترمہ فھیم خاتون مسرت باجی*

💐💐💐   *انعام اول* 💐💐💐
 
مریضان محبت کو فقط دیدار یار کافی ہے
ہزاروں طب کے نسخوں سے نگا یار بہتر ہے
*محترمہ فرحت جبین صاحبہ*


کتنے دن بعد پھر آج ان سے ملاقات ہوئی
رک گیا وقت درخشندہ مری رات ہوئی
پھر نگاہوں نے نگاہوں سے سنا قصۂ شوق
پھر اشاروں ہی اشاروں میں ہر اک بات ہوئی
*خان آفرین*
ہواہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم
کہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی
*ثنا ثروت صاحبہ*

🥈🥈🥈  *انعام دوم* 🥈🥈🥈

جاتے جاتے ان کا رکنا اور مڑ کر دیکھنا
جاگ اٹھا آہ میرا درد تنہائی بہت

*محمد عقیل سر*

ایک نظر مڑ کر دیکھنے والے
کیا یہ خیرات پھر نہیں ہوگی؟
*سیدہ ھما غضنفر جاوید صاحبہ*
 
اک بار اور دیکھ کر آزاد کر دے مجھے محسن
کہ میں آج بھی تیری پہلی نظر کی قید میں ہوں
*حافظ ابراھیــــــــم خان محمودی صاحب*
  🥉🥉🥉 *انعام سوم* 🥉🥉🥉
انا کے موڑ پربچھڑے تو ہم سفر نہ ملے 

ہم ایک شہر میں رہ  کر بھی عمر بھر نہ ملے 
*خان گوہر نایاب*
 
عین  ممکن ہے، بدل جائے ارادہ  اس کا
دیکھتے اس کو رہو ،تانگہ گزر جانے تک
          *ساجد مقصود صاحب*

بہت بہت شکریہ اپ تمام احباب کا کہ آپ نے تصویر پر شعر مقابلے میں شرکت کی اور محفل کو رونق بخشی۔
*خان محمد یاسر*

Sunday, December 26, 2021

انتظار

محترم احباب بزم محفل مشاعرہ
*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
آپ تمام کا بہت بہت شکریہ میری ۳۸ ویں سالگرہ کے موقع پر مبارکباد پیش کی آپ کی دعاؤں اور محبت کے نذرانے کا بھی شکریہ مگر سالگرہ منانا اور اس کی مبارکباد دینا یہ بدعت میں شامل اس لیے آئندہ اس بات کا تذکرہ ایک ایمان والے ہونے کے ناطے ہم اس بدعت سے اجتناب برتیں اور دوسروں کو بھی اس بات کی تاکید کریں۔ روز قیامت سوال کیا جائے گا ہم نے تمہیں عمر دی تھی کہاں لگائی جوانی دی تھی کیا کیا اور اپنے علم پر کتنا عمل کیا۔
زیر مقابلہ تصویر میں عمر کے اس دور کو دکھایا گیا ہے جب تنہائی کے سوا کچھ نہیں رہتا صرف یادیں اور اپنے چاہنے والوں کا انتظار چاہے وہ بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسہ نواسی کی ہی شکل میں کیوں نہ ہو مگر انتظار رہتا یا پھر اس بات کا انتظار رہتا ہے کہ جو بچھڑ گئے جاکر ان سے ملاقات کریں۔
اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ عمر جو تو دی ہے اس کا صحیح استعمال کرنے والا بنا اور آخری ہچکی کلمے کے ساتھ آئے اور تیری رضا کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوجائے۔
آمین
🌹🌹 **انعام اول** 🌹🌹

اس وقت اپنے آپ سے ہوں محو گفتگو
تصویر کوئی میری میرے ساتھ کھینچ لے
*انصاری شکیب الحسن سر*

ساری عمر چلتی ہے ،پھر بھی پوری نہیں ہوتی ۔۔
یہ محبت ہے جناب ،کبھی بوڑھی نہیں ہوتی
*خان گوہرنایاب*
عین مُمکن ہے کہ اُس وقت تُجھے میں نہ مِلوں
یار  جس  وقت تُجھے  ساتھ  نبھانا آئے

‏میری تصویر بنانے کی جو دُھن ہے تم کو
‏کیا اداسی کے خد و خال بنا پاؤ گے...
‏سر کی دلدل میں دھنسی آنکھ بنا سکتے ہو
‏آنکھ میں پھیلتے پاتال بنا پاؤ گے؟
*سیدہ ھما غضنفر جاوید صاحبہ*
💐💐 *انعام دوم* 💐💐
‏جسے نہ آنے کی قسمیں میں دے کے آیا ہوں
اسی کے قدموں کی آہٹ کا انتظار بھی ہے

*محترمہ جویریہ جودت صاحبہ*

اتنی کشش تو ہو_______نگاہِ شوق میں...! 

اِدھر دل میں خیال آئے اُدھر وہ بے قرار ہو جائے!!
*انصاری فریسہ جبین باجی*

تیری یادوں کا ہی سرمایا لئے بیٹھے ہیں
ہم کبھی بے سر و سامان نہ ہونے پائے
*سید وقار احمد سر*
🍁🍁 *انعام سوم* 🍁🍁
ہر رات اک نام یاد آتا ہے
کبھی صبح کبھی شام یاد آتا ہے
سوچتے ہیں ہم کر لیں دوسری محبت
پر پہلی محبت کا انجام یاد آتا ہے

کون کرتا ہے کسی کو عمر بھر کے لیے یاد
وقت کے ساتھ خیالات بدل جاتے ہیں
*مرزا حامد بیگ صاحب*

اور وہ ، جو دِل نواز تھا! وہ تو چلا گیا
اِک سوگوار درد سے رشتہ ضرُور ہے
آہٹ پہ کان، در پہ نظر، دل میں اضطراب
تصویر بن گئی ہوں تیرے انتظار میں
*محترمہ فھیم خاتون مسرت باجی صاحبہ*

قفس میں رہتے رہتے ہو گئی صیاد سے الفت......
مَیں خود ہی نوچ لیتا ہوں میرے جب پَر نکلتے ہیں

کارِحیات ریشمی دھاگوں  کا  کھیل تھا
الجھےتوپھرسلجھ نہ سکےتارزیست کے
*محترمہ فوزیہ انجم صاحبہ*

🍁 *جج کے پسند کے اشعار* 🍁
پہلے اپنے جلووں کو معتبر کیا ہوتا
پھر میری نگاہوں کا امتحاں لیا ہوتا
*محمد عقیل سر*

شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی
کبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیا
*محترمہ فرحت جبین صاحبہ*

عمر بھر راستہ دیکھیں گی ہماری یہ آنکھیں

ہم یہ دروازے مقفل نہیں  ہونے دیں گے
*محمد اشفاق سر*

شدت کی لُو ہو یا سرد ہوائیں، اِس کو کیا پروا
کانٹوں کے بستر پر بھی محوِ آرام محبت ہے
تُو پگلی! اب کن سوچوں میں گم صم بیٹھی رہتی ہے
بولا ہے ناں اب یہ ساری تیرے نام محبت ہے
*محمد وسیم راجا سر*

وہ تھک گئی تھی بھیڑ میں چلتے ہوئے ظہور
اس  کے بدن پہ ان گنت آنکھوں کا  بوجھ  تھا
*محمد عتیق خلد آباد شریف*

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں
اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

*محترمہ آفرین صاحبہ*انتظار

Monday, August 2, 2021

کارواں


محترم احباب بزم محفل مشاعرہ 
*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

قافلہ بنتا ہے سجاتا ہے اور پھر لٹ جاتا ہے قافلہ بنانے والا ہر ایک کی منت سماجت کرکے اسے سجاتا اور پھر جب قافلے کی رونق بڑھ جاتی ہے تو لٹیروں کی نظر اس پر پڑتی اور قافلہ لوٹ لیا جاتا ہے۔
پہلے زمانے سے ہی ہمیں گروہ میں رہ کر سفر کرنے کا حکم ہوا اور یہ تاکید کی گئی کہ عورتوں نے بغیر محرم کے سفر نہیں کرنا چاہیے مگر افسوس اب تو حکومت نہ یہ فیصلہ لیا ہے کہ عورتیں بغیر محرم کے اکیلے سفر حج کے لیے جا سکتی ہے۔
پہلے زمانے میں امیر کارواں ایک ہوا کرتا ہے اب امیروں تعداد بڑھ جانے کے سبب ہمیں منزل ہی نہیں مل رہی
ہمیں پھر سے ایک بہترین کارواں بنانے کی ضرورت ہے اور عنقریب وہ وقت آجائے گا جب ہم ایک امیر کارواں کے ساتھ رواں دواں ہوں گے وہ دور ہوگا محمد بن عبداللہ یعنی امام مہدی کا ان کی قیادت میں ہمارا قافلہ چلے گا اور حضرت عیسی علیہ السلام اور امام مہدی مل کر دجال کو ختم کرینگے اور مسلمانوں کی حکومت ہوگی۔
ابھی تو ہمارا معاملہ ایسا ہے کہ
*زندگی یوں ہوئی بسر تنہا*
*قافلہ ساتھ اور سفر تنہا*
خیر چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آج کے مقابلے کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔

      *انعام خصوصی* 
نگاہ بلند سخن دلنواز جہاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
*جویریہ جودت صاحبہ*

شریعت پر کبھی بھی آنچ آ جائے نہیں ممکن
علم حق کا لئے جو قافلہ  سالار زندہ ہے
*ایم کے وسیم راجا*

 رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ
*بشری جبین صاحبہ*
درجہ بالا شعر فھیم خاتون مسرت صاحبہ نے بھی ارسال کیا ہے

اک عمر سے فریب سفر کھا رہے ہیں ہم
معلوم ہی نہیں کدھر جارہے ہیں ہم
*حافظ ابراھیــــــــم خان محمودی صاحب*

درد اپنا مجھ سے کہہ میں بھی سراپا درد ہوں
جس کی منزل تھا میں اس کارواں کی گرد ہوں
*خان گوہر نایاب*

میں کارواں کی راہ سمجھتا رہا جسے
صحرا کی ریت پہ وہ ہوا کی لکیر تھی
*عرشیہ عندالواجد صاحبہ*

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا 
مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے
*فھیم خاتون مسرت باجی صاحبہ*

اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواں 
ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں

*مرزا حامد بیگ صاحب*

              *انعام اول*

اندھیری شب کا سفر تھا ہوا تھی صحرا تھا۔۔
دیے کو میں نے بچایا تھا اور دیے نے مجھے۔۔!
*نقوی شادزہرا صاحبہ*
ان کے قدموں سے لپٹ کر مجھے مر جانے دے 
 بےٹھکانہ ہوں ازل سے مجھے گھر جانے دے 

سوئے بطحا لیے جاتی ہے مجھے ہوائے بطحا 
 بوئے  دنیا مجھے گمراہ نہ  کر  جانے  دے
*عبدالستار سر* 


قافلے خود سنبھل سنبھل کے بڑھے
جب کوئی میر کارواں نہ رہا

باقر مہدی
*بشری جبین صاحبہ*

یقیناً رہبر منزل کہیں پر راستا بھولا
وگرنہ قافلے کے قافلے گم ہو نہیں سکتے
*سیدہ ھما غضنفر جاوید صاحبہ*

سفر ہو شاہ کا یا قافلہ فقیروں کا
شجر مزاج سمجھتے ہیں راہگیروں کا

*محمد عقیل صاحب*

نہ کوئی سمت نہ منزل سو قابلہ کیسا
رواں ہے بھیڑ فقط بے قیاس لوگوں کی
*انصاری شکیب الحسن سر*



بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں کارواں کتنے
جلا سکو تو جلاؤ صداقتوں کے چراغ

*محمد اشرف الدین سر*

مسافر کے راستے بدلتے رہے
مقدر میں چلنا تھا چلتے رہے
کوئی پھول سا ہاتھ کاندھے پہ تھا
میرے پاؤں شعلوں پہ چلتے رہے

*سید وقار احمد سر* 
          *انعام دوم*
ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

*محمد عقیل صاحب*

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

*محترمہ نزہت صاحبہ*

‏وہ قافلہ کسی اندھے نگر سے آیا تھا.!
ہر ایک شخص کا تکیہ کلام آنکھیں تھی.!
*سیدہ ھما غضنفر جاوید صاحبہ*

اب نہ کوئی منزل ہے اور نہ رہ گزر کوئی 
جانے قافلہ بھٹکے اب کہاں کہاں یارو
*سید وقار احمد سر*
 
چمن میں رہنے والوں سے تو ہم صحرا نشیں اچھے 
بہار آکے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی

*فریسہ جبین باجی*

اہل خرد صدائے جرس کے ہیں منتظر 
دیوانے منزلوں سے بھی آگئے نکل گئے 
*مرزا حامد بیگ صاحب*

        *انعام سوم*
دیکھنے آؤ روانی میری
کوئی دریا ہے جوانی میری

چند قبریں ہیں مرے پہلو میں
ایک صحرا ہے نشانی میری


*عبدالرزاق حسین صاحب*

حیات لے کے چلو،کائنات لے کے چلو ۔

چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو۔۔
*ڈاکٹر محفوظ اللہ قادری صاحب*

پندار  صحرائی میں ہے جکڑا ہوا
ناقہ موچ ہوایہ قافلہ ذرات کا 

تو اپنی نرم شعاعوں کا قافلہ لےجا
کچھ اور چاٹ لے صحرائے گمراہی کا 
 
صحرائے خرد میں حیران ہیں کل قافلہ
جائے راہرواں منہ موڑ لیتا ہے سورج بھی
*مرجان صاحب*

سفرجب تنہاکرناہوتوپھر سوچانہیں کرتے
کسی کاساتھ نہ بھی ہو قدم روکانہیں کرتے
اگرصحرامیں آئےہوتو ساحرخودہی آئےہو
کبھی ویرانے توچل کے شہر آیا نہیں کرتے
خدا حافظ 
خان محمد یاسر

Sunday, July 25, 2021

روبرو


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

جی ڈھونتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہے ہم تصویر جانا کیے ہوئے
 *محترمہ گوہرنایاب صاحبہ*

محترم معزز احباب بزم محفل مشاعرہ امید ہیکہ آپ تمام خیر وعافیت سے ہوں گےاللہ آپ کو خوش خرم شاد و آباد رکھے کتنا اچھا ہوا کہ آج تصویر میں نے نہیں دیا انصاری شکیب الحسن صاحب کے ذریعے سے انصاری فریسہ جبین باجی صاحبہ نے دیا میں دونوں محترمین کا ممنون ہوں اگر میں آج تصویر دیتا تو کوئی اداسی والی دلجلی تصویر ہوتی اور اتنی خوبصورت تصویر سے آپ تمام محروم ہوجاتے اور ایک خاص بات کہ اتنا اچھا مقابلہ بھی نہیں ہوتا فریسہ باجی میں تصاویر کے انتخاب کا فہم بہت اچھا ہے۔
شکیب بھائی نے پوچھا کہ میں آج دن بھر کہاں تو اس کا جواب یہ شعر ہے
اداسی بھی عدم احساسِ غم کی ایک دولت ہے
بِسا اوقات ویرانے بھی حسیں معلوم ہوتے ہیں
مراسلہ
*محترمہ فریسہ جبین باجی صاحبہ*
خیر بات کرتے ہیں آج کی تصویر کی تو یہ تصویر اس خوش قسمت جوڑے کی ہیں جو دنیا کا غم بھلا کر اپنی لو میں ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے اپنی باتوں میں گم ایک دوجے کی آنکھوں میں گم ہے ان دونوں کے لیے میں کہوں گا کہ 
*جو فقر میں پورے ہیں وہ ہر حال میں خوش ہیں*
*ہر کام میں ہر دام میں ہر حال میں خوش ہیں*
*گر مال دیا یار نے تو مال میں خوش ہیں*
*بے زر جو کیا تو اسی احوال میں خوش ہیں*
*افلاس میں ادبار میں اقبال میں خوش ہیں*
*پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں*
*چہرے پہ ملالت نہ جگر میں اثر غم*
*تھے پہ کہیں چین نہ ابرو میں کہیں خم*
*شکوہ نہ زباں پر نہ کبھی چشم ہوئی کم*
*غم میں بھی وہی عیش الم میں بھی وہی دم*
*ہر بات ہر اوقات ہر افعال میں خوش ہیں*
*پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں*
*گر اس نے دیا غم تو اسی غم میں رہے خوش*
*اور اس نے جو ماتم دیا ماتم میں رہے خوش*
*کھانے کو ملا کر تو اسی کم میں رہے خوش*
*جس طور کہا اس نے اس عالم میں رہے خوش*
*دکھ درد میں آفات میں جنجال میں خوش ہیں*
*پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں*
 ہوتا یہ ہے کہ دو چار دن خوشی کے نکلنے کے بعد آٹا دال کا بھاؤ معلوم ہوتا ہے تو سب اپنا اپنا راستہ ناپنے لگتے ہیں اس ملاقات کو کوستے ہیں جس نے یہ فیصلہ لینے پر مجبور کیا تھا کہ ہم اک دوجے کہ ہوجائے۔
اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو یہ سوچتے کہ اس طرح کی ملاقاتیں روز ہو ہمدم قدم قدم  پر ساتھ ہو مگر ہوتا نہیں جو ملا اس کو مقدر نہیں سمجھتے جو نہ ملا اسے افسانہ بناکر اپنی زندگی میں فساد بپا کردیتے۔
خیر!
تصویر کو دیکھ کر تو میری بھی بے ساختہ آہ نکلی 
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک 
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے 
 *محترم عبدالستار سر*

جسے کم ہی لوگوں نے سنا اور اظہار بھی کر دیا شاید میری طرح اور بھی ہوں گے جو اس لمحے کے منتظر ہوں گے کسی دوسرے کے ساتھ نہیں کم از کم اپنی شریک حیات کے ساتھ ضرور۔
اکثر کیا ہوتا وہ لمحہ انتظار کرتا ہے مگر ہماری آپسی نا اہلی اس لمحہ کو گواں دیتی ہے۔
آج کا مقابلہ بہترین رہا میں نے اس دفعہ ان ہی اشعار کا انتخاب کیا جو اس تصویر کی مناسبت سے تھے
آج  *سید وقار احمد سر* کے تمام اشعار قیامت ڈھا رہے تھے اس لیے انھیں جج کی پسند میں جگہ دی۔
🍁🍁 *جج کی پسند* 🍁🍁

_____________________________

آ بیٹھ میرے پاس شاعری سناؤں تجھ کو
کچھ غم دل کا تڑپنا بھی دکھاؤں تجھ کو
کیسے یقین آئے گا تجھے میری وفا کا ہمدم
کیا اپنے دل کے زخم بھی دکھاؤں تجھ کو
_____________________________

میری بات سن میرے پاس آ
ذرا بیٹھ تو میرے ہم نشیں
بس میں اور تم اور چاندنی
نہیں اور کوئی ہے  در میاں
_____________________________

کبھی آ بیٹھ میرے پاس تھوڑی گفتگو تو کر
 کے جتنا تُو نے سنا ہے اُتنا برا نہیں ہوں میں 
_____________________________
تکلف چھوڑ کر میرے برابر بیٹھ جائے گا 
تصور میں ابھی وہ پاس آ کر بیٹھ جائے گا 
خیال اچھا ہوا تو شعر بن کر آئے گا باہر 
بہت اچھا ہوا تو دل کے اندر بیٹھ جائے
_____________________________

 لاکھ  دیکھوں تُجھے بھرتی نہیں نیت میری 
دل ہے قابو میں مرا اب نہ طبیعت میری 
آ کے پہلو میں مرے بیٹھ میں ہو جاؤں نثار 
ہے تمنا تو یہی ہے یہی حسرت میری
_____________________________

کبھی تو پاس بارش کے بہانے بیٹھ جاؤ
ملیں گے پھر کہاں ایسے ٹھکانے بیٹھ جاؤ
نہیں تاب نظر مجھ کو  جھلس جاؤں گا  جاناں
کہاں سے آگئے بجلی گرانے بیٹھ جاؤ
_____________________________

وہ پاس کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا
میں اس مذاق کو دل سے لگا کے بیٹھ گیا
پھر اس کے بعد کئی لوگ اٹھ کے جانے لگے
میں اٹھ کے جانے کا نسخہ بتا کے بیٹھ گیا
_____________________________

 *سیّدوقار احمد*------------------🍁

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک 
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے 
 *محترم عبدالستار سر*
اے کاش ہماری قسمت میں ایسی بھی کوئی شام آجائے 
اک چاند فلک پر نکلا ہو اک چاند سرعام آجائے
 *محترمہ عرشیہ صاحبہ*


💥💥  *انعام خصوصی* 💥💥

چاندنی رات تیراساتھ یہ دلکش منظر
میں اگربھولناچاہوں تو بھلا بھی نہ سکوں
 *محترمہ فھیم خاتون مسرت باجی صاحبہ*

سانسوں ذرا ٹہرو کہ تسلسل دیدار یار نہ ٹوٹے
ابھی تو جی بھر کر میں نے اسے دیکھا بھی نہیں 

 *محترمہ فرحت جبین باجی*

مریضان محبت کو دیدار یار کافی ہے
ہزاروں طب کے نسخوں سے نگاہ یار بہتر ہے
 *محترمہ ثناء ثروت صاحبہ*

حیرت ذدہ ہـے سنگ تراشوں کی انگلیاں
اک شخص پاس بیٹھا ہے پتھر بنا ہوا
*محترمہ سیدہ سلمی صاحبہ*
میں تو خود پر بھی کفایت سے اسے خرچ کروں۔۔۔۔
وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص۔۔۔
 *محترمہ فریسہ جبین باجی صاحبہ*

🌹🌹 *انعام اول* 🌹🌹

تیری      آنکھوں    سے     گفتگو     کر     کے  
میری      نظروں        نے        بولنا        سیکھا   
 *انصاری شکیب الحسن سر*

تم آگئے ہو توکچھ چاندنی سی باتیں ہوں
زمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے
 *محترمہ فھیم خاتون مسرت باجی صاحبہ*

─
کاش کے تیرے سامنے آتے ہی یہ وقت ٹھہر جائے
تجھے یونہی دیکھتے دیکھتے یہ زندگی گزر جائے

*حافظ ابراھیــــــــم خان محمودی*
اگر تم ہو تو گھبرانے کی کوئی بـــــات تھوڑی ہے
ذرا سی بوندا باندی ہے بہت برســــات تھوڑی ہے
یہ راہِ عشق ہے اِس میں قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں
محبت سوچنے والوں کے بس کی بات تھوڑی ہے

*محترمہ عرشیہ صاحبہ*


🍂❣️🍂❣️ *انعام دوم* ❣️🍂❣️🍂
گفتگو ہم روبرو ان کے نہ کر پائے بہت۔۔
یوں تو آتے تھے سخن کے ہم کو پیرائے بہت۔۔
 *محترمہ نقوی شادزہرا صاحبہ*

رفتہ رفتہ دیدہ تر کو ڈبویا اشک نے 
پانی رستے رستے کشتی میری طوفانی ہوئی
*محترم محمد عقیل سر*

ہے آج رخ ہوا کا موافق تو چل نکل
کل کی کسے خبر ہے کدھر کی ہوا چلے

 *عبدالرازق حسین صاحب*

وہ پھول سے لمحے بھاری ہیں اب یاد کے نازک شانوں پر 
جو پیار سے تم نے سونپے تھے آغاز میں اک دیوانے کو 
*محترمہ ھما غضنفر جاوید صاحبہ*
اس کی باتیں کہ گل و لالہ پہ شبنم برسے
سب کو اپنانے کا اس شوخ کو جادو آئے
اس نے چھو کر مجھے پتھر سے پھر انسان کیا
مدتوں بعد مری آنکھوں میں آنسوآئے
*محترمہ فھیم خاتون مسرت باجی صاحبہ*

☘️🌹☘️ *انعام سوم* ☘️🌹☘️

کشتیاں سب کی کنارے لگ جاتی ہیں۔

ناخدا جس کا نہیں،اس کا خدا ہو تا ہے۔۔

*محترم ڈاکٹر محفوظ اللہ قادری صاحب*

اداس نہ رہا کر تیری مسکان اچھی لگتی ہے 
دیدار تو پھر دیدار ہے تیری یاد بھی اچھی لگتی ہے.
*محترمہ خان گوہر نایاب صاحبہ*

اب نزع کا عالم ہے مجھ پر...!
تم اپنی محبت واپس لو..


جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو..!
بوجھ اتارا کرتے ہیں..!!
*محترمہ جویریہ جودت صاحبہ*



بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں

صحرا میرا چہرہ ہے سمندر تیری آنکھیں

بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن

کھلتی ہیں بہت دل میں اُتَر کر تیری آنکھیں

اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا

بھیگی ہوئی شام کا منظر ، تیری آنکھیں

ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں

پھر اوڑھ نا لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں

یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسن

وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں

*محترم ایم کے وسیم راجا صاحب*
واقعی تمام ترسیلات عمدہ تھیں مگر میرے اتنی ہمت نہیں کہ انھیں شمار کر سکوں ہاں۔
ایک تصویر جینے کا مزہ دیتی ہے اس تصویر زمانے کے غم بھلانے کا سبب ہوتی ہے ایک شاعر نے کہا تھا کہ 
یاد ماضی عذاب ہے یارب 
آپ کو اچھی یادوں کے ساتھ رہ کر اچھے سے زندگی گزاریں یہی اللہ تعالٰی سے دعا ہے آپ کا ہمدم آپ کے ساتھ آپ کے روبرو خوشی خوشی آپ کا ساتھ دے اسی دعا کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں
 خدا حافظ 
آپ کا بھائی آپ کا دوست 
خادم محفل
 *خان محمد یاسر*

Wednesday, June 16, 2021

تیرے ہوتے ہوئے آجاتی تھی ساری دنیا

💍 *انعام خصوصی*💍

موسم کی ادا آج بھی پر کیف ہے لیکن
جو تیرے ساتھ گزارا اس وقت کی حسرت نہیں جاتی
*شیخ عارف صاحب*

🌿🌿🌿 *انعام اول*🌿🌿🌿

سر بلندی مری تنہائی تک آ پہنچی ہے
میں وہاں ہوں جہاں کوئی نہیں میرے سوا
*حافظ ابراھیــــــــم خان محمودی صاحب*
تیرے  ہوتے ہوئے آجاتی تھی ساری دنیا

آج تنہا ہوں تو کوئی  آنے والا نہیں
*محترمہ گوہر نایاب صاحبہ*

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

*فریسہ جبین باجی*

🍃🍃🍃 *انعام دوم* 🍃🍃🍃
لب دریا سہانی شام باہم پیار کی باتیں
نگاہ شوق میں اب تک وہ منظر رقص کرتا ہے
*عبداللہ خان ممبئی*

ہاں آسمان اپنی بلندی سے ہوشیار
اب سر اٹھا رہے ہیں کسی آستاں سے ہم
میں اپنے گھر کو بلندی پہ چڑھ کے کیا دیکھوں
عروج فن مری دہلیز پر اتار مجھے

*نقوی شادزہرا صاحبہ*

شام، پیڑ ، تنہائی ، اُداسی ، خاموش راستے
میں اکیلا کہاں ! سب میرے ساتھی تو ہیں
*بشریٰ جبین صاحبہ*

ہواچلےگی توخوشبو مری بھی پھیلےگی
میں چھوڑآئی ہوں پیڑوں پہ اپنی بات کےرنگ

کون جھانکےگامیری روح کی گہرائ میں
کون دیکھےگامیرےجسم میں ٹوٹا کیا ہے
*فھیم خاتون مسرت باجی صاحبہ*

🌹❤️🍀 *انعام سوم* 🍀❤️🌹
حوصلے تھے کبھی بلندی پر
اب فقط بے بسی بلندی پر

        

سناٹا میرے چاروں طرف ہے بچھا ہوا

بس دل کی دھڑکنوں کو پکڑ کر کھڑا ہوں میں

*عبدالستار سر*

چپ    چاپ    نہ    لے    جائے    سمندر   کو  اٹھا کر
وہ     شخص    جو   ساحل   پہ   کھڑا    سوچ    رہا    ہے 
*انصاری شکیب الحسن سر*

بچھڑتے وقت جو تم سونپ کر گئے تھے مجھے
وہ انتظار مرے چار سُو ابھی تک ہے

*عبدالرازق حسین*

میں تھا اور  تھی ساتھ تیری یاد مسلسل
کہہ دوں کہ تو ہی ساتھ تھا تو یہ عجب نہیں
*فرحت جبین باجی*

🍁🍁🍁 *میری پسندہ شعر*🍁🍁🍁
دشمنوں تم کو خوف کس کا ہے
مار   ڈالو   کہ   میں   اکیلا ہوں

*مرزا حامد بیگ*

کاش کہ میں پلٹ جاؤں، اُسی بچپن کی وادی میں

🦚💐 *انعام خصوصی*💐🦚
خوب نبھے گی ہم دونوں میں میرے جیسا تو بھی ہے 
میں بھی ہوں ٹوٹا ٹوٹا سا بکھرا بکھرا تو بھی ہے

جانے کس نے ڈر بویا ہے ہم دونوں کی راہوں میں
میں بھی ہوں کچھ خوف زدہ سا سہما

. سہما تو بھی ہے

*عبدالستار سر*

🌹💐  *انعام اول* 💐🌹
کچھ نہیں چاہیےتجھ سےاےمیری عمرِرواں
میرابچپن میرےجگنومری گڑیالادے
  
بچپن سے پچپن تک کا سفر، گزر گیا دیکھو کیسے پل بھر میں
عمر رفتہ کو اب کیا آواز دوں، لگتا ھے کہیں دینا نہ پڑ جائے دم،!!!!!!

*فھیم خاتون مسرت صاحبہ*

‏کاش کہ میں پلٹ جاؤں، اُسی بچپن کی وادی میں
جہاں نہ کوئی ضرورت تھی، نہ کوئی ضروری تھا
*وسیم راجا صاحب*

عمر رواں عمر رفتہ پھر یاد رفتگاں نازک ۔۔
عمر کٹ گٸی مگر ہجر کا کٹنا محال ہے ۔۔۔
*نقوی شادزہرا*

🍃🌸 *انعام دوم* 🌸🍃
مجھ کو میرے سارے کھلونے لا کے دو میں کیا جانوں
کیسی جوانی کس کی جوانی میں ہوں اپنے بچپن کا

*حافظ ابراھیــــــــم خان محمودی*

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں
جامے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا
میں بوڑھا ہوتا جاتاہوں جواں ہونے کی خاطر

*خان گوہر نایاب*

میں وہ بستی ہوں کہ یاد رفتگاں کے بھیس میں
دیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے

*محمد اشرف الدین سر*
🍁🍀 *انعام سوم*🍀🍁
نہ بچپن کی امنگیں ہیں نہ ہیں وہ شوخیاں باقی
تعاقب میں تھے جن کے ہم نہیں وہ تتلیاں باقی
*سیدہ ھما*

بچپن میں ہم ہی تھے یا تھا اور کوئی
وحشت سی ہونے لگتی ہے یادوں سے

*نقوی شادزہرا*

نوکا ہی بچوں کا جھولا
نوکا ہی پیری کا عصا تھا
*محمد عقیل سر*
💕💕 *پسندیدہ کلام*💕💕

*ہم سے تکلیف کس کی نہیں دیکھی جاتی۔۔*

*غیر کا دل بھی جو ٹوٹا تو ہمارا ٹوٹا۔۔*
*ڈاکٹر محفوظ اللہ قادری صاحب*